الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. بَابُ النَّهْي عَنِ الْقِرَانِ وَالنُّهْبَةِ وَالنَّفْخِ فِي الطَّعَامِ والشراب
ایک سے زائد اکٹھی کھجوریں کھانے، لوٹنے اور کھانے اور مشروب میں پھونک مارنے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 7405
عَنْ سَعْدٍ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدَّمْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَمْرًا فَجَعَلُوا يَقْرُنُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَقْرُنُوا
۔ مولائے ابو بکر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھجوریں پیش کیں، لوگوں نے دو تین تین کھجوریں اکٹھی منہ میں ڈالنا شروع کر دیں، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح ملا کر نہ کھاؤ (یعنی ایک ایک کھجور منہ میں ڈال کر کھاؤ، نہ کہ دو تین تین)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7405]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابن ماجه: 3332، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1716 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1716»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 7406
حَدَّثَنَا جَبَلَةُ قَالَ كُنَّا بِالْمَدِينَةِ فِي بَعْثِ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَأَصَابَتْنَا سَنَةٌ فَجَعَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَرْزُقُنَا التَّمْرَ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَمُرُّ بِنَا فَيَقُولُ لَا تُقَارِنُوا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْقِرَانِ إِلَّا أَنْ يَسْتَأْمِرَ الرَّجُلُ مِنْكُمْ أَخَاهُ وَفِي لَفْظٍ إِلَّا أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ أَخَاهُ قَالَ شُعْبَةُ لَا أَرَى فِي الِاسْتِئْذَانِ إِلَّا أَنَّ الْكَلِمَةَ مِنْ كَلَامِ ابْنِ عُمَرَ
۔ جبلہ بن سحیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم مدینہ میں تھے، یہ اہل عراق کی جانب ایک لشکر بھیجنے کے دور کی بات ہے، ہم قحط سالی سے دو چار ہو گئے۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ہمیں کھجوریں دیں، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے قریب سے گزرے اور کہا: دو تین تین ملا کر نہ کھانا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ملا کر کھانے سے منع فرمایا ہے الا کہ آدمی اپنے بھائی سے اجازت لے لے۔ امام شعبہ کہتے ہیں: یہ اجازت دینے والا جملہ میرے خیال میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہماکا اپنا کلام ہے، (حدیث کا حصہ نہیں ہے)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7406]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2045، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5435 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5435»
وضاحت: فوائد: … امام نووی نے کہا: یہ امام شعبہ کا اپنا گمان ہے، اس سے حدیث کا مرفوع ہونا متاثر نہیں ہو گا، کیونکہ امام سفیان نے دوسری روایت کے مطابق یہ حدیث اس طرح بیان کی ہے: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَنْ یَقْرِنَ الرَّجُلُ بَیْنَ التَّمْرَتَیْنِ حَتّٰی یَسْتَأْذِنَ اَصْحَابَہٗ۔ … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چیز سے منع فرمایا ہے کہ آدمی دو دو کھجوریں ملا کر کھائے، الا یہ کہ اپنے ساتھیوں سے اجازت لے لے۔
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 2045
حدیث نمبر: 7407
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النُّهْبَةِ وَمَنِ انْتَهَبَ فَلَيْسَ مِنَّا
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوٹ مار سے منع کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے لوٹ مار کی وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7407]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 7/ 57، والبزار: 1733، والطحاوي في شرح مشكل الآثار: 1316، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12598 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12626»
وضاحت: فوائد: اس حدیث کو یہاں لانے کا مقصد یہ ہے کہ کھانے کی چیز بکھیر دینا اور پھر اس پر جھپٹ پڑنا، جیسا کہ بعض علاقوں میں شادیوں کے موقع پر ہوتا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ دیکھیں حدیث نمبر (۷۰۵۲)
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 7408
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّفْخِ فِي الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانے اور پینے کی چیز میں پھونک مارنے سے منع کیا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الأَطْعِمَةِ/حدیث: 7408]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري، أخرجه ابوداود: 3728، وابن ماجه: 3429، والترمذي: 1888، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2817 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2817»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط البخاري