الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ وَعِيدِ مَنْ حَمَلَ السَلاحَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ
مسلمانوں پر ہتھیار اٹھانے والے کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 6453
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا) )
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمارے خلاف ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6453]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6874، ومسلم: 98، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4467 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4467»
وضاحت: فوائد: … قتل کی سنگینی کا تقاضا یہی ہے کہ کسی مسلمان پر ہتھیار نہ اٹھایا جائے، وہ از راہِ مذاق ہو یا کسی دوسرے ناپاک ارادے کی وجہ سے، اس کی ایک وجہ درج ذیل حدیث میں بیان کی گئی ہے:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَا یُشِیْرُ أَحَدُکُمْ إِلَی أَخِیہِ بِالسِّلَاحِ، فَإِنَّہُ لَا یَدْرِی أَحَدُکُمْ لَعَلَّ الشَّیْطَانَیَنْزِعُ فِییَدِہِ، فَیَقَعُ فِی حُفْرَۃٍ مِنْ نَارٍ۔)) … ”تم میں سے کوئی آدمی اپنے بھائی کی طرف اسلحہ کے ساتھ اشارہ نہ کرے، کیونکہ وہ اس بات کو تو نہیں جانتا ہے کہ ممکن ہے کہ شیطان اس کے ہاتھ سے کھینچ کر (اس کے بھائی کو مار دے) اور اس طرح وہ جہنم کے گڑھے میں جا گرے۔“ (صحیح بخاری: ۷۰۷۲، صحیح مسلم: ۲۶۱۷)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَا یُشِیْرُ أَحَدُکُمْ إِلَی أَخِیہِ بِالسِّلَاحِ، فَإِنَّہُ لَا یَدْرِی أَحَدُکُمْ لَعَلَّ الشَّیْطَانَیَنْزِعُ فِییَدِہِ، فَیَقَعُ فِی حُفْرَۃٍ مِنْ نَارٍ۔)) … ”تم میں سے کوئی آدمی اپنے بھائی کی طرف اسلحہ کے ساتھ اشارہ نہ کرے، کیونکہ وہ اس بات کو تو نہیں جانتا ہے کہ ممکن ہے کہ شیطان اس کے ہاتھ سے کھینچ کر (اس کے بھائی کو مار دے) اور اس طرح وہ جہنم کے گڑھے میں جا گرے۔“ (صحیح بخاری: ۷۰۷۲، صحیح مسلم: ۲۶۱۷)
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6874
حدیث نمبر: 6454
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6454]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 101، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8359 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8341»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 101
حدیث نمبر: 6455
عَنْ أَيَّاسِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6455]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 99، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16500 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16614»
وضاحت: فوائد: … اس روایت میں ”سَلّ“ کے الفاظ ہیں، جس کے معانی سونتنے کے ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 99
حدیث نمبر: 6456
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لِجَهَنَّمَ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ، بَابٌ مِنْهَا لِمَنْ سَلَّ سَيْفَهُ عَلَى أُمَّتِي) ) أَوْ قَالَ: ( (أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) )
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دوزخ کے سات دروازے ہیں، ان میں سے ایک دروازہ اس کے لیے ہے جس نے میری امت پر تلوار سونتی۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6456]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، جنيد مجھول الحال، وذكر ابو حاتم ان روايته عن ابن عمر مرسلة۔ أخرجه الترمذي: 2123، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5689 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5689»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 6457
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُمَيْرَةَ قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَإِذَا نَحْنُ بِرَأْسٍ مَنْصُوبٍ عَلَى خَشَبَةٍ، قَالَ: فَقَالَ: شَقِيَ قَاتِلُ هَذَا، قَالَ: قُلْتُ: أَنْتَ تَقُولُ هَذَا، يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ فَشَدَّ يَدَهُ مِنِّي، وَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِذَا مَشَى الرَّجُلُ مِنْ أُمَّتِي إِلَى الرَّجُلِ لِيَقْتُلَهُ فَلْيَقُلْ هَكَذَا، فَالْمَقْتُولُ فِي الْجَنَّةِ وَالْقَاتِلُ فِي النَّارِ) )
۔ عبد الرحمن بن سمیرہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ چل رہا تھا، اچانک ہم نے ایک سر دیکھا، جس کو ایک لکڑی پر لٹکایا گیا تھا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اس کا قاتل بد بخت ہوا، میں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! کیا تم یہ کہہ رہے ہو؟ انھوں نے اپنا ہاتھ مجھ سے چھڑاتے ہوئے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت میں سے جب کوئی آدمی دوسرے کو قتل کرنے چلتا ہے تو قتل ہونے والا (آدم علیہ السلام کے بیٹے کی طرح) اس طرح کہے (اور ہاتھ نہ بڑھائے)، کیونکہ وہ مقتول جنت میں ہوگا اور قاتل دوزخ میں۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6457]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الرحمن بن سميرة لم يرو عنه غير عون بن ابي جحيفة، ولم يؤثر توثيقه عن احد غير ابن حبان۔ أخرجه ابوداود: 4260، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5708 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5708»
وضاحت: فوائد: … ممکن ہے ہابیل کے طرز عمل کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہو۔ اس نے کہا تھا: اگر تو اپنا ہاتھ میری طرف اس لیے پھیلائے گا کہ تو مجھے قتل کرے تو میں کبھی بھی اپنا ہاتھ تیری طرف پھیلانے والا نہیں تاکہ میں تجھے قتل کروں۔ (مائدہ: ۲۸) (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 6458
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَأَى رَأْسًا فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَا يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ إِذَا جَاءَهُ مَنْ يُرِيدُ قَتْلَهُ أَنْ يَكُونَ مِثْلَ ابْنِ آدَمَ، الْقَاتِلُ فِي النَّارِ وَالْمَقْتُولُ فِي الْجَنَّةِ) )
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک سر دیکھا اورکہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی تم میں سے کسی کو قتل کرنے کا ارادہ کر لے تو کون سی چیز اس کے لیے اس سے مانع ہو گی کہ وہ آدم کے بیٹے کی طرح ہو جائے، کیونکہ قاتل دوزخ میں ہو گا اورمقتول جنت میں۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6458]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5754»
وضاحت: فوائد: … حدیث کا آخری جملہ ”مقتول جنت میں ہو گا اور قاتل دوزخ میں“ شواہد کی بنا پر صحیح ہے۔
ایسی احادیث کا تعلق فتنوں کے زمانے سے ہے، جن میں ظلم و ستم سہہ جانے میں عافیت ہو گی اور انتقامی کاروائی کرنے سے بڑا فساد پھیل جائے گا۔
ہماری شریعت کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان کو حکیم، دانا اور عاقبت اندیش ہونا چاہیے اور ہر اقدام سے پہلے اس کے انجام پر بار بار غور کرنا چاہیے، غیرت صرف اس چیز کا نام نہیں ہے کہ ایک وقت میں غیظ و غضب کے تمام تقاضے پورے کر دیئے جائیں اور پھر نسلیں اس کا انجام بد بھگتتی رہیں۔ یہ اسلامی تعلیمات ہی ہیں کہ مال و جان کے تحفظ کے لیے لڑنا درست ہے اور ایسے میں کام آ جانے والا شہید ہے، لیکن پر فتن دور میں صبر کر لینا بھی اسلامی احکام کا تقاضا ہی ہے، کئی افراد کو دیکھا گیا ہے کہ انھوں نے ایک گالی اور طعن پر صبر نہ کر سکنے کی وجہ سے خاندانوں کو اجاڑ دیا اور اپنی عزتوں کو اپنے ہاتھوں لٹا دیا۔
ایسی احادیث کا تعلق فتنوں کے زمانے سے ہے، جن میں ظلم و ستم سہہ جانے میں عافیت ہو گی اور انتقامی کاروائی کرنے سے بڑا فساد پھیل جائے گا۔
ہماری شریعت کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان کو حکیم، دانا اور عاقبت اندیش ہونا چاہیے اور ہر اقدام سے پہلے اس کے انجام پر بار بار غور کرنا چاہیے، غیرت صرف اس چیز کا نام نہیں ہے کہ ایک وقت میں غیظ و غضب کے تمام تقاضے پورے کر دیئے جائیں اور پھر نسلیں اس کا انجام بد بھگتتی رہیں۔ یہ اسلامی تعلیمات ہی ہیں کہ مال و جان کے تحفظ کے لیے لڑنا درست ہے اور ایسے میں کام آ جانے والا شہید ہے، لیکن پر فتن دور میں صبر کر لینا بھی اسلامی احکام کا تقاضا ہی ہے، کئی افراد کو دیکھا گیا ہے کہ انھوں نے ایک گالی اور طعن پر صبر نہ کر سکنے کی وجہ سے خاندانوں کو اجاڑ دیا اور اپنی عزتوں کو اپنے ہاتھوں لٹا دیا۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5754
حدیث نمبر: 6459
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (الْمَلَائِكَةُ تَلْعَنُ أَحَدَكُمْ إِذَا أَشَارَ بِحَدِيدَةٍ وَإِنْ كَانَ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی لوہے کے ساتھ دوسرے کی طرف اشارہ کرتا ہے تو فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں، اگرچہ وہ اس کا حقیقی بھائی ہی کیوں نہ ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6459]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم:، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10565»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم:
حدیث نمبر: 6460
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ قَالَ: انْطَلَقَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى لِيُصَلِّيَ فِيهِ فَأَتْبَعَهُ نَاسٌ فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكُمْ؟ قَالُوا: صُحْبَتُكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، أَحْبَبْنَا أَنْ نَسِيرَ مَعَكَ وَنُسَلِّمَ عَلَيْكَ، قَالَ: انْزِلُوا فَصَلُّوا، فَنَزَلُوا فَصَلَّى وَصَلَّوْا مَعَهُ فَقَالَ حِينَ سَلَّمَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَيْسَ عَبْدٌ يَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا لَمْ يَتَنَدَّ بِدَمٍ حَرَامٍ إِلَّا دَخَلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ) )
۔ عبد الرحمن بن عائذ، جوکہ اہل شام میں سے تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کرنے کے لئے تشریف لے گئے، کچھ اور لوگ ان کے پیچھے ہو لیے،انھوں نے کہا: تم کیوں آئے ہو؟ لوگوں نے کہا: ہمیں لانے والی چیز تمہاری اللہ کے رسول کی صحبت ہے، ہم چاہتے ہیں کہ تمہارے ساتھ چلیں اور تم پر سلام کریں، انھوں نے کہا: اترو اور نماز ادا کرو، لوگ اتر پڑے اور انھوں نے نماز پڑھائی اور لوگوں نے ان کے ساتھ پڑھی، پھر سلام پھیرنے کے بعد سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالی کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانے والا جو آدمی اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ کسی حرام خون سے ملوث نہیں ہو گا تو وہ جنت کے جس دروازے سے چاہے گا، داخل ہو جائے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6460]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه مختصرا دون ذكر القصة ابن ماجه: 2618، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17339 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17472»
وضاحت: فوائد: … یہ مسلمان کے خون کی حفاظت کا اجر و ثواب ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه مختصرا دون ذكر القصة ابن ماجه: 2618