🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. باب النهي عَنْ قَبل حَيَّاتِ البيوتِ إِلَّا بَعْدَ تَحْذِيرِهَا إلا الْأَبْتَر وَذَا الطميتينِ فَإِنَّهُمَا يُقتلان
گھریلو سانپوں کو مارنے کی ممانعت کا بیان، الا یہ کہ پہلے ان کو متنبہ کیا جائے، مگر چھوٹی دم والا موذی سانپ اور وہ سانپ جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں، ان دونوں کو ہر صورت میں قتل کیا جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6494
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ قَتْلِ حَيَّاتِ الْبُيُوتِ إِلَّا الْأَبْتَرَ وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَخْتَطِفَانِ وَفِي لَفْظٍ يَطْمِسَانِ الْأَبْصَارَ وَيَطْرَحَانِ الْحَمْلَ مِنْ بُطُونِ النِّسَاءِ وَمَنْ تَرَكَهُمَا فَلَيْسَ مِنَّا
۔ سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھریلو سانپوں کو مارنے سے منع کیا ہے، ماسوائے ان دو سانپوں کے، چھوٹی دم والا موذی سانپ اور جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں، کیونکہ یہ نظر کا نور اچک لیتے ہیں اور عورتوں کے پیٹ سے حمل گرا کر دیتے ہیں، جوان دونوں کو چھوڑے گا، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6494]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3308، ومسلم: 2232، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24010 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24511»
وضاحت: فوائد: … ممکن ہے کہ ان سانپوںکی نظر میں زہریلا مواد ہو اور اس چیز کا بھی احتمال ہے کہ ان کے ڈسنے سے نظر ختم ہو جاتی ہو اور حاملہ عورتوںکے حمل گر جاتے ہیں، ایک معنییہ بھی کیا گیا ہے کہ جب حاملہ عورت ان کی طرف دیکھتی ہے اور ڈرتی ہے تو اس کا حمل گر جاتا ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3308
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6495
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ عَوَامِرِ الْبُيُوتِ إِلَّا مَنْ كَانَ مِنْ ذَوِي الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يَكْمِهَانِ الْأَبْصَارَ وَتُخْدَجُ مِنْهُنَّ النِّسَاءُ
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو مارنے سے منع کیا ہے،ما سوائے دو سانپوں کے، ایک جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں اور دوسرا چھوٹی دم والا موذی سانپ، یہ دونوں نظر کو ختم کر دیتے ہیں اور ان کی وجہ سے حاملہ عورتوں کے حمل گر جاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6495]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 7726، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22262 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22617»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 7726
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6496
عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يُسْقِطَانِ الْحَبَلَ وَيُطْمِسَانِ الْبَصَرَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَرَآنِي أَبُو لُبَابَةَ أَوْ زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ وَأَنَا أُطَارِدُ حَيَّةً لِأَقْتُلَهَا فَنَهَانِي فَقُلْتُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ بِقَتْلِهِنَّ فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ نَهَى بَعْدَ ذَلِكَ عَنْ قَتْلِ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَهِيَ الْعَوَامِرُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سانپوں کو قتل کرو اور خاص طور پر پشت پر دو دھاریوں والے کو اور چھوٹی دم والے موذی سانپ کو، کیونکہ یہ دونوں حمل گرادیتے ہیں اور نظر مٹا دیتے ہیں۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: سیدنا ابو لبابہ نے یا سیدنا زید بن خطاب رضی اللہ عنہما نے مجھے دیکھا کہ میں ایک سانپ کومارنے کے لئے اس کا پیچھا کر رہا تھا تو اس نے مجھے ایسا کرنے سے منع کر دیا، میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو مارنے کا حکم دیا ہے، لیکن انہوں نے کہا کہ بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھریلو سانپوں کو قتل کرنے سے روک دیا تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6496]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3297، 3298، ومسلم: 2233، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15748 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15840»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3297
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6497
عَنْ نَافِعٍ قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ كُلِّهِنَّ فَاسْتَأْذَنَهُ أَبُو لُبَابَةَ أَنْ يَدْخُلَ مِنْ خَوْخَةٍ لَهُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَرَآهُمْ يَقْتُلُونَ حَيَّةً فَقَالَ لَهُمْ أَبُو لُبَابَةَ أَمَا بَلَغَكُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ قَتْلِ أُولَاتِ الْبُيُوتِ وَالدُّورِ وَأَمَرَ بِقَتْلِ ذَوِي الطُّفْيَتَيْنِ
۔ امام نافع روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما تمام قسم کے سانپوں کو مارنے کا حکم دیا کرتے تھے، ایک دن سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے ان سے ان کی کھڑکی سے مسجد میں آنے کی اجازت طلب کی اور ان کو دیکھا کہ وہ ایک سانپ قتل کررہے تھے، پس سیدنا ابو لبابہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تمہیں یہ بات نہیں پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھریلو سانپوں کو مارنے سے منع کیا اور اس سانپ کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے، جس کی پشت پر دو دھاریاں ہوں۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6497]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15843»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15843
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6498
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ كُلِّهِنَّ لَا يَدَعُ مِنْهُنَّ شَيْئًا حَتَّى حَدَّثَهُ أَبُو لُبَابَةَ الْبَدْرِيُّ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ قَتْلِ جِنَّانِ الْبُيُوتِ
۔ (دوسری سند) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ہر قسم کے سانپ مارنے کا حکم دیا کرتے تھے اور کسی کو نہیں چھوڑتے تھے، یہاں تک کہ سیدنا ابو لبابہ بدری رضی اللہ عنہ نے ان کو بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھریلو سانپوں کو مارنے سے منع کر دیا تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6498]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15632»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15632
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6499
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَتَحَ خَوْخَةً لَهُ وَعِنْدَهُ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَخَرَجَتْ عَلَيْهِمْ حَيَّةٌ فَأَمَرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بِقَتْلِهَا فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَنْ يُؤْذِنَهُنَّ قَبْلَ أَنْ يَقْتُلَهُنَّ
۔ سیدنا زید بن اسلم کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی ایک کھڑکی کھولی، ان کے پاس سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، اچانک ایک سانپ نکلا، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے مارنے کا حکم دیا، لیکن سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم یہ نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ ان کو قتل کرنے سے پہلے اطلاع دی جائے۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6499]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن في الشواھد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11090 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11106»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن في الشواھد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6500
عَنْ أَبِي السَّائِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَبَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَهُ إِذْ سَمِعْتُ تَحْتَ سَرِيرِهِ تَحْرِيكَ شَيْءٍ فَنَظَرْتُ فَإِذَا حَيَّةٌ فَقُمْتُ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ مَا لَكَ قُلْتُ حَيَّةٌ هَاهُنَا فَقَالَ فَتُرِيدُ مَاذَا قُلْتُ أُرِيدُ قَتْلَهَا فَأَشَارَ لِي إِلَى بَيْتٍ فِي دَارِهِ تِلْقَاءَ بَيْتِهِ فَقَالَ إِنَّ ابْنَ عَمٍّ لِي كَانَ فِي هَذَا الْبَيْتِ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْأَحْزَابِ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِهِ وَكَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِعُرْسٍ فَأَذِنَ لَهُ وَأَمَرَهُ أَنْ يَتَأَهَّبَ بِسِلَاحِهِ مَعَهُ فَأَتَى دَارَهُ فَوَجَدَ امْرَأَتَهُ قَائِمَةً عَلَى بَابِ الْبَيْتِ فَأَشَارَ إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ فَقَالَتْ لَا تَعْجَلْ حَتَّى تَنْظُرَ مَا أَخْرَجَنِي فَدَخَلَ الْبَيْتَ فَإِذَا حَيَّةٌ مُنْكَرَةٌ فَطَعَنَهَا بِالرُّمْحِ ثُمَّ خَرَجَ بِهَا فِي الرُّمْحِ تَرْتَكِضُ ثُمَّ قَالَ لَا أَدْرِي أَيُّهُمَا كَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا الرَّجُلُ أَوِ الْحَيَّةُ فَأَتَى قَوْمُهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَرُدَّ صَاحِبَنَا قَالَ اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِكُمْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ أَسْلَمُوا فَإِذَا رَأَيْتُمْ أَحَدًا مِنْهُمْ فَحَذِّرُوهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ إِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدُ أَنْ تَقْتُلُوهُ فَاقْتُلُوهُ بَعْدَ الثَّالِثَةِ
۔ ابو سائب کہتے ہیں: میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ میں نے ان کی چارپائی کے نیچے کسی چیز کی حرکت محسوس کی،میں نے دیکھا کہ ایک سانپ تھا، پس میں کھڑا ہو گیا، سیدناابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا بات ہے؟ میں نے کہا کہ یہاں سانپ ہے، انھوں نے کہا:کیا ارادہ ہے؟میں نے کہا: اس کو مار دینے کا۔ انہوں نے اپنے گھر کے سامنے ایک گھر کی طرف اشارہ کیا اور کہا: میرا ایک بھتیجا اس گھر میں رہائش پذیر تھا، جب وہ غزوئہ احزاب سے واپس آیا تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے گھر آنے کی اجازت طلب کی، اس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اجازت دے دی اور یہ حکم دیا کہ مسلح ہو کر جانا، پس جب وہ اپنے گھر آیا تو دیکھا کہ اس کی بیوی دروازے پر کھڑی ہے، اس نے غیرت کے مارے نیزہ اس کی طرف سیدھا کیا، لیکن اتنے میں اس نے کہا: جلد بازی میں نہ پڑ، پہلے وہ چیز دیکھ جس نے مجھے نکال دیا،جب وہ گھر کے اندر داخل ہوا تو اس نے دیکھا تو ایک مکروہ قسم کا سانپ تھا، اس نوجوان نے اس کو نیزہ مارا اور نیزے کے ساتھ اس کو باہر نکالنا چاہا، وہ سانپ تڑپ رہا تھا، میں نہیں جانتا کہ بندہ پہلے مرا ہو گا یا سانپ۔ پھر اس کی قوم کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کی: اللہ تعالی سے دعا کیجئے کہ وہ ہمارا ساتھی واپس لوٹا دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا: اپنے ساتھی کے لئے مغفرت طلب کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنوں میں سے کچھ افراد اسلام لا چکے ہیں، جب تم انہیں دیکھو تو انہیں تین مرتبہ یعنی تین دن تک ڈراؤ آگاہ کرو۔ اگر پھر بھی نظر آئیں تو تین دن کے بعد اگر انہیں مارانا چاہو تو مار سکتے ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6500]
تخریج الحدیث: «أخرجه بنحوه مسلم: 2236، وابوداود!: 5257، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11369 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11389»
وضاحت: فوائد: … یہ سانپ دراصل جِن تھا۔
مطلبیہ ہے بہت جلد سانپ مرگیا اور وہ نوجوان بھی فوت ہوگیا۔ ان دونوں کے بہت جلد مرنے کی صراحت صحیح مسلم میں ہے۔ زیر مطالعہ حدیث سے بھییہی بات سمجھ آرہی ہے۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
أخرجه بنحوه مسلم: 2236
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6501
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ صَيْفِيٍّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: وَجَدَ رَجُلٌ فِي مَنْزِلِهِ حَيَّةً فَأَخَذَ رُمْحَهُ فَشَكَّهَا فِيهِ فَلَمْ تَمُتِ الْحَيَّةُ حَتَّى مَاتَ الرَّجُلُ، فَأُخْبِرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (إِنَّ مَعَكُمْ عَوَامِرَ فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهُمْ شَيْئًا فَحَرِّجُوا عَلَيْهِ ثَلَاثًا، فَإِنْ رَأَيْتُمُوهُ بَعْدَ ذَلِكَ فَاقْتُلُوهُ) )
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے اپنے گھر میں سانپ دیکھا اور اس نے نیزہ لے کر اس میں پیوست کر دیا، تو سانپ نہ مرا، حتیٰ کہ وہ بندہ فوت ہو گیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس واقعہ کی خبر دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ساتھ گھروں میں جن بھی آباد ہیں، اس لیے جب تم ان میں سے کوئی چیز دیکھو تو تین دن تک ان پر تنگی پیدا کرو، اگر تم تین دن کے بعد بھی ان کو دیکھو توپھر انہیں قتل کر دو۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6501]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد منقطع، وانظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11233»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث ِ مبارکہ میں گھریلوں سانپوںکو قتل سے منع کیا گیا ہے، صرف دو قسم کے سانپوںکو مستثنی کیا گیا،یعنی ان کو ہر صورت میں قتل کر دیا جائے۔
صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((فَإِذَا رَأَیْتُمْ مِنْہُمْ شَیْئًا فَآذِنُوہُ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ فَإِنْ بَدَا لَکُمْ بَعْدَ ذَلِکَ فَاقْتُلُوہُ فَإِنَّمَا ہُوَ شَیْطَانٌ۔)) … ”جب تم ان گھریلو سانپوں میں سے کوئی دیکھو تو تین دنوں تک اس کو آگاہ کرو، پس اگر وہ اس مدت کے بعد بھی نظر آ جائے تو اس کو قتل کر دو، کیونکہ وہ شیطان ہے۔“
صحیح مسلم کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِنَّ لِہَذِہِ الْبُیُوتِ عَوَامِرَ فَإِذَا رَأَیْتُمْ شَیْئًا مِنْہَا فَحَرِّجُوا عَلَیْہَا ثَلَاثًا فَإِنْ ذَہَبَ وَإِلَّا فَاقْتُلُوہُ فَإِنَّہُ کَافِرٌ۔)) … ”بیشک ان گھروں میں رہنے والے جن بھیہوتے ہیں، لہذا جب تم ان میں سے کسی کو دیکھو تو تین (دنوں) تک ان پر تنگی کرو، اگر وہ چلا جائے تو ٹھیک، وگرنہ اس کو قتل کر دو، کیونکہ وہ کافر ہے۔“
گھروں میںرہنے والے سانپ عموماً گھر والوں کو نقصان نہیں پہنچاتے، بچوں تک کو نہیں کاٹتے، ان کے بارے میں قتل نہ کرنے کا حکم اس بنا پر ہے کہ شایدیہ جن کی کوئی قسم ہوں اور جنوں کو مارنا جائز نہیں، نیز قتل کی وجہ ایذا ہے، جب وہ ہمیں کچھ نہیں کہتے تو ہم انہیں کیوں کچھ کہیں، البتہ آبادی سے باہر رہنے والے سانپ موذی ہوتے ہیں، لہذا انہیں فوراً مار دینا چاہیے۔
تنگی کرنے سے اور آگاہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس کو کہا جائے کہ تیرے لیے ہمارے ذمہ تنگی ہے، اگر تو نہ گیایا
واپس آ گیا تو ہم تیرا پیچھا کر کے یا تجھے دھتکار کر یا تجھے قتل کر کے تجھ پر تنگی کر دیں گے، مزید اس قسم کا انداز اختیار کر کے اس کو آگاہ کیا جا سکتاہے۔
اگر ہم اپنے معاشرے کے افراد کی طبع اور جلد بازی کو دیکھیں تو ان احادیث ِ مبارکہ پر عمل کرناخاصا مشکل نظر آتا ہے، کیونکہ آجکل اگر کسی گھر میں سانپ نظر آ جائے تو گھر کے سارے افراد اس وقت تک بے سکون رہیں گے اور اس گھر میں چین سے نہ بیٹھیں گے، نہ سوئیں گے، جب تک اس سانپ کو قتل نہیں کر دیں گے۔ بہرحال اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات پر کامل ایمان ہو تو ایسے احکام پر عمل کرنا آسان ہو جاتا ہے، اصل محافظ تو اللہ تعالی ہی ہے، دیکھیں حدیث نمبر (۶۵۰۰) کے مطابق جس نوجوان نے سانپ کو سانپ سمجھ کر مارنا چاہا، وہ خود بھی مر گیا، کیونکہ وہ سانپ دراصل جن تھا۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں