الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ اِسْتِمَاعِ الْقُرْآنِ وَالْبُكَاءِ عِنْدَ ذَلِكَ ¤ بَابُ الْحَث عَلَى تَعَاهُدِ الْقُرْآنِ وَاسْتِدْكَارِهِ وَالنَّهْي عَنْ أَنْ يَقُولَ: نَسِيْتُ آيَةً كَذَا كَذَا
قرآن مجید کی دیکھ بھال کرنے اور اس کو یاد رکھنے کا بیان اور اس سے ممانعت کہ بندہ یہ کہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں
حدیث نمبر: 8386
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي اقْرَأْ عَلَيَّ مِنَ الْقُرْآنِ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ أَلَيْسَ مِنْكَ تَعَلَّمْتُهُ وَأَنْتَ تُقْرِئُنَا فَقَالَ إِنِّي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ اقْرَأْ عَلَيَّ مِنَ الْقُرْآنِ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ عَلَيْكَ أُنْزِلَ وَمِنْكَ تَعَلَّمْنَاهُ قَالَ بَلَى وَلَكِنِّي أُحِبُّ أَسْمَعُهُ مِنْ غَيْرِي
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: انھوں نے مجھ سے کہا: تم مجھ پر قرآن مجید کی تلاوت کرو، میں نے کہا: کیا میں نے تم سے قرآن مجید کی تعلیم حاصل نہیں کی اور تم نے ہمیں نہیں پڑھایا؟ انھوں نے کہا: ایک دن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے کہا: تم مجھ پر قرآن مجید کی تلاوت کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ پر نازل نہیں ہوا اور ہم نے آپ سے نہیں سیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: جی کیوں نہیں، لیکن میں پسند کرتا ہوں کہ دوسرے سے سنوں۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8386]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5049، 5050، 5056، و مسلم: 800، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3550 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3550»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5049
حدیث نمبر: 8387
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ عَلَيَّ الْقُرْآنَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَقْرَأُ عَلَيْكَ وَإِنَّمَا أُنْزِلَ عَلَيْكَ قَالَ إِنِّي أَشْتَهِي أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي قَالَ فَافْتَتَحْتُ سُورَةَ النِّسَاءِ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ فَلَمَّا بَلَغْتُ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا [سورة النساء: ٤١] قَالَ نَظَرْتُ إِلَيْهِ وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: مجھے قرآن مجید کی تلات سناؤ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ پر کیسے پڑھوں، جبکہ قرآن آپ پر نازل ہوا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری خواہش ہوتی ہے کہ میں دوسروں سے سنوں۔ پس میں نے سورۂ نساء کی تلاوت شروع کردی، جب میں اس آیت پر پہنچا {فَکَیْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ أُمَّۃٍ بِشَہِیدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَی ہَؤُلَاءِ شَہِیدًا}(وہ کیفیت کیسی ہو گی جب ہم ہر امت سے گواہ لائیں گے اور اے پیغمبر تجھے ان سب پر گواہ لائیں گے)، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب دیکھا، آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8387]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4118»
وضاحت: فوائد: … قرآن مجید کی تلاوت غور سے سننا، اس پر تدبّر کرنا، سماع کے وقت رونا اور دوسرے سے قرآن مجید کی تلاوت سنانے کا مطالبہ کرنا، یہ سب مستحبّ اور پسندیدہ امورہیں۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4118
حدیث نمبر: 8388
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنِ اسْتَمَعَ إِلَى آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى كُتِبَ لَهُ حَسَنَةٌ مُضَاعَفَةٌ وَمَنْ تَلَاهَا كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ کی کتاب سے ایک آیت غور سے سنے گا، اس کی نیکی کو کئی گنا بڑھا کر لکھا جائے گا اور جو خود اس کی تلاوت کرے گا، یہ اس کے لئے روز قیامت نور ہوگا۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8388]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عباس بن ميسرة لين الحديث، والحسن البصري لم يسمع من ابي ھريرة۔ أخرجه البيقھي في الشعب: 1981، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8494 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8475»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 8389
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِئْسَمَا لِأَحَدِكُمْ أَوْ بِئْسَمَا لِأَحَدِهِمْ أَنْ يَقُولَ نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ اسْتَذْكِرُوا الْقُرْآنَ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهَا
(8389م) (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ تَعَاهَدُوا هَذِهِ الْمَصَاحِفَ وَرُبَّمَا قَالَ الْقُرْآنَ فَلَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهِ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ إِنِّي نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ
(8389م) (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ تَعَاهَدُوا هَذِهِ الْمَصَاحِفَ وَرُبَّمَا قَالَ الْقُرْآنَ فَلَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهِ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ إِنِّي نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بری بات ہے کہ آدمی یہ کہے: میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ مجھے بھلا دی گئی ہے۔ قرآن کو یاد رکھا کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ قرآن رسی سے نکل کر بھاگنے والی اونٹنی کی بہ نسبت لوگوں کے سینوں سے جلدی نکل جانے والا ہے۔
۔ (دوسری سند)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن مجید کی نگہداشت رکھو، یہ قرآن رسی سے نکل کر بھاگنے والی اونٹنی کی بہ نسبت لوگوں کے سینوں سے جلدی نکل جانے والا ہے۔ نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی یہ نہ کہا کرے: میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں، بلکہ یہ کہا کرے کہ اس کو بھلا دیا گیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8389]
۔ (دوسری سند)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن مجید کی نگہداشت رکھو، یہ قرآن رسی سے نکل کر بھاگنے والی اونٹنی کی بہ نسبت لوگوں کے سینوں سے جلدی نکل جانے والا ہے۔ نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی یہ نہ کہا کرے: میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں، بلکہ یہ کہا کرے کہ اس کو بھلا دیا گیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8389]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5032، ومسلم: 790، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3960 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3960»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5032
حدیث نمبر: 8390
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8390]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5033، ومسلم: 791، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19546 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19775»
وضاحت: فوائد: … میںفلاں آیت بھول گیا۔ اپنی طرف نسیان کی نسبت کرنے سے ممانعت اس لیے ہے کہ انسان ان لوگوں کے زمرے میں شامل نہ ہو جائے، جن کی اللہ تعالی نے اس طرح مذمت کی ہے: {کَذَالِکَ اَتَتْکَ آیٰتُنَا فَنَسِیْتَھَا وَکَذَالِکَ الْیَوْمَ تُنْسٰی۔} … جس طرح (دنیا میں) تیرے پاس ہمارے آیتیں آئیں، لیکن تو نے ان کو بھلا دیا، اسی طرح آج (قیامت کے دن) تجھے بھی بھلا دیا جائے گا۔ چنانچہ ایسی بات کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے، ویسے بھییہ بات انسان کی سستی اور غفلت پر دلالت کرتی ہے۔ قرآن مجید کو بھول جانا، یہ دراصل بندے کا فعل نہیں ہوتا، بلکہ اللہ تعالی کا فعل ہوتا ہے اور وہ اس طرح کہ جب بندہ قرآن مجید کو دوہرانے سے غفلت برتتا ہے تو اللہ تعالی اس کی سزا کے طور پر اس کو قرآن مجید بھلا دیتا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5033
حدیث نمبر: 8391
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ مَثَلُ صَاحِبِ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ إِنْ عَقَلَهَا صَاحِبُهَا حَبَسَهَا وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ
(8391م) (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْقُرْآنِ إِذَا عَاهَدَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ فَقَرَأَهُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ كَمَثَلِ رَجُلٍ لَهُ إِبِلٌ فَإِنْ عَقَلَهَا حَفِظَهَا وَإِنْ أَطْلَقَ عُقُلَهَا ذَهَبَتْ وَكَذَلِكَ صَاحِبُ الْقُرْآنِ
(8391م) (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْقُرْآنِ إِذَا عَاهَدَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ فَقَرَأَهُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ كَمَثَلِ رَجُلٍ لَهُ إِبِلٌ فَإِنْ عَقَلَهَا حَفِظَهَا وَإِنْ أَطْلَقَ عُقُلَهَا ذَهَبَتْ وَكَذَلِكَ صَاحِبُ الْقُرْآنِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صاحب ِ قرآن کی مثال بندھے ہوئے اونٹ کے مالک کی سی ہے، اگر اس کا مالک اس کو باندھے رکھے تو اس کو روکے رکھے گا اور اگر وہ اس کو کھول دے تو وہ بھاگ جائے گا۔
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن کی مثال یہ ہے کہ جب اس کا قاری اس کا خیال رکھے اور دن رات اس کی تلاوت کرتا رہے تو یہ اس کو یاد رہے گا، یہ مثال اس آدمی کی سی ہے، جس کے اونٹ ہوں، اگر وہ ان کو باندھے رکھے تو وہ ان کو روکے رکھے گا اور اگر وہ ان کو چھوڑ دے تو وہ چلے جائیں گے، یہی مثال صاحب ِ قرآن کی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8391]
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن کی مثال یہ ہے کہ جب اس کا قاری اس کا خیال رکھے اور دن رات اس کی تلاوت کرتا رہے تو یہ اس کو یاد رہے گا، یہ مثال اس آدمی کی سی ہے، جس کے اونٹ ہوں، اگر وہ ان کو باندھے رکھے تو وہ ان کو روکے رکھے گا اور اگر وہ ان کو چھوڑ دے تو وہ چلے جائیں گے، یہی مثال صاحب ِ قرآن کی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8391]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري:5031، ومسلم: 789، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4665 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4665»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري:5031
حدیث نمبر: 8392
عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ أَمِيرِ عَشَرَةٍ إِلَّا يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولًا لَا يَفُكُّهُ مِنْ ذَلِكَ الْغُلِّ إِلَّا الْعَدْلُ وَمَا مِنْ رَجُلٍ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَنَسِيَهُ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ يَلْقَاهُ وَهُوَ أَجْذَمُ
۔ سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دس افراد کا امیر اور مسؤل قیامت کے دن اس حال میں آئے گاکہ لوہے (کی زنجیر) سے جکڑا ہوا ہو گا، اس قید سے آزاد کرانے والی چیز اس کا عدل و انصاف ہو گا، اور جو آدمی قرآن مجید پڑھنے کے بعد بھلا دیتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ اس کا ہاتھ کٹا ہوا (یا کوڑھ زدہ) ہو گا۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8392]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قوله: وما من احد تعلم القرآن وھذا اسناد ضعيف لابھام الراوي عن سعد بن عبادة، ولجھالة عيسي بن فائد۔ أخرجه مختصرا ابوداود: 1474، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22456 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22823»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره دون قوله: وما من احد تعلم القرآن وھذا اسناد ضعيف لابھام الراوي عن سعد بن عبادة
حدیث نمبر: 8393
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
۔سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8393]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 171، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2312 ترقیم بيت الأفكار الدولية: غير محدد»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ صا حب ِ قرآن کو چاہیے کہ وہ اپنی منزل کا خیال رکھے اور باقاعدگی سے تلاوت کرتا رہے، تاکہ نسیان سے محفوظ رہے، جو کہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت کی ناقدری ہے۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره ۔ أخرجه ابن ماجه: 171