🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. بَابُ مَا جَاءَ فِي إِحْدَادِ مُعْتَدَّةِ الْوَفَاةِ وَ مَا تَجْتَنِبُهُ
متوفّٰی عنہا زوجہا عورت کے سوگ اور پابندیوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7238
عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّهَا إِنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ زَوْجُهَا فَاشْتَكَتْ عَيْنُهَا، فَذَكَرُوهَا لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وآله وسلم وَذَكَرُوا الْكُحْلَ، قَالُوا: نَخَافُ عَلَى عَيْنِهَا، قَالَ صلى الله عليه وآله وسلم: ( (قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَمْكُثُ فِي بَيْتِهَا فِي شَرِّ أَحْلَاسِهَا فِي شَرِّ بَيْتِهَا حَوْلًا فَإِذَا مَرَّ بِهَا كَلْبٌ رَمَتْ بِبَعْرَةٍ أَفَلَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا۔) )
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہوا اور اس کی آنکھ خراب ہو گئی، اس کے گھر والوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کا ذکر کیا اور سرمہ ڈالنے کی اجازت چاہی، انہوں نے کہا کہ ہمیں اندیشہ ہے کہ اس کی آنکھوں کا نقصان نہ ہو جائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ایک عورت اپنے گھر میں بدترین لباس میں بدترین مقام پر ایک سال تک ٹھہرا کرتی تھی اور جب اس کے پاس سے کتا گزرتا تھا تو لید پھینکا کرتی تھی، کیا اب وہ چار ماہ دس دن بھی صبر نہیں کر سکتی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ العَدَدِ/حدیث: 7238]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5338، ومسلم: 1488، وابوداود: 2299، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26501 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27034»
وضاحت: فوائد: … جاہلیت میں سوگ والی عورت ایک علیحدہ چھوٹا سا کمرہ تیار کر لیتی اور سب سے نکمے کپڑے پہن لیتی تھی اورخوشبو کو ہاتھ نہ لگاتی تھی، ایک سال تک اسی حالت میں عدت گزارتی تھی اور جب فارغ ہوتی تو سال کے آخر میں شرم گاہ پر لید لگا کر باہر پھینکتی کہ آج میں عدت سے فارغ ہو گئی ہوں، اللہ تعالیٰ نے سال کی عدت ختم کرکے چار ماہ دس دن کر دی ہے اور اس میں بھی جاہلیت کی کئی پابندیاں اٹھا دیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5338
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7239
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رضي الله عنها عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وآله وسلم أَنَّهُ قَالَ: ( (الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا لَا تَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ مِنَ الثِّيَابِ وَلَا الْمُمَشَّقَةَ وَلَا الْحُلِيَّ وَلَا تَخْتَضِبُ وَلَا تَكْتَحِلُ۔) )
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت کے بارے میں جس کا خاوند فوت ہوجائے حکم دیا کہ وہ کسنبے سے رنگا ہوا زرد کپڑا اور مشق (گیرو) سے رنگا ہوا کپڑا اور زیورات نہ پہنے اور نہ وہ خضاب لگائے اور نہ سرمہ ڈالے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ العَدَدِ/حدیث: 7239]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 2304، والنسائي: 6/ 203، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26581 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27116»
وضاحت: فوائد: … سرخ مٹی کو گیرو کہتے ہیں، جس سے کپڑا رنگا جاتا تھا۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7240
عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَزِيدُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا تُحِدُّ الْمَرْأَةُ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا عَصْبًا وَلَا تَكْتَحِلُ وَلَا تَمَسُّ طِيبًا إِلَّا عِنْدَ طُهْرِهَا قَالَ يَزِيدُ أَوْ فِي طُهْرِهَا فَإِذَا طَهُرَتْ مِنْ حَيْضِهَا نُبْذَةً مِنْ قُسْطٍ وَأَظْفَارٍ۔) )
۔ سیدہ ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی عورت تین دن سے زیادہ کسی میت پر سوگ نہ منائے، ما سوائے خاوند کے کہ اس کی وفات پر بیوی چار ماہ دس دن سوگ منائے گی، اس دوران وہ رنگا ہوا لباس نہیں پہنے گی، البتہ رنگے ہوئے سوت کا کپڑا پہن سکتی ہے، وہ نہ سرمہ لگائے اور نہ ہی خوشبو استعمال کرے، البتہ حیض سے طہارت کے وقت عود ہندی یامشک استعمال کر سکتی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ العَدَدِ/حدیث: 7240]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5341، ومسلم: 938، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27304 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27847»
وضاحت: فوائد: … سنن نسائی کی روایت میں وَلَاتَمْشِطُ کے الفاظ بھی ہے، یعنی ایسی عورت کنگھی بھی نہ کرے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5341
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7241
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ سَمِعْتُ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ تُوُفِّيَ حَمِيمٌ لِأُمِّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَدَعَتْ بِصُفْرَةٍ فَمَسَحَتْ بِذِرَاعَيْهَا وَقَالَتْ إِنَّمَا أَصْنَعُ هَذَا لِشَيْءٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ حَجَّاجٌ لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجِهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَحَدَّثَتْهُ زَيْنَبُ عَنْ أُمِّهَا وَعَنْ زَيْنَبَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ عَنْ امْرَأَةٍ مِنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ام المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا ایک نہایت قریبی رشتہ دار فوت ہو، سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے زرد رنگ کی خوشبو منگوائی اسے اپنے بازؤں پر ملا اور کہا: میں نے ایسا اس لیے کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان عورت اللہ تعالیٰ اور روز آخرت پر یقین رکھتی ہے، اس کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ تین دنوں یا تین راتوں سے اوپر سوگ منائے، ما سوائے اس خاتون کے، جس کا شوہر فوت ہو جائے، وہ اس پر چار ماہ دس دن سوگ منائے گی۔ یہ روایت زینب نے اپنی ماں سیدہ ام سلمہ سے اور انہوں نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے یا امہات المومنین میں سے کسی ام المومنین سے بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ العَدَدِ/حدیث: 7241]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5339، ومسلم: 1486، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26766 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27302»
وضاحت: فوائد: … ان روایات میں خواتین کے لیے سوگ کے احکام و آداب بیان کیے گئے ہیں، یاد رہے کہ مرد کا ان احکام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ایسی خاتون کو شوخ، بھڑکیلے اور پھول دار لباس سے بچنا چاہیے، سادہ کپڑے پہننے چاہئیں، جن میں عموما زیب و زینت کا اظہار نہیںہوتا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5339
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں