🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. بَابُ ثَوَابِ مَنْ أَنْفَقَتْ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ وَوَعِيدِ مَنْ أَفْسَدَتْ
بغیر فساد اور اسراف کے خاوند کے گھر سے خرچ کرنے والی بیوی کے ثواب¤اور اسراف کرنے والی کی وعید کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7264
عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَنْفَقَتْ وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ إِذَا أَطْعَمَتْ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ إِذَا أَنْفَقَتْ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ كَانَ لَهَا أَجْرُهَا وَلَهُ مِثْلُ ذَلِكَ بِمَا كَسَبَ وَلَهَا بِمَا أَنْفَقَتْ وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِكَ قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی عورت اپنے خاوند کے گھر سے کسی پر خرچ کرے یا اسے کھلائے، لیکن بیچ میں فساد اور اسراف کا ارادہ نہ ہو توجتنا اجر اس عورت کو ملے گا، اتنا اجر اس کے خاوند کو ملے گا، کیونکہ اس نے کمایا ہے اور اس عورت کو اجر اس بنا پر ثواب ملے گا کہ اس نے خرچ کیا ہے، اس طرح خزانچی کو بھی ثواب ملے گا اور کسی کی وجہ سے کسی کے اجر میں کمی واقع نہیں ہو گی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 7264]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1024، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24171 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24673»
وضاحت: فوائد: … اصل کمائی تو خاوند کی ہی ہے، چونکہ اس عمل میں اس کی بیوی اور خزانچی بھی شریک ہیں، اس لیے وہ بھی اپنے حصے کا ثواب لیںگے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1024
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7265
عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي عَلَى ضَرَّةٍ فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ أَتَشَبَّعَ مِنْ زَوْجِي بِمَا لَمْ يُعْطِنِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ
۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری ایک سوکن ہے، کیا اس میں کوئی حرج والی بات تو نہیں کہ میں تکلف سے اس چیز کی کثرت کا اظہار کروں جو کہ مجھے خاوند نے نہ دی ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس چیز کا تکلف سے اظہار کرنے والا، جو وہ دیا نہیں گیا، اسی طرح ہے جس طرح جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 7265]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5219، ومسلم: 2130، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26921 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27460»
وضاحت: فوائد: … یہ عورت خود سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا تھیں اور اور ان کی سوکن سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا تھیں، یہ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی بیویاں تھیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5219
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7266
عَنْ أُمِّهِ عَنْ سَلْمَى بِنْتِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَكَانَتْ إِحْدَى خَالَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّتْ مَعَهُ الْقِبْلَتَيْنِ وَكَانَتْ إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي عَدِيِّ بْنِ النَّجَّارِ قَالَتْ جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْتُهُ فِي نِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَلَمَّا شَرَطَ عَلَيْنَا أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا نَسْرِقَ وَلَا نَزْنِيَ وَلَا نَقْتُلَ أَوْلَادَنَا وَلَا نَأْتِيَ بِبُهْتَانٍ نَفْتَرِيهِ بَيْنَ أَيْدِينَا وَأَرْجُلِنَا وَلَا نَعْصِيهُ فِي مَعْرُوفٍ قَالَ وَلَا تَغْشُشْنَ أَزْوَاجَكُنَّ قَالَتْ فَبَايَعْنَاهُ ثُمَّ انْصَرَفْنَا فَقُلْتُ لِامْرَأَةٍ مِنْهُنَّ ارْجِعِي فَاسْأَلِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا غِشُّ أَزْوَاجِنَا قَالَتْ فَسَأَلَتْهُ فَقَالَ تَأْخُذُ مَالَهُ فَتُحَابِي بِهِ غَيْرَهُ
۔ سیدہ سلمیٰ بنت قیس رضی اللہ عنہا، جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خالہ تھیں اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دو قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، یہ بنو عدی بن نجار کی ایک خاتون تھیں، ان سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور انصار کی عورتوں میں شامل ہو کر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم پر یہ شرطیں عائد کیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کریں، نہ چوری کریں،نہ بدکاری کریں،نہ اپنی اولاد کو قتل کریں، نہ ہم بہتان باندھیں گی اور نہ ہی نیکی کے معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کریں گی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے یہ بھی فرمایا تھا کہ تم نے اپنے خاوندوں سے دغا نہیں کرنا۔ پس ہم نے ان امور پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی، جب ہم واپس ہوئیں تومیں نے ان میں سے ایک عورت سے کہا: تم لوٹ جاؤ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرو کہ خاوندوں کیساتھ دغا نہ کرنے کا کیا مطلب ہے؟ جب وہ پوچھ کر آئی تو اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دغا یہ ہے کہ خاوند کامال لے کر عطیات دوسروں کو دیتی پھرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّفَقَاتِ/حدیث: 7266]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، سلِيط بن ايوب بن الحكم، قال بن حجر: مقبول، وأمه لم نقف لھا علي ترجمة، ثم انه قد اختلف فيه علي ابن اسحاق، أخرجه الطبراني في الكبير: 24/ 751، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27133 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27674»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن اس میں مذکورہ امور بیعت میں شامل تھے، بیوی کو خاوند کے مال سے

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں