🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْإِزَارِ وَالْقَمِيصِ وَآدَابِ تَتَعَلَّقُ بذلك
تہبند اور قمیص اور ان سے متعلقہ آداب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7905
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ مِنْ أَنْصَافِ السَّاقَيْنِ فَأَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ إِلَى مَا فَوْقَ الْكَعْبَيْنِ فَمَا كَانَ مِنْ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ فَفِي النَّارِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن کا تہبند پنڈلی کے نصف تک ہوتا ہے، اس سے نیچے بھی کر سکتا ہے، لیکن ٹخنوں سے اوپر اوپر تک، ٹخنوں کا جو حصہ تہبند میں آیئے گا، وہ آگ میں ہو گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 7905]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابويعلي: 6648، وابوعوانة: 5/ 484، والنسائي في الكبري: 9712، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10555 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10562»
وضاحت: فوائد: … مردوں کے لباس میں ٹخنوں کو ازار، شلوار اور پینٹ میں چھپانے کی قطعا اجازت نہیں ہے، اس بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہت وعید بیان کی ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7906
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْإِزَارِ فَهُوَ فِي الْقَمِيصِ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو تہبند کا حکم دیا ہے، وہی قمیص کے بارے میں حکم ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 7906]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه ابوداود: 4095، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5801 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5891»

الحكم على الحديث:
اسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7907
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمْ يَكُنْ ثَوْبٌ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَمِيصٍ
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ لباس میں سب سے زیادہ پسندیدہ لباس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں قمیص کا پہننا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 7907]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، والدة عبد الله ن بريدة لم نقف لھا علي ترجمة، أخرجه ابوداود: 4026، والترمذي: 1763، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26695 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27230»
وضاحت: فوائد: … قمیص بہت باپردہ اور خوبصورت لباس ہے، ایک دفعہ پہن کر آدمی بے فکر ہو جاتا ہے، یہ لباس نہ دوڑنے سے متاثر ہوتے ہیں اور نہ اس سے کوئی کام کرنے میں حرج محسوس ہوتا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7908
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَبِسْتُمْ وَإِذَا تَوَضَّأْتُمْ فَابْدَءُوا بِأَيَامِنِكُمْ وَفِي رِوَايَةٍ بِمَيَامِنِكُمْ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم لباس پہنو یا وضوء کرو تو دائیں جانب سے ابتدا کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 7908]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداوود: 4141، وابن ماجه: 402، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8652 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8637»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ قمیص، بنیان، جرسی اور شلوار وغیرہ پہنتے وقت دائیں بازو یا ٹانگ سے ابتداء کی جائے، لیکن اتارتے وقت بائیں طرف سے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7909
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لِبْسَتَيْنِ الصَّمَّاءِ وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ بِثَوْبِهِ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ
۔ سیّدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو قسم کے لباسوں سے منع فرمایا: بولی بکّل مارنے سے اور آدمی کے کپڑے کے ساتھ اس طرح گوٹھ مارنے سے کہ اس کی شرمگاہ پر اس میں سے کچھ نہ ہو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 7909]
تخریج الحدیث: «أخرجه مقطعا مسلم: 1511، 1545، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9435 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9425»
وضاحت: فوائد: … اِشْتِمَالُ الصَّمَّائ سے کیا مراد ہے؟ حافظ ابن حجر نے کہا: اہلِ لغت کہتے ہیں: کسی شخص کا ایک کپڑے کو اپنے جسم پر اس طرح لپیٹنا کہ نہ تو وہ اس سے کسی جانب کو بلند کرتا ہو اور نہ ہی اتنی جگہ باقی ہو کہ اس کا ہاتھ نکل سکے۔ ابن قتیبہ نے کہا: صمّائ کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس کی صورت تمام سوراخوں کو بند کر دیتی ہے، اس طرح وہ سخت چٹان کی طرح ہو جاتی ہے، جس میں کوئی سوراخ نہیں ہوتا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مقطعا مسلم: 1511
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7910
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَرْتَدُوا الصَّمَّاءَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَلَا يَأْكُلُ أَحَدُكُمْ بِشِمَالِهِ وَلَا يَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدٍ وَلَا يَحْتَبِي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ
۔ سیّدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک کپڑے میں بولی بکّل نہ مارو اور تم میں سے کوئی نہ بائیں ہاتھ کے ساتھ کھائے، نہ ایک جوتے میں چلے اور نہ ایک کپڑے میں گوٹھ مار کر بیٹھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 7910]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه النسائي في الكبري: 9799، وابويعلي: 2254، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14856 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14917»
وضاحت: فوائد: … اشتمال الصمائ اور گوٹھ مارنے کی وضاحت اوپر ہو چکی ہے۔ بائیں ہاتھ سے کھانے اور ایک جوتے میں چلنے سے منع کیا گیا، کیونکہ یہ دونوں شیطان کی عادتیں ہیں:

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں