🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. بَابُ ثَوَابِ مَنْ أَنْفَقَتْ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ وَوَعِيدِ مَنْ أَفْسَدَتْ
بغیر فساد اور اسراف کے خاوند کے گھر سے خرچ کرنے والی بیوی کے ثواب¤اور اسراف کرنے والی کی وعید کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7266
عَنْ أُمِّهِ عَنْ سَلْمَى بِنْتِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَكَانَتْ إِحْدَى خَالَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّتْ مَعَهُ الْقِبْلَتَيْنِ وَكَانَتْ إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي عَدِيِّ بْنِ النَّجَّارِ قَالَتْ جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْتُهُ فِي نِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَلَمَّا شَرَطَ عَلَيْنَا أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا نَسْرِقَ وَلَا نَزْنِيَ وَلَا نَقْتُلَ أَوْلَادَنَا وَلَا نَأْتِيَ بِبُهْتَانٍ نَفْتَرِيهِ بَيْنَ أَيْدِينَا وَأَرْجُلِنَا وَلَا نَعْصِيهُ فِي مَعْرُوفٍ قَالَ وَلَا تَغْشُشْنَ أَزْوَاجَكُنَّ قَالَتْ فَبَايَعْنَاهُ ثُمَّ انْصَرَفْنَا فَقُلْتُ لِامْرَأَةٍ مِنْهُنَّ ارْجِعِي فَاسْأَلِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا غِشُّ أَزْوَاجِنَا قَالَتْ فَسَأَلَتْهُ فَقَالَ تَأْخُذُ مَالَهُ فَتُحَابِي بِهِ غَيْرَهُ
۔ سیدہ سلمیٰ بنت قیس رضی اللہ عنہا، جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خالہ تھیں اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دو قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، یہ بنو عدی بن نجار کی ایک خاتون تھیں، ان سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور انصار کی عورتوں میں شامل ہو کر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم پر یہ شرطیں عائد کیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کریں، نہ چوری کریں،نہ بدکاری کریں،نہ اپنی اولاد کو قتل کریں، نہ ہم بہتان باندھیں گی اور نہ ہی نیکی کے معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کریں گی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے یہ بھی فرمایا تھا کہ تم نے اپنے خاوندوں سے دغا نہیں کرنا۔ پس ہم نے ان امور پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی، جب ہم واپس ہوئیں تومیں نے ان میں سے ایک عورت سے کہا: تم لوٹ جاؤ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرو کہ خاوندوں کیساتھ دغا نہ کرنے کا کیا مطلب ہے؟ جب وہ پوچھ کر آئی تو اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دغا یہ ہے کہ خاوند کامال لے کر عطیات دوسروں کو دیتی پھرو۔ [الفتح الربانی/كتاب النفقات/حدیث: 7266]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، سلِيط بن ايوب بن الحكم، قال بن حجر: مقبول، وأمه لم نقف لھا علي ترجمة، ثم انه قد اختلف فيه علي ابن اسحاق، أخرجه الطبراني في الكبير: 24/ 751، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27133 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27674»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن اس میں مذکورہ امور بیعت میں شامل تھے، بیوی کو خاوند کے مال سے

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف


Al-Fath al-Rabbani Hadith 7266 in Urdu