الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَرْتِيلِ الْقِرَاءَةِ وَقِرَاءَةِ النَّبِي ﷺ
قرآن پاک ٹھہر ٹھہر کر (ترتیل سے) پڑھا جائے
حدیث نمبر: 8365
عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ
۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی آوازوں کے ذریعہ قرآن پاک کو خوبصورت بناؤ۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8365]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1468، والنسائي: 2/ 179، وعلقه البخاري في صحيحه في كتاب التوحيد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18494 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18688»
وضاحت: فوائد: … یہ وہ لوگ تھے جو زبان سے تو قرآن مجید کی تلاوت کر رہے تھے، لیکن ان کے دلوں نے نہ اس کتاب کو سمجھا اور نہ اس سے متأثر ہوئے۔قرآن مجید کتنے دنوں میں ختم کرنا چاہیے؟ ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۸۳۷۳م)
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8366
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ ذُكِرَ لَهَا أَنَّ نَاسًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ فِي اللَّيْلَةِ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ فَقَالَتْ أُولَئِكَ قَرَءُوا وَلَمْ يَقْرَءُوا كُنْتُ أَقُومُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ التَّمَامِ وَفِي رِوَايَةٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ اللَّيْلَةَ التَّمَامَ فَكَانَ يَقْرَأُ سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَآلَ عِمْرَانَ وَالنِّسَاءِ فَلَا يَمُرُّ بِآيَةٍ فِيهَا تَخَوُّفٌ إِلَّا دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَاسْتَعَاذَ وَلَا يَمُرُّ بِآيَةٍ فِيهَا اسْتِبْشَارٌ إِلَّا دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَغِبَ إِلَيْهِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ان کے سامنے ایسے لوگوں کا ذکر کیا گیا، جو ایک رات میں ایک دو دو بار قرآن مجید پڑھ لیتے ہیں، سیدہ نے ان کے بارے میں کہا: ان کا پڑھنا بھی نہ پڑھنے کی طرح ہے، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ساری رات قیام کرتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورۂ بقرہ، سورۂ آل عمران اور سورۂ نساء پڑھتے تھے اور جب خوف والی آیت کی تلاوت کرتے تواللہ تعالیٰ سے دعا کرتے اور پناہ طلب کرتے اور اگر خوشخبری والی آیت کے پاس سے گزرتے تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے اور اس کے سامنے عاجزانہ درخواست کرتے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8366]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه البيھقي: 2/ 310، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24609 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25116»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث مختلف طرق سے روایت کی گئی ہے، دو سندیں اور ان کے متون درج ذیل ہیں غور فرمائیں: ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں: قَالَ نَافِعٌ: أُرَاھَا حَفْصَۃَ أَنَّہَا سُئِلَتْ عَنْ قِرَائَ ۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَتْ: إِنَّکُمْ لاَتَسْتَطِیْعُوْنَہَا، قَالَ: فَقِیْلَ لَھَا: أَ خْبِرِیْنَا بِہَا، قَالَ: فَقَرَأَ تْ قِرَائَ ۃً تَرَسَّلَتْ فِیْہَا، قَالَ أَ بُوْعَامِرٍ: قَالَ نَافِعٌ: فَحَکٰی لَنَا اِبْنُ أَ بِی مُلَیْکَۃَ {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} ثُمَّ قَطَعَ، {اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ}، ثُمَّ قَطَعَ، {مَالِکِ یَوْمِ الدَّیِْن}۔ ایک زوجۂ رسول، غالبا وہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں، بیان کرتی ہیں کہ ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراء ت کے بارے میں سوال کیا گیا، انھوں نے کہا: تم تو اس کی استطاعت ہی نہیں رکھتے۔ کسی نے ان سے کہا: آپ ہمیں بتلا تو دیں۔ جوابا ً انہوں نے قراء ت کی اور اس میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھا۔ابن ابی ملیکہ نے اس کو یوں بیان کیا: {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} پڑھا، پھر ٹھہر گئے، پھر {اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ} پڑھا اور اس پر وقف کیا، پھر {مَالِکِ یَوْمِ الدَّیِْن} پڑھا۔ ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراء ت کے بارے میں سوال کیا گیا، انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر آیت پر ٹھہر ٹھہر کر تلاوت کرتے تھے: {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مَالِکِ یَوْمِ الدَّیِْن}۔ (مسند احمد: ۲۶۵۸۳، ابوداود: ۴۰۰۱، ترمذی: ۲۹۲۷)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت کے دوران ہر آیت پر وقف بھی کیا جائے اور ٹھہراؤ کا بھی خیال رکھا جائے۔ وائے مصیبت! اکثر مسلمان تلاوت ِ قرآن کے سلسلے میں مقدار کی طرف توجہ کرتے ہیں، معیار کو نہیں دیکھتے، بالخصوص تراویح اور رمضان میں۔ ان کا ذہن یہ ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ پاروں کی تلاوت کرکے جلدی جلدی قرآن مجید ختم کیا جائے۔ ایسے لوگوں سے گزارش ہے کہ سب سے پہلے اپنے عمل میں معیار کے مطابق حسن پیدا کریں، ترتیل کے ساتھ تلاوت کریں اور ہر ایک آیت پر وقف کریں، اگر زیادہ مقدار چاہتے ہیں تو زیادہ وقت دیں۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت کے دوران ہر آیت پر وقف بھی کیا جائے اور ٹھہراؤ کا بھی خیال رکھا جائے۔ وائے مصیبت! اکثر مسلمان تلاوت ِ قرآن کے سلسلے میں مقدار کی طرف توجہ کرتے ہیں، معیار کو نہیں دیکھتے، بالخصوص تراویح اور رمضان میں۔ ان کا ذہن یہ ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ پاروں کی تلاوت کرکے جلدی جلدی قرآن مجید ختم کیا جائے۔ ایسے لوگوں سے گزارش ہے کہ سب سے پہلے اپنے عمل میں معیار کے مطابق حسن پیدا کریں، ترتیل کے ساتھ تلاوت کریں اور ہر ایک آیت پر وقف کریں، اگر زیادہ مقدار چاہتے ہیں تو زیادہ وقت دیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8367
عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ بَعْضَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَعْلَمُهَا إِلَّا حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا سُئِلَتْ عَنْ قِرَاءَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّكُمْ لَا تُطِيقُونَهَا قَالَتْ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تَعْنِي التَّرْتِيلَ
۔ ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کسی بیوی سے سوال کیا گیا، میرا خیال تو یہی ہے کہ وہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراء ت کے بارے میں سوال کیا گیا تھا، انہوں نے کہا: تم اُس اندازِ تلاوت کی طاقت نہیں رکھتے، پھر انھوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے تھے: {اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ}۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8367]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26451 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26983»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیْلًا} (سورۂ مزمل: ۴) … قرآن مجید کو صاف صاف اور عمدہ طریقہ پر پڑھا کرو۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8368
عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ قِرَاءَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ يَمُدُّ بِهَا صَوْتَهُ مَدًّا وَفِي لَفْظٍ كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَدًّا يَمُدُّ بِهَا مَدًّا
۔ امام قتادہ رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراء ت کیسی تھی؟ انھوں نے کہا: آپ کھینچ کھینچ کر اور لمبا کر کے قراء ت کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8368]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5045، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12198 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12222»
وضاحت: فوائد: … فَرَجَّعَ: بلند آواز میں تلاوت کرتے ہوئے آواز کو گلے میں گھمانا، اس سے ایک خاص قسم کا حسن اور نغمہ پیدا ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8369
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فِي مَسِيرِهِ سُورَةَ الْفَتْحِ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَقَالَ مَرَّةً نَزَلَتْ سُورَةُ الْفَتْحِ وَهُوَ فِي مَسِيرٍ لَهُ فَجَعَلَ يَقْرَأُ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ قَالَ فَرَجَّعَ فِيهَا قَالَ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لَوْلَا أَنْ أَكْرَهَ أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَيَّ لَحَكَيْتُ لَكُمْ قِرَاءَتَهُ
۔ معاویہ بن قرہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے سال اپنے سفر میں سورۂ فتح کی تلاوت کی، اور ایک روایت میں ہے: سورۂ فتح اس وقت نازل ہوئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر میں تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سواری پر اس کی تلاوت کی اور بلند آواز میں تلاوت کرتے ہوئے آواز کو گلے میں گھمایا، پھر سیدنا معاویہ رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: اگر لوگوں کے مجھ پر جمع ہو جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمہارے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراء ت نقل کرتا۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8369]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7540، ومسلم: 794، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20542 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20816»
وضاحت: فوائد: … آہ آہ کے الفاظ صحیح بخاری میںیوں ہیں: آء آء آئ۔یہ اتار چڑھاؤ کے ساتھ آواز کو گلے میں گھمانے کا انداز ہے، تجوید کا ماہر آدمی عملی طور پر آپ کو بتا سکتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8370
حَدَّثَنَا شَبَّابَةُ وَأَبُو طَالِبِ بْنُ جَابَانَ الْقَارِئُ قَالَا ثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ ابْنُ جَابَانَ فِي حَدِيثِهِ آَهْ آَهْ
۔ شبابہ اور ابو طالب بن جابان القاری رحمۃ اللہ علیہما دونوں بیان کرتے ہیں کہ ہم سےشعبہ نے بیان کیا،انھوں نے معاویہ بن قرہ رحمۃ اللہ علیہ سے،وہ سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے اور وہ بنی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اوپر والی حدیث کی مانند ہی بیان کرتے ہیں۔ ابن جابان (کی روایت)کے الفاظ یہ ہیں: آء آء یعنی الف کو کھینچ کر پڑھتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8370]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20817»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8371
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَلَوْلَا أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَيَّ لَحَكَيْتُ لَكُمْ قِرَاءَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَرَأَ سُورَةَ الْفَتْحِ قَالَ يَعْنِي مُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ لَوْلَا أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَيَّ لَحَكَيْتُ لَكُمْ مَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُغَفَّلٍ كَيْفَ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ بَهْزٌ وَغُنْدَرٌ قَالَ فَرَجَّعَ فِيهَا
۔ سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فتح مکہ والے دن قراء ت کرتے ہوئے سنا، اگر مجھ پر لوگوں کا ہجوم ہو جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمہارے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراء ت کی نقل اتارتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ فتح پڑھی تھی۔معاویہ بن قرہ نے کہا: اگر مجھ پر لوگوں کے جمع ہو جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمہارے لیے سیدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کی بتلائی ہوئی سورت کی نقل اتارتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیسے تلاوت کی تھی، غندر راوی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آواز کو گھما کر پڑھا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8371]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4281، 4835، 5034، ومسلم: 794، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16789 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16912»
وضاحت: فوائد: … مذکورہ آیتیہ تھی: {إِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُکَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ فَإِنَّکَ أَ نْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ} … اگر تو ان کو عذاب دے تو بیشک وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کو بخش دے تو بیشک تو ہی غالب حکمت والا ہے۔ [المائدۃ: ۱۱۸] آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پورے قیام میں یہی آیت پڑھتے رہے، اس آیت میں اللہ تعالی کے سامنے عجیب انداز میں عاجزی کا اظہار کیا گیا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح