الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ اِسْتِمَاعِ الْقُرْآنِ وَالْبُكَاءِ عِنْدَ ذَلِكَ ¤ بَابُ الْحَث عَلَى تَعَاهُدِ الْقُرْآنِ وَاسْتِدْكَارِهِ وَالنَّهْي عَنْ أَنْ يَقُولَ: نَسِيْتُ آيَةً كَذَا كَذَا
قرآن مجید کی دیکھ بھال کرنے اور اس کو یاد رکھنے کا بیان اور اس سے ممانعت کہ بندہ یہ کہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں
حدیث نمبر: 8387
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ عَلَيَّ الْقُرْآنَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أَقْرَأُ عَلَيْكَ وَإِنَّمَا أُنْزِلَ عَلَيْكَ قَالَ إِنِّي أَشْتَهِي أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي قَالَ فَافْتَتَحْتُ سُورَةَ النِّسَاءِ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ فَلَمَّا بَلَغْتُ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا [سورة النساء: ٤١] قَالَ نَظَرْتُ إِلَيْهِ وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: مجھے قرآن مجید کی تلات سناؤ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ پر کیسے پڑھوں، جبکہ قرآن آپ پر نازل ہوا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری خواہش ہوتی ہے کہ میں دوسروں سے سنوں۔ پس میں نے سورۂ نساء کی تلاوت شروع کردی، جب میں اس آیت پر پہنچا {فَکَیْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ أُمَّۃٍ بِشَہِیدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَی ہَؤُلَاءِ شَہِیدًا}(وہ کیفیت کیسی ہو گی جب ہم ہر امت سے گواہ لائیں گے اور اے پیغمبر تجھے ان سب پر گواہ لائیں گے)، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب دیکھا، آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8387]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4118»
وضاحت: فوائد: … قرآن مجید کی تلاوت غور سے سننا، اس پر تدبّر کرنا، سماع کے وقت رونا اور دوسرے سے قرآن مجید کی تلاوت سنانے کا مطالبہ کرنا، یہ سب مستحبّ اور پسندیدہ امورہیں۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4118
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8387 in Urdu