🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. بَابُ الرُّحْصَةِ فِي عَدْمٍ قَتْلِ الْكِلابِ إِلَّا الْأَسْوَدَ البهيم
کالے سیاہ کتے کے علاوہ باقی کتوں کو قتل نہ کرنے کی رخصت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6515
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ حَتَّى إِنَّ الْمَرْأَةَ تَقْدَمُ مِنَ الْبَادِيَةِ بِكَلْبِهَا فَنَقْتُلُهُ ثُمَّ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِهَا وَقَالَ عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ الْبَهِيمِ ذِي النُّقْطَتَيْنِ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں کتے مارنے کا حکم دیا اور (پھر ہم نے کتوں کا قتل کیا) یہاں تک کہ ہم دیہات سے آنے والی عورت کے کتے بھی قتل کر دیتے، لیکن بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتوں کو قتل کرنے سے منع کر دیا اور فرمایا: آنکھوں پر سفید رنگ کے دو نقطوں والے سیاہ رنگ کے کتے کو مار دو، کیونکہ وہ شیطان ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6515]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1572، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14575 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14629»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1572
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6516
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنَّ الْكِلَابَ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ لَأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا فَاقْتُلُوا مِنْهَا كُلَّ أَسْوَدَ بَهِيمٍ
۔ سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کتے بھی مختلف امتوں میں سے ایک امت نہ ہوتے تو میں ان کو مکمل طور پر قتل کرنے کا حکم دے دیتا، اب تم ان میں سے ہر سیاہ کالے کو قتل کر دیا کرو۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6516]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابوداود: 2845، والترمذي: 1486، والنسائي: 7/185، وابن ماجه: 3205، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20547 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20821»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات میں سے ہر ایک کو پیدا کرنے میں کوئی نہ کوئی حکمت اور مصلحت رکھی ہوتی ہے، اس لئے اس کی مخلوق میں سے ایک قوم کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا مناسب نہیں، تاہم ان میں سے شریر قسم کے کتے جو کالی سیاہ رنگت والے ہیں انہیں ماردو، باقیوں کو قتل نہ کرو۔

الحكم على الحديث:
حسن۔ أخرجه ابوداود: 2845
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6517
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ الْبَهِيمُ شَيْطَانٌ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کالا سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6517]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في ’’الاوسط‘‘، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25243 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25757»
وضاحت: فوائد: … کالے سیاہ کتے کو شیطان قرار دینے کا مقصد یہ ہے کہ اس کا ضرر دوسرے کتوں سے زیادہ ہوتا ہے، مجازی طور پر اس کو شیطان کہا گیا ہے، ویسے بھی عربوں کے کلام میں ہر سر کش کو شیطان کہہ دیتے ہیں۔ جیسے برے اور شرارتی انسان کو شیطان کہہ دیا جاتا ہے، اسی طرح ڈراؤنے اور موذی کتے کو بھی شیطان کہا گیا ہے، شیطان کسی کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ وصف ہے، جس میں بھی پایا جائے گا، اس کو شیطان کہیں گے۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في ’’الاوسط‘‘
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6518
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ ثُمَّ قَالَ مَا لَكُمْ وَالْكِلَابَ ثُمَّ رَخَّصَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ وَالْغَنَمِ
۔ سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتوں کو ماردینے کا حکم دیا اور پھر فرمایا: تمہارا کتوں کے ساتھ کیا تعلق ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شکاری کتے اور بکریوں کی حفاظت کرنے والے کتوں کی اجازت دے دی۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6518]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 280، 1573، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20566 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20840»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ کتوں کو قتل کرنے کا عام حکم منسوخ ہو چکا ہے، البتہ کالے سیاہ کتے کو قتل کرنے کا حکم باقی ہے، رہا مسئلہ کہ گھر کے اندر کتا رکھا جا سکتا ہے یا نہیں، اس کی تفصیل اگلے باب میں آ رہی ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 280
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں