الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ التَّصْوِيْرِ وَ وَعِيْدِ فَاعِلِهِ
تصویر بنانے کی ممانعت اور ان کپڑوں، بچھونوں اور پردوں وغیرہ کے حکم کا بیان¤جن پر تصویریں بنی ہوتی ہیں¤تصویر سے ممانعت اور تصویر بنانے والے کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 8052
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَوَّرَ صُورَةً عُذِّبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا وَلَيْسَ بِنَافِخٍ وَمَنْ تَحَلَّمَ عُذِّبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَعْقِدَ شَعِيرَتَيْنِ وَلَيْسَ عَاقِدًا وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ يَفِرُّونَ بِهِ مِنْهُ صُبَّ فِي أُذُنَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَذَابٌ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی تصویر بنائی اسے روزِ قیامت عذاب دیا جائے گا اور اس وقت تک ہوتارہے گا، جب تک اس میں روح نہ پھونک دے، جبکہ وہ روح نہیں پھونک سکے گا، جو خواب میں تکلف کا مظاہرہ کرے گا، اسے روز قیامت عذاب دیا جائے گا اور اس وقت تک دیا جاتا رہے گا، جب تک کہ وہ جَو کے دو دانوں کے درمیان گرہ نہ لگا دے اور جو آدمی ان لوگوں کی بات سنے گا، جو اس سے دور بھاگتے ہوں،یعنی اس کو نہ سنانا چاہتے ہوں تو قیامت کے دن اس کے کان میں (سیسہ ڈال کر) اس کو عذاب دیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8052]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7042، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1866 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1866»
وضاحت: فوائد: … جاسوسی کرنے والوں، چھپ کر دوسروں کی باتیں سننے والوں یا ان کو ریکارڈ کر لینے والوں اور دوسروں کے معائب کی تلاش میں رہنے والوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے، جب کان میں ایک چیونٹی گھس جائے تو یوں لگتا ہے، جیسے کوئی جہاز داخل ہو گیا، اس سے اندازہ ہو جانا چاہیے کہ پگھلائے ہوئے سیسہ کی کتنی تکلیف ہو گی، العیاذ باللہ۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 7042
حدیث نمبر: 8053
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ وَفِيهِ وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ وَلَا يُعْجِبُهُمْ أَنْ يُسْمَعَ حَدِيثُهُمْ أُذِيبَ فِي أُذُنِهِ الْآنُكُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی قسم کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو ایسے لوگوں کی بات سنے کہ وہ لوگ اس کو بات سنانا گوارا نہ کریں تو سیسہ پگھلا کر اس کے کانوں میں ڈالا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8053]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري، أخرجه البخاري معلقا باثر الحديث: 7042، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10549 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10556»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط البخاري
حدیث نمبر: 8054
عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ يُفْتِي النَّاسَ لَا يُسْنِدُ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مِنْ فُتْيَاهُ حَتَّى جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَقَالَ إِنِّي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ وَإِنِّي أُصَوِّرُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ ادْنُهْ إِمَّا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَدَنَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فِي الْدُّنْيَا يُكَلَّفُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ وَلَيْسَ بِنَافِخٍ
۔ سیدنا نضر بن انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا، جبکہ وہ لوگوں کو فتویٰ دے رہے تھے اور اپنے فتووں میں کوئی بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب نہیں کرتے تھے، ان کے پاس ایک عراقی آدمی آیا اور اس نے کہا: میں عراق کا آدمی ہوں، میں یہ تصاویر بناتا ہوں، اس سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے دو یا تین بار کہا: قریب ہو جاؤ، پھر انھوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے دنیا میں تصویر بنائی، اسے روز قیامت یہ تکلیف دی جائے گی کہ وہ اس تصویر میں روح پھونکے، جبکہ وہ روح پھونک نہیں سکے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8054]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5963، ومسلم: 2110، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2162 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2162»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5963
حدیث نمبر: 8055
عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ يَا أَبَا الْعَبَّاسِ إِنِّي رَجُلٌ أُصَوِّرُ هَذِهِ الصُّوَرَ وَأَصْنَعُ هَذِهِ الصُّوَرَ فَأَفْتِنِي فِيهَا قَالَ ادْنُ مِنِّي فَدَنَا مِنْهُ حَتَّى وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ قَالَ أُنَبِّئُكَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كُلُّ مُصَوِّرٍ فِي النَّارِ يُجْعَلُ لَهُ بِكُلِّ صُورَةٍ صَوَّرَهَا نَفْسٌ تُعَذِّبُهُ فِي جَهَنَّمَ فَإِنْ كُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَاجْعَلِ الشَّجَرَ وَمَا لَا نَفْسَ لَهُ
۔ سعید بن ابو حسن کہتے ہیں: ایک آدمی سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے ابن عباس! میں تصاویر بناتا ہوں، مجھے ان کے بارے میں فتویٰ دیجئے،انھوں نے کہا: میرے قریب آجا، پس وہ قریب ہو گیا، انھوں نے اس کے سر پر اپنا ہاتھ رکھااور کہا: میں تجھے اس بات کی خبر دیتا ہوں، جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر مصور دوزخ میں جائے گا، اس نے جو تصویریں بنائی ہوں گی، ہر تصویر کے بدلے ایک جان بنائی جائے گا اور وہ اس کو جہنم میں عذاب دیتی رہے گی، اگر تو نے تصوریں بنانی ہی ہیں تو درخت اور غیر ذی روح چیز کی بنا لے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8055]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2225، ومسلم: 2110، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2810 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2810»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2225
حدیث نمبر: 8056
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَشَدِّ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرِينَ وَقَالَ وَكِيعٌ أَشَدُّ النَّاسِ
۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دوزخیوں میں سب سے سخت عذاب والے لوگوں میں سے روز قیامت تصویر بنانے والے ہوں گے کو ہوگا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8056]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5950، ومسلم: 2109، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4050 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4050»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5950
حدیث نمبر: 8057
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُصَوِّرُونَ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيُقَالُ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مصوروں کو روز قیامت عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا تم نے جو کچھ بنایا تھا، اب اس کو زندہ کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8057]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5951، ومسلم: 2108، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4475 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4475»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5951
حدیث نمبر: 8058
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى وِسَادَةٍ فِيهَا تَمَاثِيلُ طَيْرٍ وَوَحْشٍ فَقُلْتُ أَلَيْسَ يُكْرَهُ هَذَا قَالَ لَا إِنَّمَا يُكْرَهُ مَا نُصِبَ نَصْبًا حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَوَّرَ صُورَةً عُذِّبَ وَقَالَ حَفْصٌ مَرَّةً كُلِّفَ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا وَلَيْسَ بِنَافِخٍ
۔ لیث کہتے ہیں: میں سالم بن عبداللہ کے پاس گیا، وہ ایک تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے، جبکہ اس تکیے میں پرندوں اور وحشی جانوروں کی تصاویر تھیں، میں نے کہا: یہ تو مکروہ نہیں ہیں؟ انھوں نے کہا: نہیں، مکروہ صورت وہ ہے، جس میں تصویریں سیدھی رکھی گئی ہوں، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے تصاویربنائیں، اس کو عذاب دیا جائے گا اور اس کو یہ تکلیف دی جائے گی کہ وہ ان میں روح پھونکے، جبکہ وہ اس میں روح پھونک نہیں سکے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8058]
تخریج الحدیث: «المرفوع منه صحيح، واسناد ھذا الحديث ضعيف لضعف ليث بن ابي سليم، أخرج المرفوع منه البزار: 2994، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6326 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6326»
الحكم على الحديث:
المرفوع منه صحيح
حدیث نمبر: 8059
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تصاویر بنانے والے روز قیامت عذاب میں مبتلا کیے جائیں گے، ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے پیدا کیا ہے اس میں روح ڈال کر اس کو زندہ کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8059]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7557، ومسلم: 1207، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25869 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26394»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 7557
حدیث نمبر: 8060
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ خَلَقَ كَخَلْقِي فَلْيَخْلُقُوا بَعُوضَةً وَلْيَخْلُقُوا ذَرَّةً قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ يَخْلُقُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس سے بڑھ کراور کون ظالم ہوگا، جو میری مخلوق کی مانند مخلوق بناتا ہے، ان کو چاہیے کہ یہ مچھر پیدا کریں اور ذرہ پیدا کریں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8060]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7559، ومسلم: 2111، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10819 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10831»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 7559
حدیث نمبر: 8061
عَنْ عُمَارَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَارَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ فَرَأَى فِيهَا تَصَاوِيرَ وَهِيَ تُبْنَى فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ خَلْقًا كَخَلْقِي فَلْيَخْلُقُوا ذَرَّةً أَوْ فَلْيَخْلُقُوا حَبَّةً أَوْ لِيَخْلُقُوا شَعِيرَةً
۔ ابو زرعہ کہتے ہیں:میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مروان بن حکم کے گھر داخل ہوا، انہوں نے وہاں دیکھا کہ تصویریں بنائی جا رہی ہیں، پس سیدنا ابو ہریرہ نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس سے بڑا ظالم کون ہے، جو میری تخلیق کی طرح تخلیق کرنے لگا ہے، ان کو چاہیے کہ ایک ذرہ پیدا کریں، ایک دانہ پیدا کریں، ایک جو پیدا کریں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8061]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7559، ومسلم: 2111، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7166 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7166»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 7559