🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

25. بَابُ مَا جَاء فِي الصُّوَر وَالتَّصَالِيبِ تَكُونُ فِي البَيْتِ وَ فِي السُّتُورِ وَالشَّيَابِ وَالْبَسْطِ وَنَحْوِ ذَلِكَ
گھروں، پردوں، کپڑوں اور چادروں وغیرہ پر موجود تصویروں اور صلیبوں کے حکم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8077
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الصُّوَرِ فِي الْبَيْتِ وَنَهَى الرَّجُلَ أَنْ يَصْنَعَ ذَلِكَ وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ زَمَنَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِالْبَطْحَاءِ أَنْ يَأْتِيَ الْكَعْبَةَ فَيَمْحُوَ كُلَّ صُورَةٍ فِيهَا وَلَمْ يَدْخُلِ الْبَيْتَ حَتَّى مُحِيَتْ كُلُّ صُورَةٍ فِيهِ زَادَ فِي رِوَايَةٍ فَبَلَّ عُمَرُ ثَوْبًا وَمَحَاهَا فَدَخَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَا فِيهَا مِنْهَا شَيْءٌ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھر میں تصویروں سے اور اس سے منع فرمایا کہ آدمی تصویریں بنائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے دن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا کہ وہ کعبہ میں جائیں اور اس میں موجود ہر تصویر کو مٹا دیں، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وادیٔ بطحاء میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت تک بیت اللہ میں داخل نہ ہوئے، جب تک اس میں موجود تمام تصویریں مٹا نہ دی گئیں۔ایک روایت میں ہے: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کپڑا بھگویا اور ان تمام تصویروں کو مٹا ڈالا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ میں داخل ہوئے تو اس میں ایک تصویر بھی باقی نہیں تھی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8077]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه دون قصة عمر الترمذي: 1749، وأخرجه قصة عمر دون اوله ابوداود: 4156، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14614 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14669»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8078
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ بَعَثَ عَامِلَ شُرْطَتِهِ فَقَالَ لَهُ أَتَدْرِي عَلَى مَا أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَنْحِتَ كُلَّ يَعْنِي صُورَةً وَأَنْ أُسَوِّيَ كُلَّ قَبْرٍ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی پولیس کا ایک عامل بھیجا اور اس سے کہا: کیا تجھے یہ پتہ ہے میں تجھے کس مہم پر بھیج رہا ہوں؟ اس کام پر جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا کہ میں ہر تصویر کو مٹا دوں اور ہر قبر کو برابر کردوں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8078]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي: 563، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1284 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1284»
وضاحت: فوائد: … قبر سے متعلقہ مسئلہ کتاب الجنائز میںگزر چکا ہے۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8079
عَنْ سَفِينَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا ضَافَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَصَنَعُوا لَهُ طَعَامًا فَقَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا لَوْ دَعَوْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ مَعَنَا فَأَرْسَلُوا إِلَيْهِ فَجَاءَ فَأَخَذَ بِعِضَادَتَيِ الْبَابِ فَإِذَا قِرَامٌ قَدْ ضُرِبَ بِهِ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجَعَ فَقَالَتْ فَاطِمَةُ لِعَلِيٍّ اتْبَعْهُ فَقُلْ لَهُ مَا رَجَعَكَ قَالَ فَتَبِعَهُ فَقَالَ مَا رَجَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّهُ لَيْسَ لِي أَوْ لَيْسَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتًا مُزَوَّقًا
۔ سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کامیزبان بنا،انھوں نے اس کے لئے کھانا تیار کیا، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اگر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی دعوت دے دیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ہمارے ساتھ کھانا کھائیں (تو بہتر ہو گا)، سو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف پیغام بھیجا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے، آپ ابھی دروازے کی چوکھٹ پر ہی تھے کہ گھر کے کونے میں لٹکایا ہوا ایک پردہ دیکھا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پر دہ دیکھا، تو واپس تشریف لے گئے۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے چلو اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مل کر پوچھو کہ آپ کس چیز کی وجہ سے واپس جا رہے ہیں، پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ واپس کیوں تشریف لے جا رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے یا نبی کے لئے مناسب نہیں کہ اس طرح کے مزین گھر میں داخل ہو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8079]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 3755، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21922 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22267»
وضاحت: فوائد: … ضرورت کے مطابق پردہ لگانا جائز ہے، اصل وجہ یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی آل کو سادگی پر برقرار رکھنا چاہتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ تھا کہ یہ دنیوی زینت و آرائش سے دور رہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8080
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى الْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ مَا أَذْنَبْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ فَقُلْتُ اشْتَرَيْتُهَا لِتَقْعُدَ عَلَيْهَا وَلِتَوَسَّدَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّورِ يُعَذَّبُونَ بِهَا يُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ وَقَالَ إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّورَةُ لَا تَدْخُلُهُ الْمَلَائِكَةُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ایک چھوٹا سا تکیہ خریدا، اس میں تصوریں تھیں، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دروازے پر کھڑے ہوگئے اور اندر داخل نہ ہوئے، میں آپ کے چہرۂ مبارک سے ناراضگی بھانپ گئی اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف توبہ کرتی ہوں، میں نے کیا گناہ کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس تکیے کا کیا معاملہ ہے؟ میں نے عرض کی: میں نے یہ خریدا ہے تا کہ آپ اس پر بیٹھیں اور ٹیک لگائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان تصویر والوں کو عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے تصویریں بنائی تھیں، اب ان کو زندہ کرو، اور جس گھر میں یہ تصویر ہو، اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8080]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3224، ومسلم: 2107، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26090 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26618»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3224
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8081
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَى فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَوَجَدَ عَلَى بَابِهَا سِتْرًا فَلَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهَا وَقَلَّمَا كَانَ يَدْخُلُ إِلَّا بَدَأَ بِهَا قَالَ فَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَرَآهَا مُهْتَمَّةً فَقَالَ مَا لَكِ فَقَالَتْ جَاءَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَدْخُلْ عَلَيَّ فَأَتَاهُ عَلِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَاطِمَةَ اشْتَدَّ عَلَيْهَا أَنَّكَ جِئْتَهَا فَلَمْ تَدْخُلْ عَلَيْهَا فَقَالَ وَمَا أَنَا وَالدُّنْيَا وَمَا أَنَا وَالرَّقْمُ قَالَ فَذَهَبَ إِلَى فَاطِمَةَ فَأَخْبَرَهَا بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ فَقُلْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَا تَأْمُرُنِي بِهِ فَقَالَ قُلْ لَهَا تُرْسِلُ بِهِ إِلَى بَنِي فُلَانٍ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان کے دروازے پر پردہ پایا، پس اس وجہ سے وہ اندر داخل نہ ہوئے، حالانکہ ایسا کم ہی ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئیں اور سب سے پہلے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر نہ جائیں، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ گھر آئے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو پریشان دیکھا اور پوچھا: کیا بات ہے؟ انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری طرف تشریف تو لائے لیکن میرے پاس گھر میں داخل نہیں ہوئے، یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! فاطمہ پر یہ بات بہت گراں گزری ہے کہ آپ تشریف لے بھی گئے، لیکن گھر میں داخل نہ ہوئے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا دنیا سے کیا تعلق ہے؟ میرا نقش و نگار سے کیا واسطہ ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہ سن کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیغام پہنچایا، انھوں نے کہا: تم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھو کہ اب میرے لئے کیا حکم ہے؟ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ سے کہو کہ یہ کپڑا بنو فلاں کے پاس بھیج دے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8081]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2613، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4727 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4727»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ نہیںچاہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل کادل دنیوی نعمتوں میں لگ جائے، یہی وجہ ہے کہ جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے غلام اور خادم کا مطالبہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خادم کی بجائے رات کو سوتے وقت تسبیحات کا ایک عمل بتا دیا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2613
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8082
عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ آخِرُ عَهْدِهِ بِإِنْسَانٍ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَأَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ عَلَيْهِ إِذَا قَدِمَ فَاطِمَةُ قَالَ فَقَدِمَ مِنْ غَزَاةٍ لَهُ فَأَتَاهَا فَإِذَا هُوَ بِمِسْحٍ عَلَى بَابِهَا وَرَأَى عَلَى الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَلْبَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ فَرَجَعَ وَلَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهَا فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ فَاطِمَةُ ظَنَّتْ أَنَّهُ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهَا مِنْ أَجْلِ مَا رَأَى فَهَتَكَتِ السِّتْرَ وَنَزَعَتِ الْقَلْبَيْنِ مِنَ الصَّبِيَّيْنِ فَقَطَعَتْهُمَا فَبَكَى الصَّبِيَّانِ فَقَسَمَتْهُ بَيْنَهُمَا فَانْطَلَقَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُمَا يَبْكِيَانِ فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمَا فَقَالَ يَا ثَوْبَانُ اذْهَبْ بِهَذَا إِلَى بَنِي فُلَانٍ أَهْلُ بَيْتٍ بِالْمَدِينَةِ وَاشْتَرِ لِفَاطِمَةَ قِلَادَةً مِنْ عَصَبٍ وَسِوَارَيْنِ مِنْ عَاجٍ فَإِنَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي وَلَا أُحِبُّ أَنْ يَأْكُلُوا طَيِّبَاتِهِمْ فِي حَيَاتِهِمُ الدُّنْيَا
۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر پر روانہ ہوتے تو سب سے آخر میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ملتے اور جب سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کرتے، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک غزوہ سے واپس آئے تو حسب ِ دستور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ملنے گئے، اچانک نظر پڑی تو ان کے دروازے پر پردہ دیکھا اور حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انھوں نے چاندی کے کنگن پہنے ہوئے ہیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ملے بغیر واپس تشریف لے گئے اور ان کے پاس داخل نہ ہوئے، جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا تو خیال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کچھ دیکھا ہے، اس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم داخل نہیں ہوئے، انہوں نے وہ پردہ پھاڑ دیا اور بچوں کے ہاتھوں سے کنگن اتار لئے اور ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، بچے رونے لگے، انھوں نے دونوں میں ان کے حصے بانٹ دئیے، وہ دونوں روتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ چاندی بچوں سے لے لی اور مجھ سے فرمایا: اے ثوبان! یہ بنو فلاں کے پاس لے جاؤ اور ان سے ان کے عوض فاطمہ کے لیے حیوان کے پٹھوں کا ہار اور عاج کے دو کنگن بچوں کے لئے خرید لاؤ، یہ میرے اہل بیت ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ یہ اپنی نیکیوں کو دنیا میں ہی استعمال کر لیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8082]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، حميد الشامي و سليمان المنبھي مجھولان، أخرجه ابوداود: 4213، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22363 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22721»
وضاحت: فوائد: … عاج سے مراد سمندری کچھوے کی کمر کی ہڈیاں ہیں، نہ کہ ہاتھی دانت۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8083
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ كَتَبَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنْ أَنْسَخَ إِلَيْهِ وَصِيَّةَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَكَانَ فِي وَصِيَّتِهَا السِّتْرُ الَّذِي يَزْعُمُ النَّاسُ أَنَّهَا أَحْدَثَتْهُ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَلَمَّا رَآهُ رَجَعَ
۔ محمد بن علی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: عمر بن عبد العزیز نے میری طرف یہ خط لکھا کہ میں ان کے لیے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وصیت تحریر کر کے بھیجوں، پس ان کی وصیت میں وہ پردہ بھی تھا، جس کے بارے میں لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ انھوں نے اس کو لگایا تھا، تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس گئے تو اس پردے کو دیکھ کر واپس چلے گئے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8083]
تخریج الحدیث: «اثر اسناده منقطع، محمد بن علي الباقر، ھو حفيد الحسين بن علي بن ابي طالب، ولد سنة 56ھـ ومات سنة114ھـ، وقيل غير ذالك، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26421 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26953»

الحكم على الحديث:
اثر اسناده منقطع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8084
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى وِسَادَةٍ فِيهَا تَمَاثِيلُ طَيْرٍ وَوَحْشٍ فَقُلْتُ أَلَيْسَ يُكْرَهُ هَذَا قَالَ لَا إِنَّمَا يُكْرَهُ مَا نُصِبَ نَصْبًا حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ صَوَّرَ صُورَةً عُذِّبَ وَقَالَ حَفْصٌ مَرَّةً كُلِّفَ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا وَلَيْسَ بِنَافِخٍ
۔ لیث کہتے ہیں: میں سالم بن عبداللہ کے پاس گیا، وہ ایک تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے، جبکہ اس تکیے میں پرندوں اور وحشی جانوروں کی تصاویر تھیں، میں نے کہا: یہ تو مکروہ نہیں ہیں؟ انھوں نے کہا: نہیں، مکروہ صورت وہ ہے، جس میں تصویریں سیدھی رکھی گئی ہوں، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے تصاویربنائیں، اس کو عذاب دیا جائے گا اور اس کو یہ تکلیف دی جائے گی کہ وہ ان میں روح پھونکے، جبکہ وہ اس میں روح پھونک نہیں سکے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8084]
تخریج الحدیث: «المرفوع منه صحيح، واسناد ھذا الحديث ضعيف لضعف ليث بن ابي سليم، أخرج المرفوع منه البزار: 2994، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6326 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6326»

الحكم على الحديث:
المرفوع منه صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8085
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ لَنَا سِتْرٌ فِيهِ تِمْثَالُ طَائِرٍ فَكَانَ الدَّاخِلُ إِذَا دَخَلَ اسْتَقْبَلَهُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ حَوِّلِي هَذَا فَإِنِّي كُلَّمَا دَخَلْتُ فَرَأَيْتُهُ ذَكَرْتُ الدُّنْيَا وَكَانَتْ لَهُ قَطِيفَةٌ كُنَّا نَقُولُ عَلَمُهَا مِنْ حَرِيرٍ فَكُنَّا نَلْبَسُهَا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہمارا ایک پردہ تھا، اس میں پرندے کی تصویر تھی، جب اندر آنے والا آتا تو وہ اسے سامنے نظر آتا تھا، ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عائشہ! اسے پھیر دو، میں جب بھی داخل ہوتا ہوں اور اس کو دیکھتاہوں تو مجھے دنیا یاد آ جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک چادر تھی، اس پر ریشم کے نشانات تھے، ہم وہ پہن لیتی تھیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8085]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2107، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24218 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24722»
وضاحت: فوائد: … امام نووی نے کہا: تصویر والے اس پردے کو تصویر کی حرمت سے پہلے پر محمول کریں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم داخل ہوتے اور اس کو دیکھتے تھے اور اس کو انکار نہیں کرتے تھے، (بعض میں اس طرح کی تصویریں حرام ہو گئیں)۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2107
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8086
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَتْرُكْ فِي بَيْتِهِ شَيْئًا وَفِي لَفْظٍ ثَوْبًا فِيهِ تَصْلِيبٌ إِلَّا قَضَبَهُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر میں کوئی ایسی چیزنہ رہنے دیتے تھے جس میں صلیب کا نشان ہو، مگر اس کو کاٹ دیتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 8086]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5952، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25996 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26524»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5952
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں