🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. بَابُ اسْتِخْلَافِ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ فِي الْأَمْوَالِ وَالدِّمَاءِ وَغَيْرِهِمَا إِذَا لَمْ تُوجَدْ بَينَةٌ لِلْمُدَّعِى
مالوں اور خونوں جیسے معاملات میں جب مدعی کے پاس گواہ نہ یو تو مدعیٰ علیہ سے قسم لینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6418
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِيَمِينٍ وَشَاهِدٍ، قَالَ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ: سَأَلْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ عَنِ الْيَمِينِ وَالشَّاهِدِ هَلْ يَجُوزُ فِي الطَّلَاقِ وَالْعِتَاقِ، فَقَالَ: لَا، إِنَّمَا هَذَا فِي الشَّرَائِ وَالْبَيْعِ وَأَشْبَاهِهِ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک گواہ اور ایک قسم کے ساتھ فیصلہ کیا۔ زید بن حباب کہتے ہیں: میں نے سیدنا مالک بن انس سے قسم اور گواہ کے متعلق پوچھا کیایہ طلاق اور غلام کی آزادی میں بھی کافی ہے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں،یہ تو صرف خرید و فروخت جیسے معاملات میں ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6418]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1712، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2967 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2967»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 1712
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6419
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ، قَالَ عَمْرٌو: وَإِنَّمَا ذَلِكَ فِي الْأَمْوَالِ
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گواہ کے ساتھ ایک قسم کی روشنی میں فیصلہ کیا، عمرو نے کہا: یہ مالوں کے معاملات کے لیے ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6419]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6929»
وضاحت: فوائد: … مُدّعی اپنے دعوی پر دو گواہ پیش کرے گا، اگر دو گواہ میسر نہ ہوں تو وہ ایک گواہ پیش کر دے،لیکن اس کے ساتھ اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کے لیے ایک قسم اٹھائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور ایک قسم کی روشنی میں فیصلہ کیا، امام شافعی، امام مالک اور امام احمد کا یہی مسلک ہے، البتہ امام ابو حنیفہ کی رائے یہ ہے کہ دو گواہ ہی ضروری ہے، لیکنیہ رائے درست نہیں ہے۔ اگر مُدّعی کے پاس ایک گواہ بھی نہ ہو تو پھر اس کو قسم اٹھانے کا کوئی اختیار نہیں ہو گا اور مُدّعی علیہ اپنے حق میں قسم اٹھا کر بری ہو جائے گا۔

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6929
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں