🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْعُمَامَةِ وَالسَّرَاوِيل وَحُلل الْجِبَرَةِ
پگڑی، شلوار اور دھاری دار پوشاکیں پہننے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7919
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فتح مکہ والے دن داخل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سیاہ رنگ کی پگڑی تھی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 7919]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1358، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14904 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14966»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1358
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7920
عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ
۔ سیدنا حریث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے خطاب کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک پر کالے رنگ کی پگڑی تھی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 7920]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1359، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18734 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18941»
وضاحت: فوائد: … ابو داود کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر خطاب کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر پر پگڑی تھی اور اس کا ایک کنارہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھوں کے درمیان لٹک رہا تھا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1359
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7921
عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَلَبْتُ أَنَا وَمَخْرَمَةُ الْعَبْدِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثِيَابًا مِنْ هَجَرَ قَالَ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَاوَمَنَا فِي سَرَاوِيلَ وَعِنْدَنَا وَزَّانُونَ يَزِنُونَ بِالْأَجْرِ فَقَالَ لِلْوَزَّانِ زِنْ وَأَرْجِحْ
۔ سیدنا سوید بن قیس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور سیدنا مخرمہ عبدی رضی اللہ عنہ ہجر سے کپڑا لائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم سے شلوار کا سودا کیا، جبکہ ہمارے پاس اجرت لے کر وزن کرنے والے بھی بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وزن کرنے والے سے فرمایا: اس کا وزن کرو اور ترازو کا یہ والا پلڑا جھکاؤ۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 7921]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 3336، وابن ماجه: 2220، 3579، والترمذي: 1305، والنسائي: 7/ 284، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19098 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19308»
وضاحت: فوائد: … آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ بائع کو چاہیے کہ جب وہ کوئی چیز بیچے تو جس مقدار کا سودا ہوا ہو، اپنی رضامندی سے اس مقدار میں کچھ مقدار کا اضافہ کر دے، اس سے برکت ہو گی، ان شاء اللہ۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7922
عَنْ قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيُّ اللِّبَاسِ كَانَ أَعْجَبَ وَفِي رِوَايَةٍ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحِبَرَةُ
۔ قتادہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدناانس رضی اللہ عنہ سے کہا: کون سا لباس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے زیادہ پسند تھا؟ انھوں نے کہا: دھاری دار۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 7922]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5812، ومسلم: 2079، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12377 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12404»
وضاحت: فوائد: … عہد ِ نبوی میں یہ دھاری دارکپڑا یمن میں بنتا تھا، دھاری دار کپڑا جلدی میلا محسوس نہیںہوتا، نیز ایسا کپڑا دیکھنے میں بھلا محسوس ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5812
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7923
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا يُونُسُ عَنِ الْحَسَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرَادَ أَنْ يَنْهَى عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ فَقَالَ لَهُ أُبَيٌّ يَعْنِي ابْنَ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَيْسَ ذَاكَ لَكَ قَدْ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَنْهَنَا عَنْ ذَلِكَ فَأَضْرَبَ عَنْ ذَلِكَ عُمَرُ وَأَرَادَ أَنْ يَنْهَى عَنْ حُلَلِ الْحِبَرَةِ لِأَنَّهَا تُصْبَغُ بِالْبَوْلِ فَقَالَ لَهُ أُبَيٌّ لَيْسَ ذَاكَ لَكَ قَدْ لَبِسَهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَبِسْنَاهُنَّ فِي عَهْدِهِ
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حج تمتع یعنی حج کے ساتھ عمرہ کرنے سے منع کرنے کا ارادہ کیا، لیکن سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: یہ آپ کا حق نہیں ہے، کیونکہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج تمتع کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو منع نہیں کیا، پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے منع کرنے کے ارادے کو ترک کر دیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ وہ دھاری دار پوشاکوں سے منع کر دیں،کیونکہ ان کو پیشاب سے رنگا جاتا تھا، لیکن سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اس کا آپ کو اختیار نہیں ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا لباس زیب ِ تن کیا ہے اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد ِ مبارک میں پہنا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 7923]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين، لكن الحسن البصري لم يلق عمر ولا أُبيا، لكن قد صح نھي عمر عن متعة الحج، وأما شطره الثاني فقد جاء من طرق عن عمر، وھي وان كانت منقطعة لكن بمجموعھا تدل علي ان لھا اصلا عن عمر، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21283 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21607»
وضاحت: فوائد: … اگر پیشاب سے رنگنے کی بات درست ہو تو اس سے کپڑے کا نجس ہونا لازم نہیں آتا، کیونکہ رنگے کے بعد جب اس کو دھویا جائے گا تو وہ پاک ہو جائے گا، ایسا پیشاب کپڑے کے ساتھ تو نہیں لگا رہتا۔

الحكم على الحديث:
رجاله ثقات رجال الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں