الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَاب مَا جَاءَ فِي الْمُصَافَحَةِ وَالْالْتِرَامِ
مصافحہ، معانقہ، ہاتھ پر بوسہ دینے اور آنے والے کے لیے کھڑا ہونے کا بیان¤مصافحہ اور معانقہ کا بیان
حدیث نمبر: 8305
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَدُنَا يَلْقَى صَدِيقَهُ أَيَنْحَنِي لَهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا قَالَ فَيَلْتَزِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ قَالَ لَا قَالَ فَيُصَافِحُهُ قَالَ نَعَمْ إِنْ شَاءَ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! جب کوئی آدمی اپنے دوست سے ملتا ہے تو کیا اسے اس کے لیے جھکنا چاہئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اس نے پھر پوچھا: کیا اس سے معانقہ کرے اور اس کا بوسہ لے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا: تو پھر کیا اس سے مصافحہ کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اگر چاہے تو۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8305]
تخریج الحدیث: «صحيح، ذكره الالباني في صحيحته، أخرجه الترمذي: 2728، وابن ماجه: 3702، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13044 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13075»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8306
عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَكْوَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَنِي أَيُّوبُ بْنُ بُشَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ فُلَانٍ الْعَنَزِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَلَمْ يَقُلِ الْغُبَرِيَّ وَفِي لَفْظٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَنَزَةَ أَنَّهُ أَقْبَلَ مَعَ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمَّا رَجَعَ تَقَطَّعَ النَّاسُ عَنْهُ فَقُلْتُ يَا أَبَا ذَرٍّ إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ بَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنْ كَانَ سِرًّا مِنْ سِرِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ أُحَدِّثْكَ قُلْتُ لَيْسَ بِسِرٍّ وَلَكِنْ كَانَ إِذَا لَقِيَ الرَّجُلَ يَأْخُذُ بِيَدِهِ يُصَافِحُهُ قَالَ عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ لَمْ يَلْقَنِي قَطُّ إِلَّا أَخَذَ بِيَدِي وَفِي رِوَايَةٍ مَا لَقِيتُهُ قَطُّ إِلَّا صَافَحَنِي غَيْرَ مَرَّةٍ وَاحِدَةٍ وَكَانَتْ تِلْكَ آخِرَهُنَّ أَرْسَلَ إِلَيَّ فَأَتَيْتُهُ زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَهُوَ عَلَى سَرِيرٍ لَهُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَوَجَدْتُهُ مُضْطَجِعًا فَأَكْبَبْتُ عَلَيْهِ فَرَفَعَ يَدَهُ فَالْتَزَمَنِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ زَادَ فِي رِوَايَةٍ فَكَانَتْ أَجْوَدَ وَأَجْوَدَ
۔ بنو عنز قبیلے کا ایک آدمی بیان کرتا ہے، میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کے ساتھ آیا، جب وہ واپس ہوئے تو لوگ ان سے علیحدہ ہوئے اور میں نے کہا: اے ابوذر! میں آپ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض امور کے بارے میں سوال کرتا ہوں۔انہوں نے کہا: لیکن اگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا راز ہوا تو میں تمہیں نہیں بتاؤں گا، میں نے کہا: رازدارانہ معاملہ نہیں ہے،بات یہ ہے جب ایک آدمی دوسرے آدمی سے ملتا ہے تو اس کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے اور مصافحہ کرتا ہے، کیا یہ درست ہے؟ انہوں نے کہا: تو نے واقعی باخبر آدمی سے سوال کیا ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی مجھے ملے ہیں، ہمیشہ میرا ہاتھ پکڑ کر مصافحہ کیا ہے، البتہ ایک بار مصافحہ نہیں کیا تھا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے آخری لمحات میں ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری طرف پیغام بھیجا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی چارپائی پر تھے، یہ اس وقت کی بات ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرض الموت میں مبتلا تھے، میں نے آپ کو لیٹا ہوا پایا، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھکا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دست مبارک اٹھایا اور مجھے ساتھ لگا لیا، یہ انداز تو مصافحہ سے کس قدر بہتر اور عمدہ تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8306]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة العنزي، وايوبُ بن بشيرالعدوي، روي عنه غير واحد، وذكره ابن حبان في ثقاته لكن جھّله ابن خراش، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21443 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21774»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 8307
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ الْتَقَيَا فَأَخَذَ أَحَدُهُمَا بِيَدِ صَاحِبِهِ إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَحْضُرَ دُعَاءَهُمَا وَلَا يُفَرِّقَ بَيْنَ أَيْدِيهِمَا حَتَّى يَغْفِرَ لَهُمَا
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو مسلمان جب آپس میں ملتے ہیں اور ایک ان میں سے دوسرے کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے اور مصافحہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ ان کی دعا میں شریک ہو (یعنی قبول کرے) اور ان کے ہاتھوں کو اس وقت تک جدا نہ کرے،، جب تک ان کو بخش نہ دے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8307]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه البزار: 2004، وابويعلي: 4139، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12451 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12478»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8308
عَنْ أَبِي دَاوُدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقِيتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَلَّمَ عَلَيَّ وَأَخَذَ بِيَدِي وَضَحِكَ فِي وَجْهِي قَالَ تَدْرِي لِمَ فَعَلْتُ هَذَا بِكَ قَالَ قُلْتُ لَا أَدْرِي وَلَكِنْ لَا أَرَاكَ فَعَلْتَهُ إِلَّا لِخَيْرٍ قَالَ إِنَّهُ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَفَعَلَ بِي مِثْلَ الَّذِي فَعَلْتُ بِكَ فَسَأَلَنِي فَقُلْتُ مِثْلَ الَّذِي قُلْتَ لِي فَقَالَ مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَلْتَقِيَانِ فَيُسَلِّمُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ وَيَأْخُذُ بِيَدِهِ لَا يَأْخُذُهُ إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَتَفَرَّقَانِ حَتَّى يُغْفَرَ لَهُمَا
۔ ابو داؤد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے ملا، انہوں نے مجھے سلام کہا، میرا ہاتھ پکڑا،مسکرائے اور کہا: کیا تمہیں معلوم ہے میں نے تمہارے ساتھ ایسا کیوں کیا ہے؟ میں نے کہا: معلوم تو نہیں ہے! لیکن میرا یقین ہے تم نے جو کچھ بھی کیا ہے، اس میں خیر ہی ہو گی، پھر انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے ملے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے ساتھ بھی اسی طرح کیا تھا، جس طرح میں نے تمہارے ساتھ کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی مجھ سے اسی طرح پوچھا تھا، جس طرح تم نے مجھ سے پوچھا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: جب دو مسلمان ملاقات کرتے ہیں اور ان میں سے ایک اپنے ساتھی پر سلام کہتا ہے اور اس کا ہاتھ پکڑتا ہے، لیکن یہ عمل صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہو، تو وہ ابھی تک جدا نہیں ہوتے، کہ اللہ تعالیٰ ان کو بخش دیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8308]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، ابوداود نفيع بن الحارث الاعمي متروك، أخرجه الطبراني في الاوسط: 7626، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18548 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18747»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 8309
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ بَلَغَنِي حَدِيثٌ عَنْ رَجُلٍ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَرَيْتُ بَعِيرًا ثُمَّ شَدَدْتُ عَلَيْهِ رَحْلِي فَسِرْتُ إِلَيْهِ شَهْرًا حَتَّى قَدِمْتُ عَلَيْهِ الشَّامَ فَإِذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقُلْتُ لِلْبَوَّابِ قُلْ لَهُ جَابِرٌ عَلَى الْبَابِ فَقَالَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ قُلْتُ نَعَمْ فَخَرَجَ يَطَأُ ثَوْبَهُ فَاعْتَنَقَنِي وَاعْتَنَقْتُهُ قُلْتُ حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ مجھے ایک حدیث اس آدمی سے پہنچی، جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی،پس میں نے سواری خریدی، پھر میں نے اس پر کجا وہ باندھ کر ایک ماہ کا سفر کیا، یہاں تک کہ میں اس کے پاس شام پہنچ گیا، وہ سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے دربان سے کہا: عبداللہ سے کہو کہ جابر ملاقات کے لئے دروازے پر حاضر ہے، انھوں نے پوچھا: عبداللہ کا بیٹا جابر،میں نے کہا: جی ہاں، پس وہ اپنا کپڑا روندتے ہوئے باہر آئے اور وہ مجھ سے بغلگیر ہو گئے اور میں ان سے بغلگیر ہو گیا، پھر میں نے کہا: جی مجھے آپ کے حوالے سے ایک حدیث موصول ہوئی ہے (وہ براہِ راست سننے کے لیے آیا ہوں)، پھر ایک طویل حدیث ذکر کی۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8309]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الحاكم: 2/ 437، والبخاري في الادب المفرد: 970، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16043 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16138»
وضاحت: فوائد: … یہ ایک طویل حدیث ہے، جس میں قیامت کے دن قصاص اور بدلا دلانے کا ذکر ہے، یہاں اس کو ذکر کرنے کا مقصود یہ ہے کہ صحابہ نے آپس میں معانقہ کیا تھا۔
الحكم على الحديث: صحیح