الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. مَا جَاءَ فِي سُورَةِ مريم
سورۂ مریم کی قراء ات کا بیان
حدیث نمبر: 8420
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ حَفِظْتُ السُّنَّةَ كُلَّهَا غَيْرَ أَنِّي لَا أَدْرِي أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ أَمْ لَا وَلَا أَدْرِي كَيْفَ كَانَ يَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عُتِيًّا [سورة الشورى: ٤٧] أَوْ عُسِيًّا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے تمام سنتیں یاد کی ہیں، البتہ مجھے یہ علم نہ ہو سکا کہ رسول اللہ ظہر اور عصر کی نمازوں میں قراء ت کرتے تھے یا نہیں، نیز میں یہ بھی نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم {وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْکِبَرِ عُتِیًّا} والی آیت میں لفظ {عُتِیًّا} پڑھتے تھے یا{عُسِیًّا} (دونوں الفاظ کے معانی بڑھاپے اور عمر رسیدگی کے ہیں) [الفتح الربانی/بيان تفصيل القراءات واختلاف الصحابة فيها/حدیث: 8420]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري۔ أخرجه ابوداود: 809، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2246 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2246»
وضاحت: فوائد: … قرآن مجید کی متواتر قراء ت یوں ہے: {وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْکِبَرِ عِتِیًّا}
الحكم على الحديث: صحیح