🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. بَابُ النَّهْي عَنْ نِكَاحِ الشَّغَارِ
شغار (یعنی وٹہ سٹہ)کے نکاح کاحکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7000
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ نِكَاحِ الشِّغَارِ قَالَ قُلْتُ لِنَافِعٍ مَا الشِّغَارُ قَالَ يُزَوِّجُ الرَّجُلُ ابْنَتَهُ وَيَتَزَوَّجُ ابْنَتَهُ وَيُزَوِّجُ الرَّجُلُ أُخْتَهُ وَيَتَزَوَّجُ أُخْتَهُ بِغَيْرِ صَدَاقٍ
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شغار سے منع فرمایاہے، راوی کہتے ہیں: میں نے نافع سے کہا: شغار کیا ہوتا ہے؟ انھوں نے کہا: ایک آدمی کا دوسرے آدمی سے اپنی بیٹی کا نکاح کرنا اور خود اس کی بیٹی سے نکاح کر لینا، اسی طرح ایک آدمی کا دوسرے آدمی سے اپنی بہن کا نکاح کرنا اور خود اس کی بہن سے نکاح کر لینا، جبکہ بیچ میں مہر نہ ہو۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7000]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6960، ومسلم: 1415، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4692 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4692»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 6960
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7001
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ثَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الشِّغَارِ قَالَ مَالِكٌ وَالشِّغَارُ أَنْ يَقُولَ أَنْكِحْنِي ابْنَتَكَ وَأُنْكِحُكَ ابْنَتِي
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شغار کے نکاح سے منع فرمایا، امام مالک کہتے ہیں:شغار یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی سے کہے: تو اپنی بیٹی کا مجھ سے نکاح کر دے اور میں اپنی بیٹی کا تجھ سے نکاح کر دیتا ہوں۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7001]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5112، ومسلم: 1415، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5289 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5289»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 5112
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7002
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشِّغَارِ قَالَ وَالشِّغَارُ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ زَوِّجْنِي ابْنَتَكَ وَأُزَوِّجُكَ ابْنَتِي أَوْ زَوِّجْنِي أُخْتَكَ وَأُزَوِّجُكَ أُخْتِي قَالَ وَنَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ وَعَنِ الْحَصَاةِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شغار سے منع فرمایا ہے۔ راوی کہتا ہے: شغار یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی سے کہے: تو مجھ سے اپنی بیٹی کی شادی کر دے اور میں اپنی بیٹی کی تجھ سے شادی کر دیتا ہوں، یا تو مجھ سے اپنی بہن کی شادی کر دے اور میں تجھ سے اپنی بہن کی شادی کر دیتا ہوں نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دھوکا کی تجارت اور کنکری کی بیع سے بھی منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7002]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1416، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10439 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10443»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 1416
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7003
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الْأَعْرَجِ أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنْكَحَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَكَمِ ابْنَتَهُ وَأَنْكَحَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنَتَهُ وَقَدْ كَانَا جَعَلَا صَدَاقًا فَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ خَلِيفَةٌ إِلَى مَرْوَانَ يَأْمُرُهُ بِالتَّفْرِيقِ بَيْنَهُمَا وَقَالَ فِي كِتَابِهِ هَذَا الشِّغَارُ الَّذِي نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ عبد الرحمن بن ہرمزا عرج سے روایت ہے کہ عباس بن عبد اللہ بن عباس نے عبد الرحمن بن حکم سے اپنی بیٹی کا نکاح کیا اور عبد الرحمن نے اپنی بیٹی کا نکاح ان سے کر دیا، انہوں نے بیچ میں حق مہر کا تعین بھی کیا، سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ، جو خلیفہ تھے، نے مروان کی طرف خط لکھا اور اس کو حکم دیا کہ ان کے درمیان تفریق کرا دو، انہوں نے اپنے خط میں یہ وضاحت کی کہ یہ وہی شغارہے، جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7003]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 2075، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16856 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16981»

الحكم على الحديث: اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7004
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشِّغَارِ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شغار کے نکاح سے منع فرمایاہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7004]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1417، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14648 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14702»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 1417
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7005
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں کوئی شغار نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7005]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1415، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4918 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4918»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 1415
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7006
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں شغار کا کوئی تصور نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7006]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابن ماجه: 1885، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12686 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12716»

الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7007
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں شغار نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7007]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 2581، والنسائي: 6/ 228، والترمذي: 1123، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19962 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20204»
وضاحت: فوائد: … باب کے شروع میں شغار کی تعریف گزر چکی ہے، سمجھنے کی بات یہ ہے کہ شغار میں اصل چیز لڑکی کے بدلے لڑکی لینے کی شرط لگانا ہے، اگر اتفاقی طور پر مہر کا ذکر ہو بھی جائے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، جبکہ ہمارے ملک میں مہر کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی ہے۔
ہاں اگر کسی آدمی نے اپنے زیر ولایت لڑکی کا نکاح کسی دوسرے آدمی سے کر دیا اور جواب میں کسی رشتہ کی شرط نہیں لگائی، پھر بعد میں دوسرے آدمی کا پہلے آدمی کو رشتہ دینے کا پروگرام بن گیا اور دوسری شادی ہو گئی،یہ نہ شغار ہے اور نہ اس کی کوئی ممانعت ہے۔

الحكم على الحديث: اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں