الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. بَابُ حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الزَّوْجَةِ
بیوی پر خاوند کے حقوق کا بیان
حدیث نمبر: 7111
عَنِ الْحُصَيْنِ بْنِ مِحْصَنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَمَّةً لَهُ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَفَرَغَتْ مِنْ حَاجَتِهَا فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَذَاتُ زَوْجٍ أَنْتِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ كَيْفَ أَنْتِ لَهُ قَالَتْ مَا آلُوهُ إِلَّا مَا عَجَزْتُ عَنْهُ قَالَ انْظُرِي أَيْنَ أَنْتِ مِنْهُ فَإِنَّمَا هُوَ جَنَّتُكِ وَنَارُكِ
۔ سیدنا حصین بن محصن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی پھوپھی کسی کام کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور جب وہ اپنے کام سے فارغ ہوگئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کہا: کیا تم شادی شدہ ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم خاوند کے لئے کیسی ثابت ہو رہی ہو؟ اس نے کہا: میں اس کی خدمت میں کوئی کمی نہیں کرتی، مگر وہ کام جس سے میں عاجز آ جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ذرا غور کرلینا کہ تو اس کے ساتھ کیسا معاملہ کرتی ہے، وہی تیری جنت ہے اور وہی تیری جہنم ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7111]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين، أخرجه النسائي في الكبري: 8965، وابن ابي شيبة: 4/ 304، والبيھقي: 7/ 291، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27352 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19212»
وضاحت: فوائد: … یعنی بیوی کے جنت یا جہنم میں جانے کا بڑا سبب اس کا خاوند ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7112
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَزَعَتْ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِ زَوْجِهَا هَتَكَتْ سِتْرَ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ رَبِّهَا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس عورت نے اپنے خاوند کے گھر کے علاوہ اپنا لباس اتار ا، اس نے اپنے اور اپنے رب کے درمیان والا پردہ چاک کر دیا۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7112]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 4010، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24140 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24641»
وضاحت: فوائد: … خاتون کو غیر محرم کے سامنے اپنے جسم کے اعضاء کو ننگا نہیں کرنا چاہیے، وگرنہ وہ اللہ تعالی کی حدود سے خارج ہو جائے گی اور اللہ تعالی اس کی عزت کا ضامن نہیں رہے گا۔ دورِ حاضر میں عورت کو بڑے غلط رنگ میں استعمال کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا نے اس معاملے میں بڑا ہی بد کردار پیش کیا ہے اور خواتین کو اس انداز میں پیش کیا ہے کہ مرد و زن، ہر ایک کی پاکدامنی داؤ پر لگ گئی ہے، ما سوائے اس کے جس پر اللہ تعالی خاص رحمت کر دے۔ اس میڈیا سے مسلم خواتین بری طرح متأثر ہوئی ہیں اور آج ان کے جسم کے بعض حصے ننگے نظر آ رہے ہوتے ہیں اور تنگ اور باریک لباس کی وجہ سے جسم کے باقی حصوں کی جسامت کا خوب اندازہ ہو رہا ہوتا ہے لیکن نافرمانی کے اس انداز کو کون سمجھے اور پھر وہ کیا کرے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7113
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ مَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي نِسْوَةٍ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَقَالَ إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَ الْمُنَعَّمِينَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا كُفْرُ الْمُنَعَّمِينَ قَالَ لَعَلَّ إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَطُولَ أَيْمَتُهَا بَيْنَ أَبَوَيْهَا وَتَعْنُسَ فَيَرْزُقَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ زَوْجَهَا وَيَرْزُقَهَا مِنْهُ مَالًا وَوَلَدًا فَتَغْضَبُ الْغَضْبَةَ فَتَقُولَ مَا رَأَيْتُ مِنْهُ يَوْمًا خَيْرًا قَطُّ وَفِي لَفْظٍ مَا رَأَيْتُ مِنْهُ خَيْرًا قَطُّ
۔ سیدہ اسما بنت یزید انصاریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے اور ہم کچھ خواتین بیٹھی ہوئی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سلام کہا اور پھر فرمایا: خوشحال لوگوں کی طرح ناشکر ی کرنے سے بچنا۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! خوشحال لوگوں کی ناشکری کیا ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ممکن ہے کہ تم عرصہ دراز تک اپنے والدین کے پاس بے شوہر کی زندگی گزارتی رہو، پھر اللہ تعالیٰ تمھیں خاوند عطا کرے اور (اس کے ذریعے) اولاد کی نعمت بھی دے، لیکن تم کسی دن غصے میں آکر (خاوند کو) یہ کہہ دو کہ میں نے تو تیرے پاس کوئی خیر و بھلائی دیکھی ہی نہیں۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7113]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه الترمذي: 2697، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27561 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28113»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7114
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ الْفَتْحِ لَا يَجُوزُ لِمَرْأَةٍ عَطِيَّةٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا: کسی عورت کے لئے اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر عطیہ دینا حلال نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7114]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 3546، والنسائي: 6/ 278، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6727 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6727»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7115
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَجُوزُ لِلْمَرْأَةِ أَمْرٌ فِي مَالِهَا إِذَا مَلَكَ زَوْجُهَا عِصْمَتَهَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب عورت کی عصمت کا مالک اس کا خاوند بن جائے،تو عورت کے لیے اپنے مال میں تصرف کرنا جائز نہیں رہتا۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7115]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7058»
وضاحت: فوائد: … یہ ایک انتہائی اہم مسئلہ ہے کہ کوئی عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر مال و دولت میں تصرّف نہیں کر سکتی۔ سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع والے سال اپنے خطبہ میں فرمایا: ((لَا تُنْفِقُ اِمْرَأَۃٌ شَیْئًا مِنْ بَیْتِزَوْجِہَا اِلاَّ بِاِذْنِ زَوْجِہَا۔)) قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَلَا الطَّعَامَ؟ قَالَ: ((ذَالِکَ مِنْ اَفْضَلِ اَمْوَالِنَا۔)) (ترمذی، ابن ماجہ) … کوئی عورت اپنے خاوند کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر کوئی چیز خرچ نہ کرے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کسی کو کھانابھی نہ دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھانا تو ہمارے افضل (اور قیمتی) اموال میں سے ہے۔
سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَیْسَ لِلْمَرْأَۃِ أَںْ تَنْتَہِکَ شَیْئًا مِنْ مَالِہَا اِلَّا بِاِذْنِ زَوْجِہَا۔)) (طبرانی: ۲۲/ ۸۳/ ۲۰۶، صحیحہ: ۷۷۵) … عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر اپنے مال میں سے کچھ بھی خرچ نہیں کر سکتی۔
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ رقمطراز ہیں: یہ حدیث اور اس مفہوم پر دلالت کرنے والی دوسری احادیث اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ عورت خاوند کی اجازت کے بغیر اپنے ذاتی مال میں بھی تصرف نہیں کر سکتی، اللہ تعالیٰ کے فرمان { اَلرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَی النِّسَآئِ}کا بھییہی تقاضا ہے۔ لیکن اگر کوئی خاوند سچا مسلمان ہے، تو اسے یہ زیب نہیں دیتا کہ اس حکم شرعی کو بہانہ بنا کر اپنی بیوی پر جبر کرے اور ایسے مالی تصرف سے بھی روک دے، جس کا ان دونوں کو کوئی نقصان نہ ہوتا ہو۔
غور فرمائیں کہ یہ حکم اس حق سے ملتا جلتا ہے، جو بچی کے ولی کو اس کی شادی کے سلسلے میں حاصل ہوتا ہے کہ جس کی اجازت کے بغیر وہ نکاح نہیں کر سکتی، لیکن جب ولی اس کو نکاح سے روک لیتا ہے تو معاملہ انصاف کا طالب بن کر شرعی قاضی تک جا پہنچتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئیخاوند اپنی بیوی پر ظلم کرتا ہے اور اسے اس کے ذاتی مال میں شرعی تصرف کرنے سے بھی روک لیتا ہے، تو قاضی ان کے درمیان انصاف کی راہ ہموار کرے گا۔ معلوم ہوا کہ حکم میں اشکال نہیں ہے، بلکہ سوئے تصرف میں اشکال ہے۔ (صحیحہ: ۷۷۵)
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ مزید لکھتے ہیں: آپ کو علم ہونا چاہیے کہ بعض سلف نے اس حدیث پر عمل کیا ہے، جیساکہ امام طحاوی نے (شرح المعانی: ۲/ ۴۰۳) میں وضاحت کی ہے اور امام ابن حزم نے (المحلی: ۸/ ۳۱۰۔ ۳۱۱) میں سیدنا انس بن مالک، سیدنا ابوہریرہ، امام طاوس، امام حسن اور امام مجاہد کے نام ذکر کیے ہیں، مزید انھوں نے کہا: لیث بن سعد کا بھییہی قول ہے، وہ اس چیز کو جائز نہیں سمجھتے کہ بیوی خاوند کی اجازت کے بغیر مالی معاملات میں تصرف کرے، ہاں معمولی چیز کی گنجائش موجود ہے، جوصلہ رحمییا اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔
امام ابن حزم نے دوسرے علماء کے اقوال ذکر کیے اور ان کے دلائل کا مناقشہ بھی کیا، وہ خود اس بات کے قائل ہیں کہ بیوی اپنے ذاتی مال میں خاوند کی اجازت کے بغیر تصرف کر سکتی ہے۔ انھوں نے اپنے مسلک کے حق میں بعض احادیث ِ صحیحہ پیش کی ہیں، جیسے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبۂ عید میں عورتوں کو صدقہ کرنے کا حکم دیا، انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنی انگوٹھیاں اور کڑے وغیرہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈال دیے۔
میں (البانی) کہتا ہوں کہ ابن حزم کی بیان کردہ ان احادیث ِ مبارکہ میں ان کے مسلک کی کوئی دلیل نظر نہیں آتی، کیونکہیہ مخصوص واقعات پر مشتمل ہیں اور اس باب کی اور دوسری احادیث سے متعارض نہیں ہیں:
آپ خود سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث، جس میں عید کا ذکر ہے، پر غور کریں، اس میں یہ وضاحت موجود ہے کہ عورتوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے صدقہ کیا۔ اگر فرض کر لیا جائے کہ ان کو خاوندوں کی طرف سے صدقہ کرنے کی اجازت نہ تھی، بلکہ یہ کہا جائے کہ انھوں نے ان کو منع کر رکھا تھا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مخصوص موقع پر ان کو براہِ راست حکم دیا، توانھوں نے اس حکم نبوی کی تعمیل کی۔ اب کیا کوئی عاقل یہ کہہ سکتا ہے کہ خاوندوں سے اجازت کی پابندی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم پر مقدم تھی۔ حقیقتیہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واقعی عورتوں کو ان کے خاوندوں کی اجازت کے بغیر صدقہ کرنے سے منع کیا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی مناسبت کی وجہ سے ان کو صدقہ کرنے کا حکم صادر فرمائیں گے، تو اس حکم کو خاوندوں کی اجازت پر مقدم سمجھا جائے گا، حالانکہ کوئی ایسی دلیل بھی نہیں ہے کہ انھوں نے اپنی بیویوں کو منع کر رکھا تھا۔
حقیقتیہ ہے کہ امام ابن حزم نے جو مسلک اختیار کیا ہے، ممکن ہے کہ ان کی طرف سے یہ عذر پیش کیا جائے کہ ان کے نزدیک وہ احادیث درجۂ صحت کو نہ پہنچ سکیں، جن میں بیویوں کے صدقہ و خیرات کو خاوندوں کی اجازت کے ساتھ معلق کیا گیا ہے، وگرنہ امام صاحب ان کی فوراً تعمیل کرتے،کیونکہیہ ایک مخصوص اورزائد حکم پر مشتمل ہیں، جس سے ان کی بیان کردہ احادیث خالی ہیں۔
لیکن انھوں نے عمرو بن شعیب عن ابیہ … کی اس حدیث کو اس بنا پر معلول قرار دیا ہے کہ یہ صحیفہ منقطع ہے، جبکہ امام احمد سمیت جمہور علمائے حدیث کے نزدیک عمرو بن شعیب کا صحیفہ موصول ہے۔
پھر ابن حزم نے یہ کہا اگر یہ حدیث صحیح ثابت ہو جائے تو اسے منسوخ سمجھا جائے گا، اس کا جواب دیا جا چکا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ جزئ، کل کو اور خاص، عام کو منسوخ کر دے؟
کافروں کی تہذیبوں کی موافقت کے خواہاں اور اسلام میں حقوقِ نسواں پر بحث کرنے والے نام نہاد مسلمان اس موضوع پر دلالت کرنے والی احادیث سے غافل اور جاہل ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ علمی اعتبار سے ابن حزم کا مذہب ان کے نزدیک راجح ہے، وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ اسلام کی ہدایات کو مغربی کلچر کے قریب تر کر دیا جائے، اس کی ایک شقّ یہ ہے کہ عورت اپنے مال میں خود تصرف کرے۔
لیکن ان بیچاروں کو علم ہونا چاہیے کہ ان دلائل سے ان کو ذرہ برابر بھی فائدہ نہیں ہو گا، کیونکہ وہ تو عورت کو غیر کے مال میں بھی تصرف کرنے اور اسے اولیاء کی اجازت کے بغیر شادی کرنے اور اسے ہم راز اور یار بنانے کی بھی اجازت دیتے ہیں۔ ہمارے اللہ نے سچ فرمایا: {وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَہُوْدُ وَلَا النَّصَارٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَہُمْ}(سورۂ بقرہ: ۱۲۰) … یہودی اور عیسائی اس وقت تک آپ سے ہر گز راضی نہیں ہوں گے، جب تک آپ ان کی ملت کی پیروی نہیں کریں گے۔ (صحیحہ: ۲۵۷۱)
قارئین کرام! یقینا آپ کو اور بالخصوص عورتوں کو اس حکم پر تعجب ہو رہا ہو گا کہ خاوند کی اجازت کے بغیر عورت اپنے مال میں بھی تصرف نہیں کر سکتی۔ اس تعجب کی وجہ ہمارا ماحول ہے، جہاں اکثر خواتین کو اپنے خاوندوں کے گھروں میں مجبور و مظلوم کی حیثیت سے زندگی گزارنا پڑتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کو بہترین قرار دیا جو اپنی بیویوں کے حق میں بہتر ہوتے ہیں۔ خاوند حضرات کو چاہیے کہ وہ حکم نبوی کے مطابق اپنی بیویوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں، دوستانہ ماحول بنائیں، آپس میں خوش و خرم رہیں، ایک دوسرے کی خوشی غمی کو سمجھیںاور دونوں ایک دوسرے کے والدین اور دوسرے قرابت داروں کی قدر کریں۔ نیز خاوند حضرات کو چاہیے کہ وہ اپنی بیویوں کو کچھ تصرف کرنے کی اجازت دے دیں۔ ایسے ماحول میں ان احادیث پر عمل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
عورت اپنے مال میں خاوند کی اجازت کے بغیر تصرف کرسکتی ہے یا نہیں۔ اس بارے حدیث۷۱۱۴ اور ۷۱۱۵ اپنے مفہوم کے اعتبار سے واضح ہے کہ عورت اپنے مال سے کوئی عطیہ وغیرہ دینا چاہتی ہے تو وہ اپنے خاوند سے اجازت لے، پھر یہ کام کرے۔ لیکن ایک حدیث اس بارے صریح ہے کہ خاوند کی اجازت کے بغیر عورت مال خرچ کرسکتی ہے۔ صحیح بخاری (۲۵۹۲) میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی میمونہ بنت حارث نے اپنی لونڈی آزاد کی اور آپ سے اس کی اجازت نہ لی، پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا کہ کیا آپ کو پتا ہے کہ میں نے اپنی لونڈی آزاد کر دی ہے؟ آپ نے فرمایا کیا (واقعۃً) تونے یہ کام کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا! ہاں آپ نے فرمایا اگر تو یہ لونڈی اپنے ماموئوں کو دے دینی تو اس سے تجھے اجر و ثواب زیادہ ملتا ہے۔
جب منع و نہی کے مقابلہ میں یہ حدیث صحیح صریح اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر اپنا مال خرچ کرسکتی ہے تو اس حدیث کو جواز پر محمول کرنا چاہیے اور نہی کو نہی تنزیہی پر، اس طرح دونوں کی احادیث پر عمل ہو جائے گا امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیا ہے باب ہبۃ المرأۃ لغیر زوجہا وعتقہا اذا کان لہا زوج فہو جائز اذا کانت سفیھۃً اس بات کا بیان کہ عورت اپنے خاوند کے علاوہ کسی کو تحفہ دے سکتی ہے اور غلام وغیرہ آزاد کرسکتی ہے خواہ اس کا خاوند ہو، یہ جائز ہے جب وہ بے وقوف نہ ہو۔ خلاصہیہ ہے کہ بہتر ہے کہ عورت اپنے خاوند کی اجازت کے ساتھ مال خرچ کرے لیکن اگر وہ اس کے بغیر بھی مال میں تصرف کرتی ہے تو یہ جائز ہے۔ (عبداللہ رفیق)
سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَیْسَ لِلْمَرْأَۃِ أَںْ تَنْتَہِکَ شَیْئًا مِنْ مَالِہَا اِلَّا بِاِذْنِ زَوْجِہَا۔)) (طبرانی: ۲۲/ ۸۳/ ۲۰۶، صحیحہ: ۷۷۵) … عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر اپنے مال میں سے کچھ بھی خرچ نہیں کر سکتی۔
امام البانی رحمتہ اللہ علیہ رقمطراز ہیں: یہ حدیث اور اس مفہوم پر دلالت کرنے والی دوسری احادیث اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ عورت خاوند کی اجازت کے بغیر اپنے ذاتی مال میں بھی تصرف نہیں کر سکتی، اللہ تعالیٰ کے فرمان { اَلرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَی النِّسَآئِ}کا بھییہی تقاضا ہے۔ لیکن اگر کوئی خاوند سچا مسلمان ہے، تو اسے یہ زیب نہیں دیتا کہ اس حکم شرعی کو بہانہ بنا کر اپنی بیوی پر جبر کرے اور ایسے مالی تصرف سے بھی روک دے، جس کا ان دونوں کو کوئی نقصان نہ ہوتا ہو۔
غور فرمائیں کہ یہ حکم اس حق سے ملتا جلتا ہے، جو بچی کے ولی کو اس کی شادی کے سلسلے میں حاصل ہوتا ہے کہ جس کی اجازت کے بغیر وہ نکاح نہیں کر سکتی، لیکن جب ولی اس کو نکاح سے روک لیتا ہے تو معاملہ انصاف کا طالب بن کر شرعی قاضی تک جا پہنچتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئیخاوند اپنی بیوی پر ظلم کرتا ہے اور اسے اس کے ذاتی مال میں شرعی تصرف کرنے سے بھی روک لیتا ہے، تو قاضی ان کے درمیان انصاف کی راہ ہموار کرے گا۔ معلوم ہوا کہ حکم میں اشکال نہیں ہے، بلکہ سوئے تصرف میں اشکال ہے۔ (صحیحہ: ۷۷۵)
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ مزید لکھتے ہیں: آپ کو علم ہونا چاہیے کہ بعض سلف نے اس حدیث پر عمل کیا ہے، جیساکہ امام طحاوی نے (شرح المعانی: ۲/ ۴۰۳) میں وضاحت کی ہے اور امام ابن حزم نے (المحلی: ۸/ ۳۱۰۔ ۳۱۱) میں سیدنا انس بن مالک، سیدنا ابوہریرہ، امام طاوس، امام حسن اور امام مجاہد کے نام ذکر کیے ہیں، مزید انھوں نے کہا: لیث بن سعد کا بھییہی قول ہے، وہ اس چیز کو جائز نہیں سمجھتے کہ بیوی خاوند کی اجازت کے بغیر مالی معاملات میں تصرف کرے، ہاں معمولی چیز کی گنجائش موجود ہے، جوصلہ رحمییا اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔
امام ابن حزم نے دوسرے علماء کے اقوال ذکر کیے اور ان کے دلائل کا مناقشہ بھی کیا، وہ خود اس بات کے قائل ہیں کہ بیوی اپنے ذاتی مال میں خاوند کی اجازت کے بغیر تصرف کر سکتی ہے۔ انھوں نے اپنے مسلک کے حق میں بعض احادیث ِ صحیحہ پیش کی ہیں، جیسے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبۂ عید میں عورتوں کو صدقہ کرنے کا حکم دیا، انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنی انگوٹھیاں اور کڑے وغیرہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈال دیے۔
میں (البانی) کہتا ہوں کہ ابن حزم کی بیان کردہ ان احادیث ِ مبارکہ میں ان کے مسلک کی کوئی دلیل نظر نہیں آتی، کیونکہیہ مخصوص واقعات پر مشتمل ہیں اور اس باب کی اور دوسری احادیث سے متعارض نہیں ہیں:
آپ خود سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث، جس میں عید کا ذکر ہے، پر غور کریں، اس میں یہ وضاحت موجود ہے کہ عورتوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے صدقہ کیا۔ اگر فرض کر لیا جائے کہ ان کو خاوندوں کی طرف سے صدقہ کرنے کی اجازت نہ تھی، بلکہ یہ کہا جائے کہ انھوں نے ان کو منع کر رکھا تھا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مخصوص موقع پر ان کو براہِ راست حکم دیا، توانھوں نے اس حکم نبوی کی تعمیل کی۔ اب کیا کوئی عاقل یہ کہہ سکتا ہے کہ خاوندوں سے اجازت کی پابندی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم پر مقدم تھی۔ حقیقتیہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واقعی عورتوں کو ان کے خاوندوں کی اجازت کے بغیر صدقہ کرنے سے منع کیا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی مناسبت کی وجہ سے ان کو صدقہ کرنے کا حکم صادر فرمائیں گے، تو اس حکم کو خاوندوں کی اجازت پر مقدم سمجھا جائے گا، حالانکہ کوئی ایسی دلیل بھی نہیں ہے کہ انھوں نے اپنی بیویوں کو منع کر رکھا تھا۔
حقیقتیہ ہے کہ امام ابن حزم نے جو مسلک اختیار کیا ہے، ممکن ہے کہ ان کی طرف سے یہ عذر پیش کیا جائے کہ ان کے نزدیک وہ احادیث درجۂ صحت کو نہ پہنچ سکیں، جن میں بیویوں کے صدقہ و خیرات کو خاوندوں کی اجازت کے ساتھ معلق کیا گیا ہے، وگرنہ امام صاحب ان کی فوراً تعمیل کرتے،کیونکہیہ ایک مخصوص اورزائد حکم پر مشتمل ہیں، جس سے ان کی بیان کردہ احادیث خالی ہیں۔
لیکن انھوں نے عمرو بن شعیب عن ابیہ … کی اس حدیث کو اس بنا پر معلول قرار دیا ہے کہ یہ صحیفہ منقطع ہے، جبکہ امام احمد سمیت جمہور علمائے حدیث کے نزدیک عمرو بن شعیب کا صحیفہ موصول ہے۔
پھر ابن حزم نے یہ کہا اگر یہ حدیث صحیح ثابت ہو جائے تو اسے منسوخ سمجھا جائے گا، اس کا جواب دیا جا چکا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ جزئ، کل کو اور خاص، عام کو منسوخ کر دے؟
کافروں کی تہذیبوں کی موافقت کے خواہاں اور اسلام میں حقوقِ نسواں پر بحث کرنے والے نام نہاد مسلمان اس موضوع پر دلالت کرنے والی احادیث سے غافل اور جاہل ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ علمی اعتبار سے ابن حزم کا مذہب ان کے نزدیک راجح ہے، وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ اسلام کی ہدایات کو مغربی کلچر کے قریب تر کر دیا جائے، اس کی ایک شقّ یہ ہے کہ عورت اپنے مال میں خود تصرف کرے۔
لیکن ان بیچاروں کو علم ہونا چاہیے کہ ان دلائل سے ان کو ذرہ برابر بھی فائدہ نہیں ہو گا، کیونکہ وہ تو عورت کو غیر کے مال میں بھی تصرف کرنے اور اسے اولیاء کی اجازت کے بغیر شادی کرنے اور اسے ہم راز اور یار بنانے کی بھی اجازت دیتے ہیں۔ ہمارے اللہ نے سچ فرمایا: {وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَہُوْدُ وَلَا النَّصَارٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَہُمْ}(سورۂ بقرہ: ۱۲۰) … یہودی اور عیسائی اس وقت تک آپ سے ہر گز راضی نہیں ہوں گے، جب تک آپ ان کی ملت کی پیروی نہیں کریں گے۔ (صحیحہ: ۲۵۷۱)
قارئین کرام! یقینا آپ کو اور بالخصوص عورتوں کو اس حکم پر تعجب ہو رہا ہو گا کہ خاوند کی اجازت کے بغیر عورت اپنے مال میں بھی تصرف نہیں کر سکتی۔ اس تعجب کی وجہ ہمارا ماحول ہے، جہاں اکثر خواتین کو اپنے خاوندوں کے گھروں میں مجبور و مظلوم کی حیثیت سے زندگی گزارنا پڑتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کو بہترین قرار دیا جو اپنی بیویوں کے حق میں بہتر ہوتے ہیں۔ خاوند حضرات کو چاہیے کہ وہ حکم نبوی کے مطابق اپنی بیویوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں، دوستانہ ماحول بنائیں، آپس میں خوش و خرم رہیں، ایک دوسرے کی خوشی غمی کو سمجھیںاور دونوں ایک دوسرے کے والدین اور دوسرے قرابت داروں کی قدر کریں۔ نیز خاوند حضرات کو چاہیے کہ وہ اپنی بیویوں کو کچھ تصرف کرنے کی اجازت دے دیں۔ ایسے ماحول میں ان احادیث پر عمل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
عورت اپنے مال میں خاوند کی اجازت کے بغیر تصرف کرسکتی ہے یا نہیں۔ اس بارے حدیث۷۱۱۴ اور ۷۱۱۵ اپنے مفہوم کے اعتبار سے واضح ہے کہ عورت اپنے مال سے کوئی عطیہ وغیرہ دینا چاہتی ہے تو وہ اپنے خاوند سے اجازت لے، پھر یہ کام کرے۔ لیکن ایک حدیث اس بارے صریح ہے کہ خاوند کی اجازت کے بغیر عورت مال خرچ کرسکتی ہے۔ صحیح بخاری (۲۵۹۲) میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی میمونہ بنت حارث نے اپنی لونڈی آزاد کی اور آپ سے اس کی اجازت نہ لی، پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا کہ کیا آپ کو پتا ہے کہ میں نے اپنی لونڈی آزاد کر دی ہے؟ آپ نے فرمایا کیا (واقعۃً) تونے یہ کام کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا! ہاں آپ نے فرمایا اگر تو یہ لونڈی اپنے ماموئوں کو دے دینی تو اس سے تجھے اجر و ثواب زیادہ ملتا ہے۔
جب منع و نہی کے مقابلہ میں یہ حدیث صحیح صریح اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر اپنا مال خرچ کرسکتی ہے تو اس حدیث کو جواز پر محمول کرنا چاہیے اور نہی کو نہی تنزیہی پر، اس طرح دونوں کی احادیث پر عمل ہو جائے گا امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث پر یہ باب قائم کیا ہے باب ہبۃ المرأۃ لغیر زوجہا وعتقہا اذا کان لہا زوج فہو جائز اذا کانت سفیھۃً اس بات کا بیان کہ عورت اپنے خاوند کے علاوہ کسی کو تحفہ دے سکتی ہے اور غلام وغیرہ آزاد کرسکتی ہے خواہ اس کا خاوند ہو، یہ جائز ہے جب وہ بے وقوف نہ ہو۔ خلاصہیہ ہے کہ بہتر ہے کہ عورت اپنے خاوند کی اجازت کے ساتھ مال خرچ کرے لیکن اگر وہ اس کے بغیر بھی مال میں تصرف کرتی ہے تو یہ جائز ہے۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7116
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةُ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ عِنْدَهُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ زَوْجِي صَفْوَانَ بْنَ الْمُعَطَّلِ يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ وَيُفَطِّرُنِي إِذَا صُمْتُ وَلَا يُصَلِّي صَلَاةَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ قَالَ وَصَفْوَانُ عِنْدَهُ قَالَ فَسَأَلَهُ عَمَّا قَالَتْ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَّا قَوْلُهَا يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ فَإِنَّهَا تَقْرَأُ بِسُورَتَيْنِ فَقَدْ نَهَيْتُهَا عَنْهُمَا قَالَ فَقَالَ لَوْ كَانَتْ سُورَةٌ وَاحِدَةٌ لَكَفَتِ النَّاسَ وَأَمَّا قَوْلُهَا يُفَطِّرُنِي فَإِنَّهَا تَصُومُ وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ فَلَا أَصْبِرُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ لَا تَصُومَنَّ امْرَأَةٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا قَالَ وَأَمَّا قَوْلُهَا بِأَنِّي لَا أُصَلِّي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ قَدْ عُرِفَ لَنَا ذَاكَ لَا نَكَادُ نَسْتَيْقِظُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ قَالَ فَإِذَا اسْتَيْقَظْتَ فَصَلِّ وَفِي رِوَايَةٍ وَأَمَّا قَوْلُهَا إِنِّي لَا أُصَلِّي حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِنِّي ثَقِيلُ الرَّأْسِ وَأَنَا مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ يُعْرَفُونَ بِذَاكَ بِثِقَلِ الرُّؤُوسِ قَالَ فَإِذَا قُمْتَ فَصَلِّ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ کی بیوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے شوہر سیدنا صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ کی صورتحال یہ ہے کہ جب میں نماز پڑھتی ہوں تو وہ مجھے مارتا ہے، جب میں روزہ رکھتی ہوں تو میرا روزہ افطار کروا دیتا ہے اور وہ طلوع آفتاب کے بعد نمازِ فجر ادا کرتا ہے، اس وقت سیدنا صفوان بھی وہاں موجود تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے ان کی بیوی کے اعتراضات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کا یہ کہنا کہ جب وہ نماز پڑھتی ہے تو میں اس کو مارتا ہوں، تو بات یہ ہے کہ یہ دو طویل سورتیں پڑھتی ہے، جبکہ میں نے اس کو ان سے منع کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر ایک سورت بھی پڑھ لی جائے تو وہ لوگوں کے لئے کافی ہے۔ اس نے پھر کہا: اس کا یہ کہنا کہ جب وہ روزہ رکھتی ہے تو میں اس کو افطار کروا دیتا ہوں، اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نوجوان آدمی ہوں اور میں خود پر قابو نہیں رکھ سکتا، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن فرمایا تھا کہ کوئی عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر ہر گز (نفلی) روزہ نہ رکھے۔ ا ور اس کا یہ کہنا کہ میں نماز فجر طلوع آفتاب کے بعد پڑھتا ہوں، تو گزارش یہ ہے کہ ہم اس قبیلے کے لوگ ہیں کہ ہم سورج طلوع ہونے سے پہلے بیدار ہی نہیں ہو سکتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو بیدار ہو اسی وقت نماز پڑھ لیا کرو۔ ایک روایت میں ہے: سیدنا صفوان رضی اللہ عنہ نے کہا: پس بیشک میرا سر بوجھل رہتا ہے اور ہمارا سارا کنبہ ہی ایسا ہے کہ ہمارے بارے میں یہ معروف ہے کہ ہمارے سر بوجھل رہتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو بیدار ہو تو اسی وقت نماز پڑھ لیا کرو۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 7116]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 2459، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11759 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11781»
وضاحت: فوائد: … دو طویل سورتوں سے مراد یہ ہے کہ اس کے خاوند نے اپنی بیوی کو لمبا قیام کرنے سے منع کیا ہوا تھا۔ معلوم ہوا کہ خاوند کی خدمت کو لمبے قیام اور نفل نماز پر ترجیح دی جائے۔
بہرحال ان روایات کا یہ مفہوم بھی نہیں ہے کہ بیوی عبادات، ذکرو تلاوت سے کلی طور پر غافل ہو جائے، جب وہ فکر کرے گی تو خاوند کی خدمت کے ساتھ ساتھ اس کو موقع ملتا رہے گا اور خاوند کو بھی چاہیے کہ وہ بھی اپنی بیوی کا ہر لحاظ سے پاس و لحاظ رکھے، آخر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس جوڑے کے لیے خاص دعا کی ہے، جو رات کو اٹھ کر اکٹھا قیام کرتا ہے۔
خاوند کی فرمانبردار ی کرنا بیوی پر فرض ہے، کسی کو سجدہ کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے سامنے انتہائی عاجزی و انکساری اور اطاعت و فرمانبرداری کا اظہار کیا جائے۔ اگر یہ انداز اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کے لیے جائز ہوتا تو وہ صرف بیوی ہوتی جو اپنے خاوند کے سامنے اطاعت کا اظہار کرتی۔
بیویوں کو شاکر اور صابر ہونا چاہیے، ہر وقت طعن کرنے اور خاوند کے منفی پہلوؤں پر کڑی نگاہ رکھنے سے بچنا چاہیے، امہات المؤمنین اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹیوں کی مثالیں ان کے لیے اسوۂ حسنہ ہیں، دنیا صرف یہی نہیں کہ کھانے پینے اور لباس میں اعلی معیار اختیار کر لیا جائے، خاوند کی اطاعت اللہ تعالی اور اس کے رسول کا حکم ہے، اس لیے ہر ممکنہ حد تک ان کی اقتداء کی جائے۔
اچھی بیوی کی صفات پر مشتمل ایک اور حدیث ِ مبارکہ درج ذیل ہے:
سیدنا انس، سیدنا ابن عباس اور سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِنِسَائِکُمْ فِی الْجَنَّۃِ؟ کُلُّ وَدُوْدٍ وَلُوْدٍ إِذَا غُضِبَتْ أَوْ أُسِیَ إِلَیْھَا أَوْ غَضِبَ زَوْجُھَا قَالَتْ: ھٰذِہٖیَدِی فِییَدِکَ لَا أَکْتَحِلُ بِغَمْضٍ حَتّٰی تَرْضٰی۔)) … اب کیا میں تمھیں جنت میں داخل ہونے والی عورتوں کی خبر نہ دوں؟ ہر محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جنم دینے والی خاتون، کہ جب اس پر غصے کیا جاتا ہے یا اس کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہے یا اس کا خاوند اس پر غصے ہوتا ہے تو وہ (اپنے خاوند سے) کہتی ہے: یہ میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں ہے، میں اس وقت تک نہیں سوؤں گی، جب تک تم مجھ سے راضی نہیں ہو جاتے۔
(معجم کبیر، معجم اوسط، معجم صغیر، شعب الایمان، صحیحہ: ۳۳۸۰)
بہرحال ان روایات کا یہ مفہوم بھی نہیں ہے کہ بیوی عبادات، ذکرو تلاوت سے کلی طور پر غافل ہو جائے، جب وہ فکر کرے گی تو خاوند کی خدمت کے ساتھ ساتھ اس کو موقع ملتا رہے گا اور خاوند کو بھی چاہیے کہ وہ بھی اپنی بیوی کا ہر لحاظ سے پاس و لحاظ رکھے، آخر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس جوڑے کے لیے خاص دعا کی ہے، جو رات کو اٹھ کر اکٹھا قیام کرتا ہے۔
خاوند کی فرمانبردار ی کرنا بیوی پر فرض ہے، کسی کو سجدہ کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے سامنے انتہائی عاجزی و انکساری اور اطاعت و فرمانبرداری کا اظہار کیا جائے۔ اگر یہ انداز اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کے لیے جائز ہوتا تو وہ صرف بیوی ہوتی جو اپنے خاوند کے سامنے اطاعت کا اظہار کرتی۔
بیویوں کو شاکر اور صابر ہونا چاہیے، ہر وقت طعن کرنے اور خاوند کے منفی پہلوؤں پر کڑی نگاہ رکھنے سے بچنا چاہیے، امہات المؤمنین اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹیوں کی مثالیں ان کے لیے اسوۂ حسنہ ہیں، دنیا صرف یہی نہیں کہ کھانے پینے اور لباس میں اعلی معیار اختیار کر لیا جائے، خاوند کی اطاعت اللہ تعالی اور اس کے رسول کا حکم ہے، اس لیے ہر ممکنہ حد تک ان کی اقتداء کی جائے۔
اچھی بیوی کی صفات پر مشتمل ایک اور حدیث ِ مبارکہ درج ذیل ہے:
سیدنا انس، سیدنا ابن عباس اور سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِنِسَائِکُمْ فِی الْجَنَّۃِ؟ کُلُّ وَدُوْدٍ وَلُوْدٍ إِذَا غُضِبَتْ أَوْ أُسِیَ إِلَیْھَا أَوْ غَضِبَ زَوْجُھَا قَالَتْ: ھٰذِہٖیَدِی فِییَدِکَ لَا أَکْتَحِلُ بِغَمْضٍ حَتّٰی تَرْضٰی۔)) … اب کیا میں تمھیں جنت میں داخل ہونے والی عورتوں کی خبر نہ دوں؟ ہر محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جنم دینے والی خاتون، کہ جب اس پر غصے کیا جاتا ہے یا اس کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہے یا اس کا خاوند اس پر غصے ہوتا ہے تو وہ (اپنے خاوند سے) کہتی ہے: یہ میرا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں ہے، میں اس وقت تک نہیں سوؤں گی، جب تک تم مجھ سے راضی نہیں ہو جاتے۔
(معجم کبیر، معجم اوسط، معجم صغیر، شعب الایمان، صحیحہ: ۳۳۸۰)
الحكم على الحديث: صحیح