🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

15. بَابُ الْأَلْفَاظِ الْوَارِدَةِ فِي الرُّقْى
دم کے الفاظ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7715
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعُودُهُ وَبِهِ مِنَ الْوَجَعِ مَا يَعْلَمُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِشِدَّةٍ ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْعَشِيِّ وَقَدْ بَرِئَ أَحْسَنَ بُرْءٍ فَقُلْتُ لَهُ دَخَلْتُ عَلَيْكَ غُدْوَةً وَبِكَ مِنَ الْوَجَعِ مَا يَعْلَمُ اللَّهُ بِشِدَّةٍ وَدَخَلْتُ عَلَيْكَ الْعَشِيَّةَ وَقَدْ بَرِئْتَ فَقَالَ يَا ابْنَ الصَّامِتِ إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ رَقَانِي بِرُقْيَةٍ بَرِئْتُ أَلَا أُعَلِّمُكَهَا قُلْتُ بَلَى قَالَ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ مِنْ حَسَدِ كُلِّ حَاسِدٍ وَعَيْنٍ بِسْمِ اللَّهِ يَشْفِيكَ وَفِي رِوَايَةٍ مِنْ حَسَدِ حَاسِدٍ وَكُلِّ عَيْنٍ وَاسْمِ اللَّهِ يَشْفِيكَ
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تیمار داری کے لئے حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اتنی سخت تکلیف تھی کہ اس کی شدت کا اندازہ صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، جب میں پچھلے پہر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں حاضر ہوا تو آپ اچھی طرح تندرست ہوچکے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی: میں صبح کے وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا، اس وقت تو آپ کو اتنی شدید تکلیف تھی کہ بس اللہ ہی جانتا تھا کہ وہ تکلیف کیسی تھی، اب میں آپ کے پاس پچھلے پہر حاضر ہوا ہوں تو آپ صحت یاب ہوچکے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے صامت کے بیٹے! جبریل علیہ السلام نے مجھے دم کیا ہے، یہ ایسا دم تھا کہ میں صحت یاب ہوگیا ہوں، کیا میں تجھے وہ دم سکھا دوں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دم کی تعلیم دی: بِسْمِ اللّٰہِ أَرْقِیکَ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ یُؤْذِیکَ، مِنْ حَسَدِ کُلِّ حَاسِدٍ وَعَیْنٍ، بِسْمِ اللّٰہِ یَشْفِیکَ (اللہ کے نام کے ساتھ تجھے ہر اس چیز سے دم کرتا ہوں جو تجھے ایذا پہنچائے اور ہرحسد والے کے حسد سے اور ہر آنکھ سے، اس اللہ کے نام کے ساتھ جو تجھے شفاء دیتا ہے۔)ایک روایت میں ہے: ہر حاسد کے حسدسے اور ہر نظر بد سے اللہ کے نام کے ساتھ دم کرتا ہوں جو تجھے شفاء دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7715]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن ماجه: 3527، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22759 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23139»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7716
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا اشْتَكَى رَقَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ دَاءٍ يَشْفِيكَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ وَمِنْ كُلِّ ذِي عَيْنٍ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بیمار ہوتے تو سیدنا جبریل علیہ السلام آپ کو یہ پڑھ کر دم کرتے تھے: بِسْمِ اللّٰہِ اَرْقِیْکَ، مِنْ کُلِّ دَاءٍ یَشْفِیْکَ، مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ، وَمِنْ کُلِّ ذِیْ عَیْنٍ۔ (اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ میں آپ کو دم کرتا ہوں، وہ تجھے ہر بیماری سے شفا دے، حسد کرنے والے کے شرّ سے، جب وہ حسد کرے اور ہر بری نظر والے سے۔) [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7716]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2185، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25272 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25786»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 2185
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7717
عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عَلَّمَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رُقْيَةً وَأَمَرَنِي أَنْ أَرْقِيَ بِهَا مَنْ بَدَا لِي قَالَ قُلْ رَبَّنَا اللَّهُ الَّذِي فِي السَّمَاوَاتِ تَقَدَّسَ اسْمُكَ أَمْرُكَ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ اللَّهُمَّ كَمَا أَمْرُكَ فِي السَّمَاءِ فَاجْعَلْ رَحْمَتَكَ عَلَيْنَا فِي الْأَرْضِ اللَّهُمَّ رَبَّ الطَّيِّبِينَ اغْفِرْ لَنَا حَوْبَنَا وَذُنُوبَنَا وَخَطَايَانَا وَنَزِّلْ رَحْمَةً مِنْ رَحْمَتِكَ وَشِفَاءً مِنْ شِفَائِكَ عَلَى مَا بِفُلَانٍ مِنْ شَكْوَى فَيَبْرَأُ قَالَ وَقُلْ ذَلِكَ ثَلَاثًا ثُمَّ تَعَوَّذْ بِالْمُعَوِّذَتَيْنِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
۔ سیدنا فضالہ بن عبید انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دم سکھایا اور مجھے حکم دیا کہ میں جسے چاہوں یہ دم کروں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کہو رَبَّنَا اللّٰہُ الَّذِی فِی السَّمٰوَاتِ تَقَدَّسَ اسْمُکَ أَمْرُکَ فِی السَّمَاء ِ وَالْأَرْضِ اللّٰھُمَّ کَمَا أَمْرُکَ فِی السَّمَاء ِ فَاجْعَلْ رَحْمَتَکَ عَلَیْنَا فِی الْأَرْضِ اللّٰھُمَّ رَبَّ الطَّیِّبِینَ اغْفِرْ لَنَا حُوْبَنَا وَذُنُوبَنَا وَخَطَایَانَا وَنَزِّلْ رَحْمَۃً مِنْ رَحْمَتِکَ وَشِفَاءً مِنْ شِفَائِکَ عَلٰی مَا بِفُلَانٍ مِنْ شَکْوٰی (اے ہمارے وہ رب جو آسمانوں میں ہے، تیرا نام مقدس ہے، تیرا حکم آسمان اور زمین پر جاری ہے، اے اللہ! جس طرح تیرا حکم آسمان میں ہے، اسی طرح زمین پر ہمارے اوپر اپنی رحمت کردے، اے اللہ! پاکبازوں کے رب! ہمارے گناہ معاف کردے اور ہماری خطائیں بخش دے، اپنی رحمت میں سے کچھ حصہ اور اپنی شفاء میں کچھ حصہ اس بیماری پر نازل فرما دے، جو فلاں کے ساتھ ہے۔ پس وہ شفایاب ہو جاتا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دم تین مرتبہ کرنا ہے اور پھر تین بار سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھنی ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7717]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابي بكر بن عبد الله بن ابي مريم ولابھام الاشياخ الذين روي عنھم، أخرجه الحاكم: 4/ 218، والنسائي في عمل اليوم والليلة: 1038، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23957 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24457»

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف لضعف ابي بكر بن عبد الله بن ابي مريم ولابھام الاشياخ الذين روي عنھم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7718
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَوَّذَ مَرِيضًا قَالَ أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی مریض کے لئے بیماری سے پناہ مانگتے تویہ دعا پڑھتے: أَذْہِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، اِشْفِ أَنْتَ الشَّافِی لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَائُکَ شِفَاءً لَا یُغَادِرُ سَقَمًا۔ (اے لوگوں کے رب! یہ تنگی دور کردے، شفاء دے، تو ہی شفاء دینے والا ہے، شفاء صرف وہی ہے جو تو دے، ایسی شفاء دے کہ جو کسی بیماری کو نہ چھوڑے۔) [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7718]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الترمذي: 3565، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 565 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 565»

الحكم على الحديث: حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7719
عَنْ أَزْهَرَ بْنِ سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبِ ابْنِ أَخِي مَيْمُونَةَ الْهِلَالِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ مَيْمُونَةَ قَالَتْ لَهُ يَا ابْنَ أَخِي أَلَا أَرْقِيكَ بِرُقْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ بَلَى قَالَتْ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ وَاللَّهُ يَشْفِيكَ مِنْ كُلِّ دَاءٍ فِيكَ أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ
۔ عبدالرحمن بن سائب، جو کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے تھے، بیان کرتے ہیں کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اے بھتیجے! کیا میں تجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دم کروں؟انھوں نے کہا: جی ضرور کریں، سیدہ نے اس طرح دم کیا: بِسْمِ اللّٰہِ أَرْقِیکَ وَاللّٰہُ یَشْفِیکَ مِنْ کُلِّ دَاءٍ فِیکَ أَذْہِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِی لَا شَافِیَ إِلَّا أَنْتَ۔ (اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ تجھے دم کرتی ہیں، ہر اس بیماری سے، جو تیرے اندر ہے، اے لوگوں کے ربّ! تو بیماری کو دور کر دے اور تو شفا دے، تو ہی شافی ہے، بس کوئی شافی نہیں ہے، مگر تو ہی۔) [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7719]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، أخرجه النسائي في الكبري: 10860، وابن حبان: 6095، والطبراني في الكبير: 23/ 1061، وفي الاوسط: 3318، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26821 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27358»

الحكم على الحديث: حديث صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7720
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَوِّذُ بَعْضَ أَهْلِهِ يَمْسَحُهُ بِيَمِينِهِ يَقُولُ أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ إِنَّكَ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بعض گھر والوں کو اس دعا کے ساتھ دم کیا کرتے تھے اور ساتھ ہی اس پر اپنا دایاں ہاتھ پھیرتے تھے: اَذْھِبِ الْبَاْسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ اِنَّکَ اَنْتَ الشَّافِی لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَائُکَ شِفَاءً لَا یُغَادِرُ سَقَمًا۔ (اے لوگوں کے رب! تنگی کو دور کردے اور شفاء دے، بے شک تو ہی شفاء دینے والا ہے، نہیں ہے کوئی شفا، مگر تیری، ایسی شفا دے، جو کوئی بیماری نہ چھوڑے۔) [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7720]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5743، 5750، ومسلم: 2191، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24175 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24677»

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 5743
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7721
وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْقِي يَقُولُ امْسَحِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ بِيَدِكَ الشِّفَاءُ لَا يَكْشِفُ الْكَرْبَ إِلَّا أَنْتَ وَفِي رِوَايَةٍ لَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا أَنْتَ
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دم کیا کرتے اور یہ دعا پڑھتے تھے: اِمْسَحِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ بِیَدِکَ الشِّفَاءُ لَا یَکْشِفُ الْکَرْبَ إِلَّا أَنْتَ (اے لوگوں کے ربّ! یہ تنگی دور کردے، شفاء صرف تیرے ہاتھ میں ہے، تکلیف کو تیرے سوا کوئی اور دور نہیں کرسکتا۔) ایک روایت میں ہے: بیماری کو ہٹانے والا کوئی نہیں ہے، مگر تو ہی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7721]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24738»

الحكم على الحديث: انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24738
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7722
وَعَنْهَا أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي الْمَرِيضِ بِسْمِ اللَّهِ بِتُرْبَةِ أَرْضِنَا بِرِيقَةِ بَعْضِنَا لِيُشْفَى سَقِيمُنَا بِإِذْنِ رَبِّنَا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مریض کو دم کرتے ہوئے یہ دعا پڑھتے: بِسْمِ اللّٰہِ بِتُرْبَۃِ اَرْضِنَا بِرِیْقَۃِ بَعْضِنَا لِیُشْفٰی سَقِیْمُنَا بِاِذْنِ رَبِّنَا (اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ، ہماری زمین کی مٹی کے ساتھ اور ہمارے ایک کے تھوک کے ساتھ تاکہ ہمارے بیمار کو شفاء ہوئے، ہمارے رب کے حکم کے ساتھ۔) [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7722]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5745، ومسلم: 2194، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24617 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25124»
وضاحت: فوائد: … اس کا طریقہ یہ ہے کہ دم کرنے والا اپنی انگشت شہادت پر تھوک لگا کر اس کو زمین سے مس کر مٹی لگا لے اور پھر اس انگلی کو زخم یا مریض پر پھیرے اور ساتھ ساتھ یہ دعا بھی پڑھے۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 5745
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7723
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَشْتَكِي وَفِي رِوَايَةٍ يَعُودُنِي فَقَالَ أَلَا أُعَلِّمُكَ وَفِي رِوَايَةٍ أَلَا أَرْقِيكَ بِرُقْيَةٍ رَقَانِي بِهَا جِبْرِيلُ قُلْتُ بَلَى بِأَبِي وَأُمِّي قَالَ بِاسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ وَاللَّهُ يَشْفِيكَ مِنْ كُلِّ دَاءٍ يُؤْذِيكَ وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مِنْ كُلِّ دَاءٍ فِيكَ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بیمار تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری تیمارداری کے لئے میرے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ دم کروں، جو جبریل علیہ السلام نے مجھے کیا تھا؟ میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیوں نہیں، ضرور کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا پڑھی: بِاسْمِ اللّٰہِ اَرْقِیْکَ وَاللّٰہُ یَشْفِیْکَ مِنْ کُلِّ دَاءٍ یُؤْذِیْکَ وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِی الْعُقَدِ وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۔ (اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ میں تجھے دم کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ تجھے ہر بیماری سے شفاء دے، جو تجھے تکلیف دیتی ہے اور جو تجھ میں موجود ہے اور ان کی برائی سے تجھے دم کرتا ہوں جو گرہوں میں جادو کی پھونکیں مارتی ہیں اور حسد کرنے والے کے حسد سے تجھے دم کرتا ہوں، جب وہ حسد کرنے لگے۔) [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7723]
تخریج الحدیث: «المرفوع منه صحيح لغيره، وھذ اسناد ضعيف لضعف عصم بن عبيد الله العمري، وجھالة زياد بن ثويب، أخرجه ابن ماجه: 3524، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9757 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9756»

الحكم على الحديث: المرفوع منه صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7724
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اشْتَكَيْتَ يَا مُحَمَّدُ قَالَ نَعَمْ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ وَعَيْنٍ يَشْفِيكَ بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جبریل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے محمد! آپ بیمار ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ تو انہوں نے یہ دعا پڑھی: بِسْمِ اللّٰہِ اَرْقِیْکَ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ یُؤْذِیْکَ مِنْ شَرِّ کُلِّ نَفْسٍ وَ عَیْنٍ یَشْفِیْکَ بِسْمِ اللّٰہِ اَرْقِیْکَ۔ (اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ میں آپ کو دم کرتا ہوں، ہر اس چیز سے جو آپ کو تکلیف دیتی ہے اور ہر نفس اور نظر کے شرّ سے آپ کو شفاء دے، اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ میں آپ کو دم کرتا ہوں۔) [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّبِّ وَالرُّقُيِ وَالْعَيْنِ وَالْعَدْوَى وَالتَّشَاؤُمِ وَالْفَالِ)/حدیث: 7724]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2186، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11534 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11555»

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 2186
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں