الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ مَا جَاءَ فِي إِنْكَاحِ الا بْنِ أُمَّهُ
بیٹے کا اپنی ماں کا کسی سے نکاح کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6902
عَنِ ابْنِ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ أُمَّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَوْلِيَائِي تَعْنِي شَاهِدًا، فَقَالَ: ( (إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِكِ شَاهِدٌ وَلَا غَائِبٌ يَكْرَهُ ذَلِكَ) ) . فَقَالَتْ: يَا عُمَرُ! زَوِّجْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَتَزَوَّجَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، الْحَدِيثَ.
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں نکاح کا پیغام بھیجا، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے اولیاء موجود نہیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کوئی بھی ولی ایسا نہیں ہے، جو اس شادی کو ناپسند کرے، وہ حاضر ہو یا غائب۔ یہ سن کر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہانے اپنے بیٹےسے کہا: اے عمر! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میری شادی کر دے، پس انہوں نے ان کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شادی کر دی۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6902]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابن عمر بن ابي سلمة، أخرجه مطولا ومختصرا ابن حبان: 2949، والحاكم: 2/ 178، وابويعلي: 6907، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26529 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27064»
وضاحت: فوائد: … ائمۂ ثلاثہ سمیت جمہور اہل علم کا مسلک یہ ہے کہ بیٹا اپنی ماں کا ولی بن سکتا ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف