🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

21. بابُ إِجَابَةِ الدَّاعِي إِلَى الْوَلِيمَةِ
ولیمہ کی دعوت دینے والی کی دعوت قبول کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7037
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا نُودِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى وَلِيمَةٍ فَلْيَأْتِهَا
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو ولیمہ کی دعوت دی جائے تو وہ اس ولیمے میں حاضری دے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7037]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5173، ومسلم: 1419، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4712 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4712»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7038
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى وَلِيمَةِ عُرْسٍ فَلْيُجِبْ
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو شادی کے ولیمہ کی دعوت دی جائے تو وہ اس دعوت کو قبول کرے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7038]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4730»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7039
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُجِبْ عُرْسًا كَانَ أَوْ نَحْوَهُ
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی اپنے بھائی کو دعوت دے، تو وہ یہ دعوت قبول کرے، وہ شادی کی دعوت ہو یا کوئی اور۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7039]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1429، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6337 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6337»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7040
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَبْلُغُ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں کسی کو دعوت دی جائے اوروہ روزے سے ہو تو وہ کہہ دے کہ وہ روزے سے ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7040]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1150، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7304 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7302»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7041
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ دُعِيَ فَلْيُجِبْ فَإِنْ كَانَ مُفْطِرًا أَكَلَ وَإِنْ كَانَ صَائِمًا فَلْيُصَلِّ وَلْيَدْعُ لَهُمْ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس طرح بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو دعوت دی جائے، وہ اسے قبول کرے، اگر اس کا روزہ نہ ہو تو وہ کھائے اور اگر وہ روزے سے ہو تو اس کے لئے دعا کر دے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7041]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1431، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7349 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7735»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7042
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيُجِبْ فَإِنْ شَاءَ طَعِمَ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو وہ اس دعوت کو قبول کرے، پھر اگر چاہے تو کھانا کھا لے اور چاہے تو نہ کھائے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7042]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1430، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15219 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15289»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7043
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى الدَّعْوَةِ فَلْيُجِبْ أَوْ قَالَ فَلْيَأْتِهَا قَالَ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُجِيبُ صَائِمًا وَمُفْطِرًا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی کو دعوت کی دی جائے تو وہ قبول کرے۔ یا فرمایا: وہ دعوت میں آئے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا روزہ ہوتا یا نہ ہوتا، وہ ہر حال میں دعوت قبول کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7043]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه البخاري: 5179، ومسلم: 1429، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5766 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5766»
وضاحت: فوائد: … دعوت قبول کرتے تھے، روزے کی حالت میں ہوتے یا نہ ہوتے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7044
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى الْغَنِيُّ وَيُتْرَكُ الْمِسْكِينُ وَفِي لَفْظٍ يُدْعَى إِلَيْهَا الْأَغْنِيَاءُ وَيُتْرَكُ الْمَسَاكِينُ وَهِيَ حَقٌّ وَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ عَصَى وَكَانَ مَعْمَرٌ رُبَّمَا قَالَ وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ولیمے کا کھانا بدترین کھانا ہے، جس میں مالداروں کو بلایا جاتا ہے اور مسکینوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے، جبکہ یہ دعوت حق ہے، جس نے اس کو چھوڑا اس نے نافرمانی کی، معمر راوی کے الفاظ یہ تھے: جس نے دعوت قبول نہ کی، اس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کی۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7044]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1422، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7624 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7613»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت موقوف ہے، صحیح مسلم کی جو روایت مرفوع ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِیمَۃِیُمْنَعُہَا مَنْ یَأْتِیہَا وَیُدْعَی إِلَیْہَا مَنْ یَأْبَاہَا وَمَنْ لَمْ یُجِبِ الدَّعْوَۃَ فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ۔)) … بدترین کھانا ولیمے کا کھانا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جو کھانے کے لیے آنا چاہتے ہیں، ان کو روک دیا جاتا ہے اور جو آنے سے انکار
کرتے ہیں، ان کو بلایا جاتا ہے، بہرحال جس نے دعوت قبول نہ کی، اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔(صحیح مسلم: ۲۵۸۶) امام نووی نے کہا: اس حدیث میں اس چیز کی خبر دی جا رہی ہے، جو لوگوں میں رواج پا چکی ہے، ولیموں میںمالدار لوگوں کو پروٹوکول دیا جاتا ہے، خاص طور پر ان کو دعوت دی جاتی ہے اور ان کے لیے اچھے اچھے کھانے تیار کیے جاتے ہیں اور ان کو دوسرے محتاجوں پر مقدم کیا جاتا ہے، اکثر ولیموں میںیہی کچھ ہوتا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7045
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے دعوت قبول نہ کی، اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کی۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7045]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 3741، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5263 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5263»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7046
عَنْ عِكْرَمَةَ بْنِ عَمَّارٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا غَادِيَةَ الْيَمَانِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَجَاءَ رَسُولُ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ فَدَعَاهُمْ فَمَا قَامَ إِلَّا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَخَمْسَةٌ مِنْهُمْ أَنَا أَحَدُهُمْ فَذَهَبُوا فَأَكَلُوا ثُمَّ جَاءَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَغَسَلَ يَدَهُ ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ يَا أَهْلَ الْمَسْجِدِ إِنَّكُمْ لَعُصَاةٌ لِأَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ ابو غادیہ یمانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مدینہ میں آیا، کثیر بن صلت کا قاصد آیا اور اس نے مسجد والوں کو دعوت دی، صرف سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور مزید پانچ آدمی کھڑے ہوئے، میں ان میں ایک تھا، پس یہ لوگ گئے اور کھانا کھایا، جب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ واپس آئے تو انھوں نے ہاتھ دھوئے اور کہا: اللہ کی قسم! اے اہل مسجد! بیشک تم ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نافرمان ہو۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7046]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو غادية اليمامي، جھله ابو زرعة العراقي وابن حجر، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7884 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7871»
وضاحت: فوائد: … مسلمان کی دعوت قبول کرنا حق ہے، خاص طور پر ولیمہ کی دعوت، اس لیے باہتمام اس حق کو ادا کرنا چاہیے، وگرنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی ہو گی۔
بعض احادیث سے معلوم ہوا کہ نفلی روزے کی وجہ سے دعوت قبول نہ کی جائے، لیکن دعوت کی وجہ سے نفلی روزہ توڑنا بھی جائز ہے، جیسا کہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا، جب کھانا (دسترخوان پر) رکھا گیا تو ایک آدمی نے کہا: میں تو روزے دار ہوں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((دَعَاکَ اَخُوْکَ وَ تَکَلَّفَ لَکَ فَصُمْ مَکَانَہٗاِنْشِئْتَ۔)) … تیرے بھائی نے تجھے دعوت دی اور تیرے لیے تکلف کیا، (اس لیے روزہ توڑ دے) اور اگر چاہے تو اس کی جگہ پر ایک اور روزہ رکھ لینا۔ (سنن بیہقی، قال الحافظ ابن حجر: اسنادہ حسن)
اگر واقعی نظر آ رہا ہے کہ داعی نے بڑے تکلف اور رغبت سے کھانا تیار کیا ہے تو نفلی روزہ توڑ دینا چاہیے، اگر اجر و ثواب ہی مطلوب ہو تو دوبارہ روزہ رکھ لیا جائے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں