الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. مَا جَاءَ فِي سُوْرَةِ الْأَحْقَافِ
سورۂ احقاف کی قراء ت کا بیان
حدیث نمبر: 8425
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا يَقْرَأُ حٰمٓ الثَّلَاثِينَ يَعْنِي الْأَحْقَافَ فَقَرَأَ حَرْفًا وَقَرَأَ رَجُلٌ آخَرُ حَرْفًا لَمْ يَقْرَأْهُ صَاحِبُهُ وَقَرَأْتُ أَحْرُفًا فَلَمْ يَقْرَأْهَا صَاحِبَيَّ فَانْطَلَقْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْنَاهُ فَقَالَ لَا تَخْتَلِفُوا فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِاخْتِلَافِهِمْ ثُمَّ قَالَ انْظُرُوا أَقْرَأَكُمْ رَجُلًا فَخُذُوا بِقِرَاءَتِهِ
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ایک آدمی کو سنا، وہ سورۂ احقاف کی تلاوت کر رہا تھا،اس نے ایک قراء ت پڑھی، جبکہ ایک دوسرے آدمی نے دوسری قراء ت پڑھی جو اِس نے نہیں پڑھی تھی اور پھر میں نے ایسی قراء ت پڑھی جو ان دونوں نے نہیں پڑھی تھی، سو ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساری بات بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اختلاف میں نہ پڑو، بیشک تم سے پہلے والے لوگ اختلاف ہی کی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جائزہ لے لو، جو آدمی تم میں زیادہ پڑھا ہوا، اس کی قراء ت سے پڑھ لیا کرو۔ [الفتح الربانی/بيان تفصيل القراءات واختلاف الصحابة فيها/حدیث: 8425]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3803 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3803»
الحكم على الحديث: صحیح