🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. بَابُ مَا جَاءَ فِي نِكَاحَ الزَّانِي الْمَجْلُودِ لَا يُنْكَحُ
حد لگائے ہوئے زانی کا نکاح نہ کیا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7008
عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الزَّانِي الْمَجْلُودُ لَا يَنْكِحُ إِلَّا مِثْلَهُ
۔ سعید بن ابی سعید مقبری سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حد زدہ زانی نکاح نہیں کرتا، مگر اپنے جیسے سے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7008]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 2052، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8300 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8283»
وضاحت: فوائد: … ایک مفہوم تو واضح ہے کہ جیسے بدکردار مرد اپنے جیسی بدکردار سے ہی شادی کرتا ہے،یہی معاملہ بری خاتون کا ہے، اس کا مفہوم یہ ہوا کہ جس مرد کا زنا ظاہر ہو چکا ہو، کوئی پاکدامن خاتون اس سے شادی نہ کرے، اسی طرح جس عورت کی بدکاری فاش ہو چکی ہو، کوئی پاکدامن مرد اس سے نکاح نہ کرے۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ بدکار مردوں کو اپنے جیسی بدکار خواتین کی ہی تلاش ہوتی ہے، اسی طرح بری عورتوں کو برے مردوں سے ہی رغبت ہوتی ہے۔
ایک کہاوت ہے کہ نابینا لڑکے کے والدین اس کا رشتہ مانگنے کے لیے بچی کے گھر گئے اور اس کے والدین سے بات کی، انھوں نے کہا: ہماری بچی ہر اعتبار سے ٹھیک ہے، بس صرف چشم گل ہے، جوابا لڑکے والوں نے کہا: اس میں تو کوئی بات نہیں، کیونکہ ہمارا لڑکا بھی بالکل ہے۔ بات یہ ہے کہ جیسے چشم گل کے نصیبے میںبالکل آیا ہے، ایسے پاکدامن اور بدکار مردو زن کا مسئلہ ہے۔ (چشم گل سے مراد وہ بچی ہے، جو ایک آنکھ سے محروم ہو)۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7009
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ اسْتَأْذَنَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ مَهْزُولٍ كَانَتْ تُسَافِحُ وَتَشْتَرِطُ لَهُ أَنْ تُنْفِقَ عَلَيْهِ وَأَنَّهُ اسْتَأْذَنَ فِيهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ ذَكَرَ لَهُ أَمْرَهَا فَقَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ [النور: 3]
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک مسلمان نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ام مہزول نامی ایک عورت سے نکاح کے بارے میں اجازت طلب کی،یہ خاتون بدکاری کرتی تھی اور اس نے یہ شرط بھی لگائی تھی کہ وہ اس پر خرچ کرے گی، بہرحال اس مسلمان نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کی یا اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اس کا معاملہ ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً اس آیت کی تلاوت کی: زانیہ خاتون سے نکاح نہیں کرتا، مگر زانی اور مشرک۔ (سورۂ نور: ۲) [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7009]
تخریج الحدیث: «حسن، أخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 11359، والطبران في ’’الاوسط‘‘: 1819، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6480 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6480»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: أَنَّ مَرْثَدَ بْنَ أَبِی مَرْثَدٍ الْغَنَوِیَّ کَانَ یَحْمِلُ الْأُسَارَی بِمَکَّۃَ وَکَانَ بِمَکَّۃَ بَغِیٌّیُقَالُ لَہَا عَنَاقُ وَکَانَتْ صَدِیقَتَہُ۔ قَالَ جِئْتُ إِلَی النَّبِیِّV فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللَّہِ! أَنْکِحُ عَنَاقَ، قَالَ فَسَکَتَ عَنِّی فَنَزَلَتْ {وَالزَّانِیَۃُ لَا یَنْکِحُہَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِکٌ} فَدَعَانِی فَقَرَأَہَا عَلَیَّ وَقَالَ: ((لَا تَنْکِحْہَا۔)) … سیدنا مرثدغنوی رضی اللہ عنہ مسلمان قیدیوں کو مکہ مکرمہ سے منتقل کرتے تھے، جبکہ مکہ میں عناق نامی ایک زانی خاتون تھی، (دورِ جاہلیت میں) وہ ان کی سہیلی بنی ہوئی تھی، سیدنا مرثد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں عناق سے شادی کر لوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے خاموش ہو گئے، پس یہ آیت نازل ہوئی: اور زانی خاتون، اس سے کوئی شادی نہیں کرتا، مگر زانی اور مشرک۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا،یہ آیتیں مجھے سنائیں اور فرمایا: تو اس سے شادی نہ کر۔(ابوداود: ۱۷۵۵، نسائی: ۳۲۲۸)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں