الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ التَّعْلِيظِ وَالْوَعِيدِ الشَّدِيدِ فِي قَتْلِ الْمُؤْمِنِ
مؤمن کے قتل پر سخت وعید اور سختی کا بیان
حدیث نمبر: 6450
عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحَارِثِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَشْهَدَنَّ أَحَدُكُمْ قَتِيلًا لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ قَدْ قُتِلَ ظُلْمًا فَيُصِيبَهُ السُّخْطُ
۔ سیدنا خرشہ بن حارث رضی اللہ عنہ، جو کہ صحابہ میں سے تھے، سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی کسی کے قتل کے وقت حاضر نہ ہو، کیونکہ ہوسکتا ہے اسے ظلماً قتل کیا جا رہا ہو اور اس طرح حاضر ہونے والے کو بھی اللہ تعالی کی ناراضگی پہنچ جائے۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6450]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن لھيعة سييء الحفظ۔ أخرجه البزار: 3337، والطبران في ’’الكبير‘‘: 4181، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17522 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17663»
وضاحت: فوائد: … اس موضوع سے متعلقہ اسلامی ہدایات واضح ہیں، اگر اسلام کے قوانین کے مطابق قتل کیا جا رہا ہو، تو وہاں ٹھہرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، جیسے قاتل اور مرتدّ کو قتل کرنا اور اگر ظلماً قتل کیا جا رہا ہے تو ایسا کرنے سے عملی طور پر اور یہ طاقت نہ ہونے کی صورت میں زبان سے روکا جائے، وگرنہ دل سے برا سمجھا جائے اور جس مقام میںیہ ظلم کیا جا رہا ہے، اس شرّ والی جگہ سے دور رہا جائے۔
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 6451
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْ دِمِهَا لِأَنَّهُ كَانَ أَوَّلَ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نفس کو بھی ظلماً قتل کیا جاتا ہے، اس کے ناحق خون کا حصہ آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے پر بھی ہوتا ہے، کیونکہ وہ پہلا شخص ہے، جس نے سب سے پہلے نا حق قتل کا طریقہ جاری کیا۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6451]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3335، 7321، ومسلم: 1677، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3630 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3630»
وضاحت: فوائد: … سورۂ مائدہ میں ہابیل اور قابیل کا واقعہ بیان کیا گیا ہے، قابیل وہ پہلا شخص ہے، جس نے سب سے پہلے ناحق قتل کیا، چونکہ اس نے اس جرم کا آغاز کیا، اس لیے اس قسم کے ہر مجرم کی وجہ سے قابیل بھی گنہگار ہو تا ہے۔ اس واقعہ سے ہمیںیہ سبق حاصل کرنا چاہیے کہ ہم کسی شرّ والے کام کا سبب نہ بنیں، بلکہ امورِ خیر کو رواج دے کر اپنے لیے صدقہ جاریہ بنائیں۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 3335
حدیث نمبر: 6452
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ قَتَلَهُ نَبِيٌّ أَوْ قَتَلَ نَبِيًّا وَإِمَامُ ضَلَالَةٍ وَمُمَثِّلٌ مِنَ الْمُمَثِّلِينَ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روز قیامت لوگوں میں سے سب سے زیادہ سخت عذاب اس آدمی کو ہوگا، جسے نبی نے قتل کیایا جس نے نبی کو قتل کیا ہو اور ضلالت و گمراہی کا پیشوا اور تصویریں بنانے والا۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6452]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3335، 7321، ومسلم: 1677، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3630 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3868»
وضاحت: فوائد: … انبیائے کرام کا سلسلہ منقطع ہو جانے کی وجہ سے ہم مستقل طور پر پہلے دو جرائم سے محفوظ ہو گئے ہیں، ہاں مسلمان کو چاہیے کہ وہ کسی کی گمراہی کا سبب نہ بنے، اگر خیر و بھلائی والے امور کو نافذ کر سکتا ہے تو ٹھیک، وگرنہ خاموشی اور لوگوں کے امور سے کنارہ کشی اختیار کرے، اس طرح تصویریں بنانے سے بھی باز رہے جو کہ اس دور کا سب سے بڑا فتنہ ہے، ہمارے بچوں کی تعلیم کے آغاز میں ہییہ سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور آگے چل کر ایک مستقل شعبہ کی شکل اختیار کر لیتا ہے، فَاِلَی اللّٰہِ الْمُشْکَیٰ (بس اللہ تعالی کی طرف ہیشکوہ ہے)، ہم اللہ تعالی سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 3335