الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَاب مَا جَاءَ فِي لَعْبِ الْحَبَشَةِ وَرَقْصِهِمْ
حبشیوں کے کھیل اور رقص کا بیان
حدیث نمبر: 7877
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَتِ الْحَبَشَةُ يَزْفِنُونَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَيَرْقُصُونَ وَيَقُولُونَ مُحَمَّدٌ عَبْدٌ صَالِحٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا يَقُولُونَ قَالُوا يَقُولُونَ مُحَمَّدٌ عَبْدٌ صَالِحٌ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حبشہ کے لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھیلتے اور خوشی سے اچھلتے تھے اور کہتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صالح بندے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ یہ لوگ کیاکہہ رہے ہیں؟ انہوں نے بتایا یہ کہتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صالح اور نیک بندے ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللَّهُوِ وَاللَّعَبِ/حدیث: 7877]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي علي شرط مسلم، أخرجه ابن حبان: 5870، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12540 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12568»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7878
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ لَعِبَتِ الْحَبَشَةُ لِقُدُومِهِ بِحِرَابِهِمْ فَرَحًا بِذَلِكَ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو آپ کی آمد کی خوشی میں حبشہ کے لوگوں نے اپنے جنگی ہتھیاروں کے ساتھ کھیل پیش کیا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللَّهُوِ وَاللَّعَبِ/حدیث: 7878]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابوداود: 4923، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12649 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12677»
وضاحت: فوائد: … اس مفہوم کی ایک اور حدیث درج ذیل ہے:
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7879
عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا مِنْ شَيْءٍ كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا وَقَدْ رَأَيْتُهُ إِلَّا شَيْئًا وَاحِدًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَلَّسُ لَهُ يَوْمَ الْفِطْرِ قَالَ جَابِرٌ هُوَ اللَّعِبُ
۔ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عہد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہر چیز دیکھی ہے، صرف اس دور کی ایک چیز نہیں دیکھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے عید الفطر کے دن کھیل پیش کیا جاتا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللَّهُوِ وَاللَّعَبِ/حدیث: 7879]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف جابر بن يزيد الجعفي، أخرجه ابن ماجه: 1303، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15479 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15558»
وضاحت: فوائد: … ان تمام احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جائز طریقہ سے صحابہ کرام، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں مسرت کا اظہار کرتے تھے، یہ خوشی کے وقت اور عید اور شادی وغیرہ کے موقع پر جائز ہے، لیکن وہ آلات استعمال نہ کئے جائیں جو ناجائز ہیں۔
الحكم على الحديث: ضعیف