الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ الرُّحْصَةِ فِي عَدْمٍ قَتْلِ الْكِلابِ إِلَّا الْأَسْوَدَ البهيم
کالے سیاہ کتے کے علاوہ باقی کتوں کو قتل نہ کرنے کی رخصت کا بیان
حدیث نمبر: 6517
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ الْبَهِيمُ شَيْطَانٌ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کالا سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6517]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في ’’الاوسط‘‘، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25243 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25757»
وضاحت: فوائد: … کالے سیاہ کتے کو شیطان قرار دینے کا مقصد یہ ہے کہ اس کا ضرر دوسرے کتوں سے زیادہ ہوتا ہے، مجازی طور پر اس کو شیطان کہا گیا ہے، ویسے بھی عربوں کے کلام میں ہر سر کش کو شیطان کہہ دیتے ہیں۔ جیسے برے اور شرارتی انسان کو شیطان کہہ دیا جاتا ہے، اسی طرح ڈراؤنے اور موذی کتے کو بھی شیطان کہا گیا ہے، شیطان کسی کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ وصف ہے، جس میں بھی پایا جائے گا، اس کو شیطان کہیں گے۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في ’’الاوسط‘‘
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6517 in Urdu