🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

17. باب مَا جَاءَ فِي تَقْبِيْلِ الْيَدِ وَالْجَبْهَةِ
ہاتھ اور پیشانی کابوسہ لینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8314
قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَبِي وَقَالَ غَيْرُ يُونُسَ بْنِ رَزِينٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ نَزَلَ الرَّبَذَةَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ يُرِيدُونَ الْحَجَّ قِيلَ لَهُمْ هَاهُنَا سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَتَيْنَاهُ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ ثُمَّ سَأَلْنَاهُ فَقَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي هَذِهِ وَأَخْرَجَ لَنَا كَفَّهُ كَفًّا ضَخْمَةً قَالَ فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَقَبَّلْنَا كَفَّيْهِ جَمِيعًا
۔ عبدالرحمن کہتے ہیں:میرے باپ اور ان کے ساتھی ربذہ مقام میں اترے،وہ حج کے ارادے سے جا رہے تھے، انہیں بتلایا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابی سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بھی یہاں ہیں، پس ہم ان کے پاس آئے ہم نے انہیں سلام کہا، پھر ان سے کچھ سوال کیا، انہوں نے کہا: میں نے اپنے ہاتھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی، پھر انھوں نے اپنی پر گوشت ہتھیلی ہماے سامنے ظاہر کی، پس ہم ان کی طرف اٹھے اور ان کی دونوں ہتھیلیوں کا بوسہ لیا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8314]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين، أخرجه الطبراني في الاوسط: 661، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16551 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16666»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8315
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنْتُ فِي سَرِيَّةٍ مِنْ سَرَايَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَاصَ النَّاسُ حَيْصَةً وَكُنْتُ فِيمَنْ حَاصَ فَقُلْنَا كَيْفَ نَصْنَعُ وَقَدْ فَرَرْنَا مِنَ الزَّحْفِ وَبُؤْنَا بِالْغَضَبِ ثُمَّ قُلْنَا لَوْ دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ فَبِتْنَا ثُمَّ قُلْنَا لَوْ عَرَضْنَا أَنْفُسَنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِنْ كَانَتْ لَهُ تَوْبَةٌ وَإِلَّا ذَهَبْنَا فَأَتَيْنَاهُ قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ فَخَرَجَ فَقَالَ مَنِ الْقَوْمُ قَالَ فَقُلْنَا نَحْنُ الْفَرَّارُونَ قَالَ لَا بَلْ أَنْتُمُ الْعَكَّارُونَ أَنَا فِئَتُكُمْ وَأَنَا فِئَةُ الْمُسْلِمِينَ قَالَ فَأَتَيْنَاهُ حَتَّى قَبَّلْنَا يَدَهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بھیجے ہوئے سرایا میں سے ایک سریّہ کی بات ہے، میں خود بھی اس میں تھا، لوگوں نے بھاگنا شروع کر دیا اور میں بھی فرار اختیار کرنے والوں میں سے تھا، پھر ہم نے کہا: اب ہم کیا کریں، ہم تو لڑائی سے بھاگے ہیں اور غضب ِ الہی کے ساتھ لوٹے ہیں، پھر ہم نے کہا: اب ہم مدینہ میں داخل ہو جائیں اور اندر جا کر رات گزاریں، لیکن پھر ہمارے ذہن میں یہ بات آئی کہ ہم اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پیش کرتے ہیں، اگر توبہ کا حق ہوا تو ٹھیک، وگرنہ ہم چلے جائیں گے، پس ہم نمازِ فجر سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے تو پوچھا: کون لوگ ہیں؟ ہم نے کہا: جی ہم ہیں، لڑائی سے بھاگ کر آ جانے والے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں نہیں، بلکہ تم تو قتال کی طرف پلٹ جانے والے ہو اور میں تمہارا مدد گار ہوں اور میں تمام مسلمانوں کی پناہ گاہ اور ان کا مددگار ہوں۔ پس ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر بوسہ لیا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8315]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف يزيد بن ابي زياد، أخرجه الترمذي: 1716، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5384 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5384»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8316
عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ رَأَى فِي مَنَامِهِ أَنَّهُ يُقَبِّلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ فَنَاوَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَبَّلَ جَبْهَتَهُ
۔ سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بوسہ دے رہا ہوں، میں نے حاضر ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود کو ان پر پیش کیا اور انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی پر بوسہ دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8316]
تخریج الحدیث: «ضعيف لاضطراب اسناده ومتنه، أخرجه عبد الرزاق: 2394، والنسائي في الكبري: 7631، وابن ابي شيبة: 11/ 78، والطبراني: 3717، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21863 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22207»
وضاحت: فوائد: … مسئلہ کی وضاحت کے لیے ملاحظہ ہوں حدیث نمبر (۸۳۰۹)کے فوائد

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں