الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي مَا إِذَا أَكَلَ الْكَلْبُ مِنَ الصَّيْدِ
کتا شکار میں سے کھا لے تو اس کا حکم
حدیث نمبر: 7581
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْكَلْبِ فَقَالَ إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُعَلَّمَ فَسَمَّيْتَ عَلَيْهِ فَأَخَذَ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَذَكِّهِ وَإِنْ قَتَلَ فَكُلْ فَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ وَفِي رِوَايَةٍ فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ
۔ سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کتے کے شکار کے بارے میں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنا سدھایا ہوا کتا بھیجو اور بسم اللہ پڑھو تو اس کتے نے جو شکار پکڑا ہے، اگر تم اسے اس حالت میں پاتے ہیں کہ ابھی وہ زندہ ہے تو اسے ذبح کرو، اور اگر اس نے شکار مار بھی دیا ہے پھر بھی کھا لو، لیکن اگر کتے نے شکار میں سے خود کھا لیا ہے تو پھر نہ کھاؤ، کیونکہ اس کھانے کا مطلب یہ ہو گا کہ اس نے اپنے لیے روکا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصَّيْدِ وَ الذَّبَائِحِ/حدیث: 7581]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه مطولا البخاري: 5475، ومسلم: 1929، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19383 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19602»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7582
عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرْسَلْتَ الْكَلْبَ فَأَكَلَ مِنَ الصَّيْدِ فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ وَإِذَا أَرْسَلْتَهُ فَقَتَلَ وَلَمْ يَأْكُلْ فَكُلْ فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى صَاحِبِهِ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنا کتا شکار کے لیے چھوڑتے ہو اور وہ اس میں سے کچھ کھا لیتا ہے تو پھر وہ شکار نہ کھانا، کیونکہ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اس نے اپنے لیے روکا ہے اور جب تم اپناکتا چھوڑتے ہو اور وہ اس میں سے کچھ نہیں کھاتا تو پھر اس کو کھا لو، کیونکہ اس نے شکار مالک کے لیے روکا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصَّيْدِ وَ الذَّبَائِحِ/حدیث: 7582]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2049 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2049»
وضاحت: فوائد: … ان دو احادیث سے معلوم ہوا کہ شکار کو اس وقت کھانا جائز ہو گا، جب شکاری کتا شکار کر کے خود اس میں کچھ نہ کھائے، بلکہ مالک کے لیے روک کر رکھے، نیز ارشادِ باری تعالی ہے: {فَکُلُوْا مِمَّا اَمْسَکْنَ عَلَیْکُمْ} … پس تم کھاؤ اس شکار سے، جو وہ تمہارے لیے روکے رکھیں۔ جب کتا خود کھانا شروع کر دے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اس نے شکار کو مالک کے لیے نہیں روکا۔
الحكم على الحديث: صحیح