الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَكْلِ مِنْ جَوَانِبِ الْقَصْعَةِ مِمَّا يَلِي الْآكِلَ
کھانے والے کا پلیٹ کے اس حصے سے کھانا، جو اس کے سامنے ہو
حدیث نمبر: 7409
عَنْ أَبِي رَجْزَةَ السَّعْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ زَادَ فِي رِوَايَةٍ رَبِيبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ يَأْكُلُهُ فَقَالَ ادْنُ فَسَمِّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَكُلْ بِيَمِينِكَ وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ
۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پروردہ سیدنا عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اس کھانے کے لیے بلایا، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھا رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریب ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ کا نام لو، دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7409]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5378، ومسلم: 2022، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16339 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16449»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 5378
حدیث نمبر: 7410
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ مِنْ ثَرِيدٍ فَقَالَ كُلُوا مِنْ حَوْلِهَا وَفِي لَفْظٍ مِنْ جَوَانِبِهَا وَلَا تَأْكُلُوا مِنْ وَسَطِهَا فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ فِي وَسَطِهَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ثرید کا ایک پیالہ لایا گیا، آپ نے فرمایا: اس کے ارد گرد یا کناروں سے کھاؤاور اس کے درمیان سے نہ کھاؤ، کیونکہ درمیان میں برکت نازل ہوتی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7410]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 3772 وأخرجه بنحوه ابن ماجه: 3277، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2730 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2730»
الحكم على الحديث: اسناده حسن
حدیث نمبر: 7411
عَنْ وَاثِلَةَ يَعْنِي ابْنَ الْأَسْقَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بِقُرْصٍ فَكَسَرَهُ فِي الْقَصْعَةِ وَصَنَعَ فِيهَا مَاءً سُخْنًا ثُمَّ صَنَعَ فِيهَا وَدَكًا ثُمَّ سَفْسَفَهَا ثُمَّ لَبَّقَهَا ثُمَّ صَعْنَبَهَا ثُمَّ قَالَ اذْهَبْ فَأْتِنِي بِعَشَرَةٍ أَنْتَ عَاشِرُهُمْ فَجِئْتُ بِهِمْ فَقَالَ كُلُوا وَكُلُوا مِنْ أَسْفَلِهَا وَلَا تَأْكُلُوا مِنْ أَعْلَاهَا فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ مِنْ أَعْلَاهَا فَأَكَلُوا مِنْهَا حَتَّى شَبِعُوا
۔ سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں صفہ والوں میں سے تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن روٹی منگوائی، اس کے ٹکڑے کئے، ان کو ایک پیالہ میں ڈالا، پھر اس میں پانی،چربی اور چھنا ہوا آٹا ڈالا، پھر اسے خوب مکس کیا، پھر آپ نے اس کو کناروں سے ملا کر اونچا ڈھیر سا بنا دیا اور پھر مجھ سے فرمایا: جاؤ اور اپنے سمیت دس آدمیوں کو میرے پاس لاؤ۔ میں انہیں لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ اور اس پیالہ کی نچلی جانب سے کھاؤ، اس کی اوپر والی جانب سے نہیں کھانا، کیونکہ اوپر والی جانب سے برکت نازل ہوتی ہے، پھر انہوں نے کھایا، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7411]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه مختصرا ابن ماجه: 3276، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16006 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16102»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث ِ مبارکہ میں کھانے کے مختلف آداب کا بیان ہے، پلیٹ کی اس طرف سے کھانا کھانا شروع کیا جائے، جو آدمی کے سامنے ہو اور درمیان سے بھی کھانا شروع نہ کیا جائے، وگرنہ بے برکتی ہو جاتی ہے۔
الحكم على الحديث: اسناده حسن