الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ اسْتِخْلَافِ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ فِي الْأَمْوَالِ وَالدِّمَاءِ وَغَيْرِهِمَا إِذَا لَمْ تُوجَدْ بَينَةٌ لِلْمُدَّعِى
مالوں اور خونوں جیسے معاملات میں جب مدعی کے پاس گواہ نہ یو تو مدعیٰ علیہ سے قسم لینے کا بیان
حدیث نمبر: 6419
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ، قَالَ عَمْرٌو: وَإِنَّمَا ذَلِكَ فِي الْأَمْوَالِ
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گواہ کے ساتھ ایک قسم کی روشنی میں فیصلہ کیا، عمرو نے کہا: یہ مالوں کے معاملات کے لیے ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل القضاء والشهادات/حدیث: 6419]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6929»
وضاحت: فوائد: … مُدّعی اپنے دعوی پر دو گواہ پیش کرے گا، اگر دو گواہ میسر نہ ہوں تو وہ ایک گواہ پیش کر دے،لیکن اس کے ساتھ اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کے لیے ایک قسم اٹھائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور ایک قسم کی روشنی میں فیصلہ کیا، امام شافعی، امام مالک اور امام احمد کا یہی مسلک ہے، البتہ امام ابو حنیفہ کی رائے یہ ہے کہ دو گواہ ہی ضروری ہے، لیکنیہ رائے درست نہیں ہے۔ اگر مُدّعی کے پاس ایک گواہ بھی نہ ہو تو پھر اس کو قسم اٹھانے کا کوئی اختیار نہیں ہو گا اور مُدّعی علیہ اپنے حق میں قسم اٹھا کر بری ہو جائے گا۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6929
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6419 in Urdu