🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. بَابُ الْمُؤْمِنِ يَشْرَبُ فِي مِعَى وَاحِدٍ
مومن کم پیتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7447
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ضَافَهُ ضَيْفٌ وَهُوَ كَافِرٌ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ فَحُلِبَتْ فَشَرِبَ الْكَافِرُ حِلَابَهَا ثُمَّ أُخْرَى فَشَرِبَهُ ثُمَّ أُخْرَى فَشَرِبَهُ حَتَّى شَرِبَ حِلَابَ سَبْعِ شِيَاهٍ ثُمَّ إِنَّهُ أَصْبَحَ فَأَسْلَمَ فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ فَشَرِبَ حِلَابَهَا ثُمَّ أَمَرَ بِأُخْرَى فَلَمْ يَسْتَتِمَّهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کافر مہمان کی میزبانی کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ ایک بکری کا دودھ دوہاجائے، پس اس کا دودھ دوہا گیا، اس کافر نے اس کا دوہا ہوا سارا دودھ پی لیا،پھر دوسری کا بھی پی گیا، پھر تیسری کا بھی پی گیا یہاں تک کہ سات بکریوں کا دودھ پی گیا، جب صبح ہوئی تو وہ مسلمان ہو گیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا، تو اس نے ایک بکری کا دوہا ہوا دودھ پی لیا،پھر آپ نے دوسری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا، پس وہ دوسری بکری کا دودھ پورا نہ پی سکا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن ایک انتڑی میں کھاتا ہے اور کافر سات انتڑیوں میں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْاشْرِبَةِ/حدیث: 7447]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2063، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8879 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8866»
وضاحت: فوائد: … مراد یہ ہے کہ کافر زیادہ کھاتا ہے اور مومن کم، اس کی وجہ یہ ہے کہ مومن عبادت کے اسباب میں مصروف بھی رہتا ہے اور اس کے وجود کو عبادت کی وجہ سے بھی غذا ملتی ہے، نیز وہ یہ بھی جانتا ہے کہ شریعت کا مقصود یہ ہے کہ کھانے پینے کے معاملے میں گزارہ کیا جائے اور شہوات اور چسقوں کے پیچھے نہ پڑھا جائے، ان امور کی وجہ سے اس کا تھوڑی مقدار والا کھانا بابرکت ثابت ہوتا ہے، جبکہ کافر ان تمام امور سے عاری اور غافل ہوتا ہے، اس کا سب کچھ دنیا ہے، سو وہ اس کی لذتوں میں کھویا ہوا ہوتا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں