🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. بَابُ النَّهْي عَنْ ابْتَدَاءِ أَهْلِ الْكِتَابِ بِالسَّلامِ
اہل کتاب کو سلام کہنے میں پہل کرنے سے ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8274
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ وَفِي رِوَايَةٍ إِذَا لَقِيتُمُ الْمُشْرِكِينَ فِي طَرِيقٍ فَلَا تَبْدَءُوهُمْ وَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهَا قَالَ زُهَيْرٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ لِسُهَيْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم راستے میں مشرکوں سے ملو تو تم سلام میں پہل نہ کرو اور ان کو سب سے تنگ راستے کی طرف مجبور کر دو۔ زہیر کہتے ہیں: میں نے سہیل سے کہا: کیا ان سے مراد یہود و نصاری ہیں؟ انھوں نے کہا: مشرک ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8274]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2167، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7567 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7557»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2167
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8275
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَبْدَءُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى بِالسَّلَامِ وَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فِي طَرِيقٍ فَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهَا
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہودو نصاریٰ کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو، اور جب تم ان کو راستے میں ملو تو ان کو سب سے تنگ راستے کی طرف مجبور کر دو۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8275]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7606»
وضاحت: فوائد: … سب سے تنگ راستے کی طرف مجبور کرنا، اس سے غیر مسلم کی اہانت مقصود نہیں ہے، بلکہ مراد یہ ہے کہ مسلمان راستے کے درمیان میں چلیں تاکہ اسلام اور مسلمان کی فضیلت واضح ہو جائے، جب اسلام کو عملی طور پر زمین کا پسندیدہ مذہب مانا جاتا تھا، اس وقت ان احادیث پر عمل کرنے میں خوبصورتی لگتی تھی، کیونکہ ان اعمال سے اسلام کی شان و عظمت ثابت ہوتی ہے اور اِس وقت چونکہ مسلمان اپنے آپ کو شان والا ثابت نہیں کر رہے، اس لیے اسلام کو اس مرتبے والا نہیں سمجھا جا رہا۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7606
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8276
عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي رَاكِبٌ غَدًا إِلَى يَهُودٍ فَلَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ فَإِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ
۔ سیدنا ابو عبدالرحمن جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں سوار ہو کرکل یہودیوں کے پاس جانے والا ہوں، تم نے انہیں سلام کہنے میں پہل نہیں کرنی اور جب وہ تمہیں سلام کہیں تو صرف یہ کہنا ہے کہ وَعَلَیْکُمْ۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8276]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 3699، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17295 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17427»
وضاحت: فوائد: … احادیث اپنے مفہوم میں واضح ہیں، مزید وضاحت اگلے باب سے ہو گی۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں