الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. أَبْوَابُ مَا يَجُوزُ قَتْلُهُ مِنَ الْحَيَوَانِ وَمَا لَا يَجُوزُ¤بَابُ الأمْرِ بِقَتْلِ الْفَوَاسِقِ مِنَ الْحَيَوَان
اس چیز کے ابواب کہ کون سے حیوان قتل کرنا جائز ہیں اور کون سے ناجائز فاسق حیوانات کو قتل کرنے کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 6491
عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ الْجُشَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَا ابْنُ مَسْعُودٍ يَخْطُبُ ذَاتَ يَوْمٍ فَإِذَا هُوَ بِحَيَّةٍ تَمْشِي عَلَى الْجِدَارِ فَقَطَعَ خُطْبَتَهُ ثُمَّ ضَرَبَهَا بِقَضِيبِهِ أَوْ بِقَصَبَةٍ قَالَ يُونُسُ بِقَضِيبِهِ حَتَّى قَتَلَهَا ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ قَتَلَ حَيَّةً فَكَأَنَّمَا قَتَلَ رَجُلًا مُشْرِكًا قَدْ حَلَّ دَمُهُ
۔ ابو الاحوص جشمی کہتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ خطبہ دے رہے تھے، اچانک انہوں نے دیکھا کہ ایک سانپ دیوار پر چل رہا ہے، انھوں نے اپنے خطاب کو روک دیا اور اپنی چھڑی کے ساتھ اس کو مارنا شروع کردیا،یہاں تک کہ اس کو قتل کر دیا اور پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جس نے سانپ کو مارا، گویا کہ اس نے اس مشرک کو قتل کر دیا، جس کا خون بہانا جائز ہو چکا تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6491]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو الاعين العبدي ضعفه يحيي بن معين، وقال ابو حاتم: مجھول، وقال ابن حبان: لا يجوز الاحتجاج به، وورد ھذا الحديث موقوفا واسناده صحيح۔ أخرجه الطيالسي: 315، وابويعلي: 5320، وابن ابي شيبة: 5/ 405، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3996 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3996»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 6492
عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَ الْحَدِيثَ قَالَ كَانَ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ وَيَقُولُ مَنْ تَرَكَهُنَّ خَشْيَةَ أَوْ مَخَافَةَ تَأْثِيرٍ فَلَيْسَ مِنَّا قَالَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ الْحَيَّاتِ مَسِيخُ الْجِنِّ كَمَا مُسِخَتِ الْقِرَدَةُ مِنْ إِسْرَائِيلَ
۔ عکرمہ کہتے ہیں: میرایہی خیالیہ کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مرفوعاً بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سانپوں کو قتل کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: جس نے ان کو ان کی انتقامی کاروائی سے ڈرتے ہوئے چھوڑا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ پھر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: بیشک سانپ، جنوں کی مسخ شدہ شکلیں ہیں، جیسا کہ بنواسرائیل کو بندروں کی شکلوں میں مسخ کیا گیا تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6492]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابوداود: 5250، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3254 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3254»
الحكم على الحديث:
أخرجه ابوداود: 5250
حدیث نمبر: 6493
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْحَيَّاتُ مَسِيخُ الْجِنِّ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بعض سانپ جنوں سے مسخ شدہ ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6493]
تخریج الحدیث: «صحيح موقوفا۔ أخرجه البزار: 1232، وابن حبان: 5640، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3255 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3255»
وضاحت: فوائد: … آپ کو علم ہونا چاہیے کہ اس حدیث کا یہ مفہوم نہیں کہ موجودہ سانپ جنوں کی مسخ شدہ شکلیں ہیں۔ اس کا مفہوم تو یہ ہے کہ بعض جنوں کو سانپوں کی شکل میں مسخ کیا گیا تھا، جیسا کہ یہودیوں کو بندروں اور خنزیروں کی شکلوں میں مسخ کیا گیا تھا، لیکن ایسی حالت میں ان کی نسل نہیں ہوئی تھی، جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میںیہ بات ہونے لگی کہ بندر اور خنزیر کس کی مسخ شدہ شکلیں ہیں۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اللّٰہَ لَمْ یَمْسَخْ شَیْئًا فَیَدَعَ لَہٗنَسْلًااَوْعَاقِبَۃً، وَقَدْ کَانَتِ الْقِرَدَۃُ وَالْخَنَازِیْرُ قَبْلَ ذَالِکَ۔)) (صحیح مسلم) … ”جب اللہ تعالی کسی مخلوق کو (دوسری مخلوق کی شکل میں) مسخ کرتے ہیں تو اس کی آگے نسل اور اولاد نہیں ہوتی (یعنی وہ اسی مسخ شدہ شکل میں ہلاک ہو جاتی ہے) اور بندر اور خنزیر (جن کے بارے میں تم باتیں کر رہے ہو، یہ تو مسخ شدہ قوموں سے) پہلے بھی تھے۔“
الحكم على الحديث:
صحيح موقوفا۔ أخرجه البزار: 1232