🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

9. بَابُ مَا يُقَالُ فِي رَدُ السَّلام عَلَى أَهْلِ الْكِتَابِ
اہل کتاب کو سلام کا جواب کیسے دیا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8277
عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
۔ سیدنا ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح بیان کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8277]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8278
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكَ الْيَهُودِيُّ فَإِنَّمَا يَقُولُ السَّامُ عَلَيْكَ فَقُلْ وَعَلَيْكَ وَقَالَ مَرَّةً إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمُ الْيَهُودُ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ فَإِنَّهُمْ يَقُولُونَ السَّامُ عَلَيْكُمْ
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب یہودی لوگ تم پر سلام کرتے ہیں تو وہ (اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کے بجائے) اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ کہتے ہیں، اس لیے تم بھی جواب میں وَعَلَیْکُمْ (اور تم پر بھی ہو) کہہ دیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8278]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6928، ومسلم: 2164، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4563 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4563»
وضاحت: فوائد: … اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ کا معنی یہ ہے: تم پر ہلاکت اور موت واقع ہو۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6928
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8279
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اہل کتاب تم کو سلام کہیں تو تم جواب میں وَعَلَیْکُمْ کہا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8279]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6258، ومسلم: 2163، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11948 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11970»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6258
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8280
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ يَهُودِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَعَ أَصْحَابِهِ فَقَالَ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَرَدَّ عَلَيْهِ الْقَوْمُ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْتَ كَذَا وَكَذَا قَالَ نَعَمْ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَقُولُوا عَلَيْكَ أَيْ عَلَيْكَ مَا قُلْتَ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف فرما تھے اور اس نے کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ۔ لوگوں نے اس کا جواب دیا، لیکن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تو نے ایسے ایسے کہا ہیں نا؟ اس نے کہا: جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اہل کتاب میں سے کوئی تم پر سلام کہے تو تم صرف عَلَیْکَ کہا کرو۔ یعنی جو کچھ تونے کہا، تجھ پر بھی وہی کچھ ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8280]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن ماجه: 3697، والترمذي: 3301، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13240 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13273»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8281
عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَضْرِبُ عُنُقَهُ قَالَ لَا إِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اہل کتاب میں سے ایک آدمی آیا اور اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں سلام کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس کی گردن نہ اڑا دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بس جب یہ لوگ تم کو سلام کہیں تو تم یہ کہہ کر ان کا جواب دیا کرو: وَعَلَیْکُمْ۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8281]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6926، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13193 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13225»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6926
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8282
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ الْيَهُودَ دَخَلُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا السَّامُ عَلَيْكُمْ يَا إِخْوَانَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ وَلَعْنَةُ اللَّهِ وَغَضَبُهُ فَقَالَ يَا عَائِشَةُ مَهْ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا سَمِعْتَ مَا قَالُوا قَالَ أَوَمَا سَمِعْتِ مَا رَدَدْتُ عَلَيْهِمْ يَا عَائِشَةُ لَمْ يَدْخُلِ الرِّفْقُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ وَلَمْ يُنْزَعْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ زَادَ فِي رِوَايَةٍ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الْأَمْرِ كُلِّهِ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی جواباً یہی الفاظ دوہراتے ہوئے فرمایا: اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ۔ لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے کہا: بندروں اور خنزیروں کے بھائیو! تم پر موت اور ہلاکت واقع ہو، اور تم پر اللہ تعالیٰ کی لعنت اور غضب برسے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! رک جاؤ۔ سیدہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! جو کچھ انہوں نے کہا ہے، کیا وہ آپ نے سنا نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! میں نے ان کو جو جواب دیا ہے، کیا تم نے وہ نہیں سنا، نرمی جس چیز میں بھی پیدا ہو، وہ اسے زینت بخشتی ہے اور جس چیز سے نرمی کو نکال دیا جائے، تو یہ (نرمی کا نہ ہونا) اسے عیب دار بنا دیتا ہے۔ ایک روایت میں ہے: بیشک اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8282]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13531 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13565»
وضاحت: ٖفوائد: … قارئین کرام! غور کریں کہ جب یہودی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے سلامتی کی دعا کی بجائے ہلاکت اور موت کی بد دعاکر رہے تھے، اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے جواب میں فحش گوئی اور بد گوئی کو پسند نہیں کیا، اس سے ہمیں اپنے بولوں کا اندازہ کر لینا چاہیے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8283
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ نَاسٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ فَقَالَ عَلَيْكُمْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ عَلَيْكُمْ لَعْنَةُ اللَّهِ وَلَعْنَةُ اللَّاعِنِينَ قَالُوا مَا كَانَ أَبُوكِ فَحَّاشًا فَلَمَّا خَرَجُوا قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا حَمَلَكِ عَلَى مَا صَنَعْتِ قَالَتْ أَمَا سَمِعْتَ مَا قَالُوا قَالَ فَمَا رَأَيْتِنِي قُلْتُ عَلَيْكُمْ إِنَّهُمْ يُصِيبُهُمْ مَا أَقُولُ لَهُمْ وَلَا يُصِيبُنِي مَا قَالُوا لِي
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ کچھ یہودی لوگ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکَ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عَلَیْکُمْ (تم پر بھی ہو)۔ لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تم پر ہو اللہ کی لعنت، بلکہ سب لعنت کرنے والوں کی لعنت تم پر ہو۔ انہوں نے کہا: اے عائشہ! تمہارے باپ تو اتنے سخت گو نہ تھے، جب وہ چلے گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: جو تو نے سخت الفاظ کہے ہیں، تجھے کس چیز نے ان پر آمادہ کیا ہے؟ سیدہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے سنا نہیں کہ ان یہودیوں نے کیا کہا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے دیکھا نہیں کہ میں نے بھی جوابا عَلَیْکُمْ کہا تھا، میں ان پر جو بد دعا کروں گا، وہ ان تک پہنچے گی، لیکن مجھ پر جو وہ بد دعا کریں گے، وہ مجھ تک نہیں پہنچے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8283]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين الا ابن ابا بكر بن محمد بن عمرو لم يذكروا له سماعا من عائشة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24851 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25363»

الحكم على الحديث:
رجاله ثقات رجال الشيخين الا ابن ابا بكر بن محمد بن عمرو لم يذكروا له سماعا من عائشة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8284
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ يَهُودِيٌّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ السَّامُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْكَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ فَعَلِمْتُ كَرَاهِيَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِذَلِكَ فَسَكَتُّ ثُمَّ دَخَلَ آخَرُ فَقَالَ السَّامُ عَلَيْكَ فَقَالَ عَلَيْكَ فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ فَعَلِمْتُ كَرَاهِيَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِذَلِكَ ثُمَّ دَخَلَ الثَّالِثُ فَقَالَ السَّامُ عَلَيْكَ فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قُلْتُ وَعَلَيْكَ السَّامُ وَغَضَبُ اللَّهِ وَلَعْنَتُهُ إِخْوَانَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ أَتُحَيُّونَ رَسُولَ اللَّهِ بِمَا لَمْ يُحَيِّهِ اللَّهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ قَالُوا قَوْلًا فَرَدَدْنَا عَلَيْهِمْ إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ حُسَدٌ وَإِنَّهُمْ لَا يَحْسُدُونَنَا عَلَى شَيْءٍ كَمَا يَحْسُدُونَنَا عَلَى السَّلَامِ وَعَلَى آمِينَ
۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک یہودی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور (السلام علیکم کی بجائے) کہا:اے محمد! اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ (یعنی آپ پر موت اور ہلاکت ہو)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں جواب دیا: وَعَلَیْکَ (اور تجھ پر بھی ہو)۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے بات تو کرنا چاہی لیکن مجھے معلوم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ناپسند کریں گے، اس لیے میں خاموش رہی۔ دوسرا یہودی آیا اور کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکُم (آپ پر موت اور ہلاکت پڑے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وَعَلَیْکَ (اور تجھ پر بھی ہو)۔ اب کی بار بھی میں نے کچھ کہنا چاہا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ناپسندکرنے کی وجہ سے (خاموش رہی)۔ پھر تیسرا یہودی آیا اور کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکُم۔ مجھ سے صبر نہ ہو سکا اور میں یوں بول اٹھی: بندرو اور خنزیرو! تم پر ہلاکت ہو، اللہ کا غضب ہو اور اس کی لعنت ہو۔ اللہ تعالیٰ نے جس انداز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام نہیں کہا، کیا تم وہ انداز اختیار کرنا چاہتے ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بدزبانی اور فحش گوئی کو پسند نہیں کرتا، ان (یہودیوں) نے اَلسَّامُ عَلَیْکَ کہا اور ہم نے بھی (بد گوئی سے بچتے ہوئے صرف وَعَلَیْکَ کہہ کر) جواب دے دیا۔ دراصل یہودی حاسد قوم ہے اور (ہماری کسی) خصلت پر اتنا حسد نہیں کرتے جتنا کہ سلام اور آمین پر کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8284]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 856، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25029 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25543»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8285
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَلَّمَ نَاسٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ وَعَلَيْكُمْ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَغَضِبَتْ أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا قَالَ بَلَى قَدْ سَمِعْتُ فَرَدَدْتُهَا عَلَيْهِمْ إِنَّا نُجَابُ عَلَيْهِمْ وَلَا يُجَابُونَ عَلَيْنَا
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ کچھ یہودی لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام کہنے کے بہانے کہا: اے ابو القاسم! اَلسَّامُ عَلَیْکَ،آپ نے یوں جواب دیا: وَعَلَیْکُمْ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا، جبکہ وہ غصے میں تھیں: اے اللہ کے نبی! کیا آپ نے سنا ہے کہ انھوں نے کیا کہا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی بالکل، میں نے سنا ہے اور میں نے ان کا جواب بھی دے دیا ہے، بات یہ ہے کہ ان کے خلاف ہماری بددعائیں تو قبول ہو جاتی ہیں، لیکن ہمارے خلاف ان کی بددعائیں قبول نہیں ہوتیں۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8285]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم:2166، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15106 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15172»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ جب اہل کتاب اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہیں یا اس لفظ کو تبدیل کر کے کوئی بددعا کر یں تو ان کے جواب میں وَعَلَیْکُمْ (اور تم پر بھی ہو) کہہ دیا جائے۔ جمہور کا یہی مسلک ہے، حافظ ابن حجرؒ نے اسی کی تائید کرتے ہوئے درج ذیل روایت نقل کی:

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم:2166
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں