🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

23. باب حُكْمِ هَدَايَا الزَّوْجِ لِلْمَرْأَةِ وَأَوْلِيَائِهَا
خاوند کا بیوی اور اس کے اولیاء کو تحفے دینے کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6938
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ عَلَى صَدَاقٍ أَوْ حِبَاءٍ أَوْ عِدَةٍ قَبْلَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لَهَا وَمَا كَانَ بَعْدَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لِمَنْ أُعْطِيَهُ وَأَحَقُّ مَا يُكْرَمُ عَلَيْهِ الرَّجُلُ ابْنَتُهُ وَأُخْتُهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس عورت نے حق مہر یا تحفہ یا وعدہ پر نکاح کیا ہے، تو جو چیز نکاح کے عقد سے پہلے ہوگی، وہ اس عورت کی ہی ہو گی،جو نکاح کے بعد ہوگی، وہ اسی کے لئے ہو گی، جس کے لیے دی جائے گی،یہ بیٹی اور بہن ہی ہیں کہ جن کی وجہ سے آدمی عزت کا سب سے زیادہ مستحق قرار پاتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6938]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 2129، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6709 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6709»
وضاحت: فوائد: … وعدہ سے مراد یہ ہے کہ بننے والا خاوند جو چیزیں دینے کا وعدہ کرے۔
اس حدیث ِ مبارکہ کے پہلے حصے کا مفہوم یہ ہے کہ ولییا وکیل کو نکاح سے پہلے جو کچھ دیا جائے گا، وہ دراصل اس کی بچی کا ہو گا اور نکاح کے بعد جو چیز جس کو دی جائے گی، وہ اسی کی ہو گی۔
حدیث مبارکہ کے آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ لوگوں کو اپنے سالے اور داماد کی عزت کرنی چاہیے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6939
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا اسْتُحِلَّ بِهِ فَرْجُ الْمَرْأَةِ مِنْ مَهْرٍ أَوْ عِدَةٍ فَهُوَ لَهَا وَمَا أُكْرِمَ بِهِ أَبُوهَا أَوْ أَخُوهَا أَوْ وَلِيُّهَا بَعْدَ عَقْدِ النِّكَاحِ فَهُوَ لَهُ وَأَحَقُّ مَا أُكْرِمَ بِهِ الرَّجُلُ ابْنَتُهُ وَأُخْتُهُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس حق مہر یا وعدہ کے ذریعہ عورت کی شرمگاہ حلال کی گئی ہے، وہ اسی عورت کے لئے ہے اور نکاح کے عقد کے بعد اس کے باپ یا بھائی یا ولی کو اعزازی طور پر جو چیز دی جائے، وہ اسی کی ہو گی،یہ بیٹی اور بہن ہی ہیں کہ جن کی وجہ سے آدمی عزت کا سب سے حقدار قرار پاتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6939]
تخریج الحدیث: «حسن من حديث عبد الله بن عمرو بن العاص، أخرجه عبد الرزاق: 10743، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24909 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25422»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں