الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحُمَّى وَعَلاجها
بخار اور اس کے علاج کا بیان
حدیث نمبر: 7633
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بخار دوزخ کی بھاپ میں سے ہے، اسے پانی کے ذریعے ٹھنڈا کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7633]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3264، ومسلم: 2209، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4719 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4719»
وضاحت: فوائد: … آنے والی روایات میں بھی بخار میں نہانے اور پانی کے ذریعے اس کے اثر کو کم کرنے یا ختم کرنے کا ذکر ہے، لیکن یاد رہنا چاہیے کہ بخارکی بعض قسموں میں یہ علاج کیا جاتا ہے۔
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 3264
حدیث نمبر: 7634
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَحْسَسْتُمْ بِالْحُمَّى فَأَطْفِئُوهَا بِالْمَاءِ الْبَارِدِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم بخار محسوس کرو تو ٹھنڈے پانی کے ذریعے اس کے اثر کو ختم کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7634]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطيالسي: 1919، وانظر الحديث السابق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6010 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6010»
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 7635
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْحُمَّى فَوْرُ جَهَنَّمَ (وَفِي لَفْظٍ مِنْ فَوْرِ جَهَنَّمَ) فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ
۔ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بخار دوزخ کا جوش ہے، پانی کے ذریعے اس کے اثر کو زائل کیا کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7635]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3262، ومسلم: 2212، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17266 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17398»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 3262
حدیث نمبر: 7636
وَعَنْ أَبِي بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
۔ سیدنا ابو بشیر انصاری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کی مثل بیان کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7636]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير: 22/ 752، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21886 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22231»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 7637
عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ كُنْتُ أَدْفَعُ النَّاسَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَاحْتَبَسْتُ أَيَّامًا فَقَالَ مَا حَبَسَكَ قُلْتُ الْحُمَّى قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوهَا بِمَاءِ زَمْزَمَ
۔ ابوحمزہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں لوگوں کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دور ہٹایا کرتا تھا، ایک دفعہ میں کچھ دن نہ جا سکا، پھر بعد میں جب میں گیا تو انھوں نے کہا: میرے پاس آنے میں کیا چیز رکاوٹ بنی رہی؟ میں نے کہا:جی بخار میں مبتلا ہو گیا تھا، انھوں نے کہا:بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بخار دوزخ کی بھاپ میں سے ہے، اسے آب زم زم کے ذریعے ٹھنڈا کیا کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7637]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه البخاري: 3261 بلفظ: فابردوھا بالمائ، أو قال: بماء زمزم شك ھمام، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2649 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2649»
وضاحت: فوائد: … زمزم کا پانی مبارک ہے، اس لیے اس سے کیا جانے والا غسل زیادہ مفید ہو گا، لیکن اس چیز کابھی امکان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد یہ ہو گا کہ زمزم کا پانی پیا جائے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَائُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَہٗ۔)) … زمزم کا پانی اسی مقصد کے لیے ہو گا، جس مقصد کے لیے پیا جائے گا۔ (ابن ماجہ: ۳۰۶۲)
الحكم على الحديث: اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 7638
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْحُمَّى أَوْ شِدَّةَ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بخار کی شدت دوزخ کی بھاپ میں سے ہے، اسے پانی کے ذریعے ٹھنڈا کیا کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7638]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3263، 5725، ومسلم: 2210، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24228 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24732»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 3263
حدیث نمبر: 7639
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اسْتَأْذَنَتِ الْحُمَّى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ هَذِهِ قَالَتْ أُمُّ مِلْدَمٍ قَالَ فَأَمَرَ بِهَا إِلَى أَهْلِ قُبَاءَ فَلَقُوا مِنْهَا مَا يَعْلَمُ اللَّهُ فَأَتَوْهُ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ فَقَالَ مَا شِئْتُمْ إِنْ شِئْتُمْ أَنْ أَدْعُوَ اللَّهَ لَكُمْ فَيَكْشِفَهَا عَنْكُمْ وَإِنْ شِئْتُمْ أَنْ تَكُونَ لَكُمْ طَهُورًا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَتَفْعَلُ قَالَ نَعَمْ قَالُوا فَدَعْهَا
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بخار نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کی، آپ نے فرمایا: یہ کون ہے؟ بخار نے کہا: میں ام ملدم ہوں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے قباء والوں کے پاس چلے جانے کا حکم دیا، بس پھر اللہ ہی جانتا ہے کہ ان کو اس سے کیا تکلیف ہوئی، انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کیا چاہتے ہو،اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں، وہ اسے تم سے دور کر دے گا اور اگر تم چاہتے ہو کہ یہ تمہارے گناہوں سے طہارت کا باعث بنے (تو اس طرح کر لو)۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا واقعتا یہ گناہ صاف کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ انہوں نے کہا: پھر اس کو اِدھر ہی رہنے دیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7639]
تخریج الحدیث: «رجاله رجال الصحيح وفي متنه غرابة، أخرجه ابويعلي: 1892، وابن حبان: 2935، والحاكم: 1/ 346، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14393 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14446»
وضاحت: فوائد: … ام ملدم، بخار کی کنیت ہے اور یہ بات اپنی جگہ پر درست ہے کہ جسمانی تکالیف کی وجہ سے گناہوں کی معافی اور بلندیٔ درجات جیسے نعمتیں نصیب ہوتی ہیں۔
الحكم على الحديث: رجاله رجال الصحيح وفي متنه غرابة
حدیث نمبر: 7640
عَنْ أَسْمَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا أُتِيَتْ بِالْمَرْأَةِ لِتَدْعُوَ لَهَا صَبَّتِ الْمَاءَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ جَيْبِهَا وَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا أَنْ نُبَرِّدَهَا بِالْمَاءِ وَقَالَ إِنَّهَا مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ
۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب ان کے پاس کوئی عورت لائی جاتی تاکہ اس کے لیے بخار سے نجات کی دعا کریں، تو وہ اس عورت کے دامن میں پانی ڈالتی اور کہتی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم بخار کو پانی کے ساتھ ٹھنڈا کیا کریں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک یہ دوزخ کی بھاپ سے ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7640]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5724، ومسلم: 2211، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26926 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27465»
الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 5724
حدیث نمبر: 7641
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحُمَّى مِنْ كِيرِ جَهَنَّمَ فَمَا أَصَابَ الْمُؤْمِنَ مِنْهَا كَانَ حَظَّهُ مِنَ النَّارِ
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بخار دوزخ کی بھٹی سے ہے، مومن کو جتنا بخار ہو گا، یہ اتنا ہی اس کے لیے آگ کا حصہ ہوگا،یعنی اتنی اسے دوزخ کی آگ میں کمی ہو گی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7641]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير: 7468، والبيھقيي في الشعب: 9843، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22165 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22518»
وضاحت: فوائد: … ہر قسم کی ذہنی اور جسمانی بیماری اور تکلیف مومنوں کے گناہوں کا کفارہ بنتی ہے۔ لیکن اس پر صبر کرنا شرط ہے، جیسا کہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ((بَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَاعِدٌ مَعَ اَصْحَابِہِ، اِذْ ضَحِکَ، فَقَالَ: أَلَا تَسْأَلُوْنِيْ مِمَّ اَضْحَکُ؟ قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمِمَّ تَضْحَکُ؟ قَالَ: ((عَجِبْتُ لِأَمْرِ الْمُوْمِنِ، اِنَّ اَمْرَہٗ کُلَّہٗ خَیْرٌ اِنْ اَصَابَہٗ مَایُحِبُّ، حَمِدَ اللّٰہَ وَکَانَ لَہُ خَیْرًا، وَإِنْ اَصَابَہٗ مَا یَکْرَہٗ فَصَبَرَ، کَانَ لَہٗ خَیْرًا، وَلَیْسَ کُلُّ اَحَدٍ اَمْرُہٗ کُلُّہٗ خَیْرٌ اِلَّا الْمُوْمِنَ۔)) (مسلم، صحیحہ:۱۴۷) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کرام میں تشریف فرما تھے، اچانک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا پڑے اور فرمایا: کیا تم مجھ سے سوال نہیں کرتے کہ میں کیوں ہنسا ہوں؟ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کیوں ہنسے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے مؤمن کے معاملے پر بڑا تعجب ہے، اس کے ہر کام میں اس کے لیے بھلائی ہے، اگر اسے کوئی پسندیدہ چیز نصیب ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتا ہے اور یہ تعریف کرنا اس کے لیے بہتر ہے اور اگر وہ کسی مکروہ چیز کا سامنا کرتاہے اور اس پر صبر کرتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے بہتر ہے، مؤمن کے علاوہ کوئی بھی ایسا نہیں کہ اس کے ہر کام میں خیر ہو۔
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 7642
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا مِنَ الْحُمَّى وَالْأَوْجَاعِ بِسْمِ اللَّهِ الْكَبِيرِ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ عِرْقٍ نَعَّارٍ وَمِنْ شَرِّ حَرِّ النَّارِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں بخار اور دیگر جسمانی تکالیف کے لیے یہ دعا پڑھنے کی تلقین کرتے تھے: بِسْمِ اللّٰہِ الْکَبِیْرِ، اَعَوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّ عِرْقٍ نَعَّارٍ، وَمِنْ شَرِّ حَرِّ النَّارِ (اللہ تعالیٰ کے نام سے، جو بہت بڑا ہے، میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں خون بہانے والی رگ سے اور دوزخ کی گرمی کے شر سے)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7642]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن ابي حبيبة، أخرجه ابن ماجه: 3526، والترمذي: 2075، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2729 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2729»
الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف ابن ابي حبيبة