الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابُ مَا جَاءَ فِي اللَّبَنِ وَشُرْبِهِ وَحُلْبِهِ وَغَيْرِهِ ذَلِكَ الأَنبدَةُ الْجَائِرَةُ وَالْمُحَرَّمة
دودھ، اس کو پینے اور اس کو دوہنے وغیرہ کا بیان
حدیث نمبر: 7478
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِاللَّبَنِ قَالَ كَمْ فِي الْبَيْتِ بَرَكَةً أَوْ بَرَكَتَيْنِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دودھ لایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: (دودھ کی وجہ سے) گھر میں کتنی برکت ہے یا دو برکتیں ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْاشْرِبَةِ/حدیث: 7478]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ام سالم الراسبية مجھولة، أخرجه ابن ماجه: 3321، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25124 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25637»
وضاحت: فوائد: … دودھ اس وجہ سے برکت والا قرار دیا گیا ہے کہ یہ کھانے اور پانی دونوں کی جگہ کفایت کر جاتا ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 7479
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي عَلَى مُعَاوِيَةَ فَأَجْلَسَنَا عَلَى الْفُرُشِ ثُمَّ أُتِينَا بِالطَّعَامِ فَأَكَلْنَا ثُمَّ أُتِينَا بِالشَّرَابِ فَشَرِبَ مُعَاوِيَةُ ثُمَّ نَاوَلَ أَبِي ثُمَّ قَالَ مَا شَرِبْتُهُ مُنْذُ حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مُعَاوِيَةُ كُنْتُ أَجْمَلَ شَبَابِ قُرَيْشٍ وَأَجْوَدَهُ ثَغْرًا وَمَا شَيْءٌ كُنْتُ أَجِدُ لَهُ لَذَّةً كَمَا كُنْتُ أَجِدُهُ وَأَنَا شَابٌّ غَيْرُ اللَّبَنِ أَوْ إِنْسَانٍ حَسَنِ الْحَدِيثِ يُحَدِّثُنِي
۔ سیدنا عبد اللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اور میرے باپ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، انہوں نے ہمیں بچھونوں پر بٹھایا اور کھانا کھلایا، پھر ہمارے پاس ایک پینے کی چیز لائی گئی، سیدنا معاویہ نے وہ پی اور میرے ابا جان کو پکڑا دی، میرے ابا جان نے کہا: اسے جب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے میں نے اس وقت سے اسے نہیں پیا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں قریش میں سے سب سے زیادہ صاحب جمال ہوں اور سب سے عمدہ دانتوں والا ہوں، میں نے تو اپنی جوانی میں اس جیسی لذت کسی اورچیز میں نہیں پائی،البتہ دودھ میں اس سے زیادہ لذت ہے یا وہ انسان بھی بڑا لذت انگیز لگتا ہے، جو مجھ سے اچھی بات کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْاشْرِبَةِ/حدیث: 7479]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه ابن ابي شيبة: 11/ 94، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22941 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23329»
وضاحت: فوائد: … اس سے ثابت ہوا کہ دودھ ایک لذت انگیز اور برکت آمیز غذا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7480
عَنْ ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي أَهْلِي بِلَقُوحٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنِي أَنْ أَحْلِبَهَا فَحَلَبْتُهَا فَقَالَ دَعْ دَاعِيَ اللَّبَنِ
۔ سیدنا ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے بعض اہل خانہ نے مجھے دودھ والی اونٹنی دے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجا، میں وہ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کو دوہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (مزید دودھ) کا سبب بننے والا دودھ (تھنوں میں) چھوڑ دیا کر۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْاشْرِبَةِ/حدیث: 7480]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال يعقوب بن بحير، أخرجه البخاري في التاريخ الكبير: 4/ 339، والطبراني في الكبير: 8129، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16704 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16824»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ دوہنے والے کو چاہیے کہ وہ دودھ کی کچھ مقدار تھنوں میں باقی رہنے دے اور ان کو مکمل نہ نچوڑ لے، کیونکہ دوہنے کے بعد تھنوں میں باقی رہنے والا دودھ مزید دودھ کے اترنے کا سبب بنے گا اور تھنوں کو مکمل نچوڑ لینے کی صورت میں پچھلا دودھ کافی دیر کے بعد اترے گا۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 7481
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَبَنِ شَاةِ الْجَلَّالَةِ وَعَنِ الْمُجَثَّمَةِ وَعَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جلالہ بکری کادودھ پینے سے اور باندھ کرنشانہ بنائے گئے جانور کاگوشت کھانے سے اور مشک کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْاشْرِبَةِ/حدیث: 7481]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري، أخرجه ابوداود: 3786، والنسائي: 7/ 240، والترمذي: 1825، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1989 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1989»
وضاحت: فوائد: … پہلے اس حدیث کی وضاحت ہو چکی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح