🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. بَابُ مَاجَاءَ فِي النَّعَالِ وَلُبْسِهَا وَآدَابِ تَتَعَلَّقُ بِذَلِكَ
جوتا پہننے کے آداب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7911
عَنْ نَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ يَلْبَسُ السِّبْتِيَّةَ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا وَذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُهُ
۔ نافع کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہماسبتی جوتے پہنتے اور ان میں وضو کرتے اور بیان کرتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسا ہی کیاکرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 7911]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه البخاري: 166، 5851، ومسلم: 1187، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5251 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5251»
وضاحت: فوائد: … سِبْت سے مراد گائے کا رنگا ہوا چمڑا یا مطلق طور پر رنگا ہوا چمڑا ہے، سِبْت کا لفظی معنی زائل کرنا ہے، وجہ تسمیہ یہ ہے کہ رنگائی کے ذریعے چمڑے سے بال زائل کیے جاتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7912
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا اسْتَكْثِرُوا مِنَ النِّعَالِ فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَزَالُ رَاكِبًا مَا انْتَعَلَ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ نے ایک غزوہ کے موقع پر فرمایا: جوتے کثرت سے پہنا کرو، کیونکہ آدمی جب تک جوتا پہنے رکھے، وہ گویا سوار رہتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 7912]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2096، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14874 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14935»
وضاحت: فوائد: … امام نووی نے کہا ہے کہ جوتیاں پہن کر چلنے والا، ننگے پاؤں چلنے والے کی بہ نسبت راستے کی سختی و کرختگی، کانٹوں اور دوسری موذی چیزوں سے سالم رہتا ہے، اس کے پاؤں محفوظ رہتے ہیں، مشقت وتھکاوٹ کم ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے اس حدیث میں ایسے شخص کو سوار آدمی سے تشبیہ دی گئی ہے۔ نیز یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسافر کو دورانِ سفر اپنی معاون چیزوں کا استعمال کرنا چاہئے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2096
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7913
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَشْيَخَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ بِيضٌ لِحَاهُمْ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ حَمِّرُوا وَصَفِّرُوا وَخَالِفُوا أَهْلَ الْكِتَابِ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يَتَسَرْوَلُونَ وَلَا يَأْتَزِرُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَسَرْوَلُوا وَائْتَزِرُوا وَخَالِفُوا أَهْلَ الْكِتَابِ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يَتَخَفَّفُونَ وَلَا يَنْتَعِلُونَ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَتَخَفَّفُوا وَانْتَعِلُوا وَخَالِفُوا أَهْلَ الْكِتَابِ قَالَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يَقُصُّونَ عَثَانِينَهُمْ وَيُوَفِّرُونَ سِبَالَهُمْ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُصُّوا سِبَالَكُمْ وَوَفِّرُوا عَثَانِينَكُمْ وَخَالِفُوا أَهْلَ الْكِتَابِ
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انصاریوں کے عمر رسیدہ لوگوں کے پاس تشریف لائے، ان کی داڑھیاں سفید ہو چکی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے انصاریوں کی جماعت!اپنی داڑھیوں کو سرخ اور زرد کیا کرو اور اہل کتاب کی مخالفت کیا کرو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! اہل کتاب تو شلواریں پہنتے ہیں، تہبند نہیں پہنتے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم شلواریں بھی پہنا کرو اور تہبند بھی اور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! اہل کتاب موزے پہنتے ہیں اور جوتے نہیں پہنتے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم موزے بھی پہنو اور جوتے بھی اور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! اہل کتاب اپنی داڑھیاں خراشتے ہیں اور مونچھیں لمبی کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی مونچھیں کاٹو اور داڑھیاں بڑھاؤاور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 7913]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير: 7924، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22283 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22639»
وضاحت: فوائد: … سفید بالوں کو سرخ یا زرد کرنا مستحب اور افضل ہے، اکثر مسلمان بزرگ اس سنت کا احیا نہیں کر رہے اور وہ اپنے حق میں سفید بالوں کو ترجیح دیتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7914
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَتْ نِعَالُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَهُمَا قِبَالَانِ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جوتوں کے دو تسمے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 7914]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5857، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12229 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12254»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5857
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7915
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِيَمِينِهِ وَإِذَا خَلَعَ فَلْيَبْدَأْ بِشِمَالِهِ وَقَالَ أَنْعِلْهُمَا جَمِيعًا زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَإِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ فَلَا يَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدٍ لِيَحْفَهُمَا جَمِيعًا أَوْ لِيُنْعِلْهُمَا جَمِيعًا
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی جوتا پہنے تو وہ دائیں جانب سے ابتدا کرے اور جب اتارے تو بائیں پاؤں سے ابتدا کرے اور دونوں جوتے پہن کر چلے۔ ایک روایت میں ہے: جب ایک جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو آدمی ایک جوتے میں نہ چلے، بلکہ دونوں جوتے اتار لے، یا دونوں پہن لے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 7915]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2097، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7179 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7179»
وضاحت: فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: اس حدیث میں جوتا پہننے کے آداب کا ذکر ہے، پہنتے وقت دائیں پاؤں کو مقدم کرنا چاہیے، جبکہ اتارتے وقت پہلے بائیں پاؤں سے اتارنا چاہیے۔ عصرِ حاضر میں ایسی سنتوں سے مسلمان غافل ہو چکے ہیں، اس کی دو وجوہات ہیں: ایک، جہالت کا غلبہ ہے اور دوسرا، اسلامی تربیت کرنے والے لوگوں کا فقدان ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ بزعمِ خود ایسے داعیانِ اسلام بھی موجود ہیں، جن کا خیال یہ ہے کہ یہ آداب کمتر اور گھٹیا ہیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2097
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7916
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِالْيَمِينِ وَإِذَا نَزَعَ فَلْيَبْدَأْ بِالشِّمَالِ وَلْتَكُنِ الْيَمِينُ أَوَّلَهُمَا تُنْعَلُ وَآخِرَهُمَا تُنْزَعُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی جوتا پہنے تو وہ دائیں جانب سے ابتدا کرے اور جب جوتا اتارے تو بائیں جانب سے ابتدا کرے، یعنی پہنتے وقت دایاں پہلے پہنے اور اتارتے وقت دایاں آخر میں اتارے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 7916]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5856، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10003 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10004»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5856
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7917
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَإِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ فَلَا يَمْشِ فِي نَعْلِهِ الْأُخْرَى حَتَّى يُصْلِحَهَا
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ڈالے تو اسے سات مرتبہ دھوئے اور جب تم میں سے کسی کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ ایک جوتے میں نہ چلے، یہاں تک کہ دوسرے جوتے کو مرمت کر لے (اوردونوں اکٹھے پہن لے)۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 7917]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 279، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7447 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7440»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 279
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7918
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَمْشِيَ فِي خُفٍّ وَاحِدَةٍ أَوْ نَعْلٍ وَاحِدَةٍ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک موزے یا ایک جوتے میں چلنے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 7918]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، الحسن بن ذكوان، ضعفه احمد، وابن معين، وابو حاتم وغيرھم، بل قال بعضھم: متروك الحديث، ذاھب الحديث، لايُشتغل به، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2948 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2948»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں