🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. بَابُ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: «وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ» ‏‏‏‏وَقَوْلِهِ: «وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ» وَقَوْلِهِ: «فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بشَهيد....» ‏‏‏‏
وَقَوْلِہٖ: {وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہِ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ}¤وَقَوْلِہٖ: {فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَہِیْدٍ …}¤ان آیات کی تفسیر کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8552
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَصَبْنَا نِسَاءً مِنْ سَبْيِ أَوْطَاسٍ وَلَهُنَّ أَزْوَاجٌ فَكَرِهْنَا أَنْ نَقَعَ عَلَيْهِنَّ وَلَهُنَّ أَزْوَاجٌ فَسَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ [سورة النساء: ٢٤] قَالَ فَاسْتَحْلَلْنَا بِهَا فُرُوجَهُنَّ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ہم نے بنو اوطاس قبیلہ کی خواتین لونڈیوں کے طور پرحاصل کیں، جبکہ ان کے خاوند موجود تھے (یعنی وہ پہلے شادی شدہ تھیں اور ان کے خاوند زندہ تھے)، اس لیے ہم نے ان سے جماع کو ناپسند کیا، کیونکہ ان کے خاوند موجود ہیں، پھر جب ہم نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تو یہ آیت نازل ہوئی: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنْ النِّسَائِ إِلَّا مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ} … اور خاوند والی عورتیں (بھی حرام کی گئی ہیں) مگر وہ (لونڈیاں) جن کے مالک تمھارے دائیں ہاتھ ہوں۔ تو ملک یمین کی وجہ سے ہم نے ان سے صحبت کی۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8552]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1456، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11691 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11714»
وضاحت: فوائد: … یعنی ایسی لونڈیاں مسلمانوں کے لیے حلال ہوں گی، ان کے خاوندوں کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جائے گا، البتہ استبرائے رحم کا یقین حاصل کرنے کے لیے ایک حیض کا انتظار کیا جائے گا۔

الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 1456
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8553
عَنْ مُجَاهِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ يَغْزُو الرِّجَالُ وَلَا نَغْزُو وَلَنَا نِصْفُ الْمِيرَاثِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ [سورة النساء: ٣٢]
۔ مجاہد کہتے ہیں کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! مرد جہاد کرتے ہیں اور ہم عورتیں جہاد میں شرکت نہیں کرتیں اور ہماری وراثت کا حصہ بھی مردوں سے آدھا ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہٖ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَـسَبُوْا وَلِلنِّسَاءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَـسَبْنَ وَسْـئَلُوا اللّٰہَ مِنْ فَضْلِہٖ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِـیْمًا} … اور اس چیز کی تمنا نہ کرو جس میں اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے، مردوں کے لیے اس میں سے ایک حصہ ہے، جو انھوں نے محنت سے کمایا اور عورتوں کے لیے اس میں سے ایک حصہ ہے، جو انھوں نے محنت سے کمایا اور اللہ سے اس کے فضل میں سے حصہ مانگو۔ بے شک اللہ ہمیشہ سے ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8553]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، فيه انقطاع بين مجاھد وام سلمة۔ أخرجه الترمذي: 3022، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26736 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27272»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالی سے اس کے فضل کا سوال کرنا چاہئے اور مرد و زن کو جن جن صلاحیتوں سے نوازا گیا ہے، ان کو بروئے کار لانا چاہیے، جو نعمتیں اور اہلیتیں محض اللہ تعالی کی عنایت ہوں اور بن مانگے ملی ہوں، ان کے بارے میں تمنا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، مثلامرد کو بحیثیت مرد برتری دینا، جیسے جہاد، گواہی، میراث میں حصہ، نگہداشت، ولایت و ذمہ داری، اسی طرح عورت کو حیض اور نفاس جیسے عارضوں میں مبتلا کر کے اس کے مقام کو مزید کم کر دینا۔ یہ اللہ تعالی کی تقسیم ہے، اور یہی درست ہے، سو اس پر ہر ایک کو راضی ہونا چاہیے، بہرحال اچھے اور برے اعمال کی راہ کھلی ہے، جو چاہے آگے بڑھ سکتا ہے۔

الحكم على الحديث: اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8554
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ سُورَةِ النِّسَاءِ فَلَمَّا بَلَغْتُ هَذِهِ الْآيَةَ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا [سورة النساء: ٤١] قَالَ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سورۂ نساء تلاوت کی، جب میں اس آیت پر پہنچا: {فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَہِیْدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلٰی ھٰؤُلَائِ شَہِیْدًا} … وہ کیفیت کیسی ہو گی، جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور تجھے ان سب پرگواہ لائیں گے۔ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8554]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5050، ومسلم: 800، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3551 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3551»
وضاحت: فوائد: … ہر امت میں سے اس کا پیغمبر اللہ کی بارگاہ میں گواہی دے گا کہ یا اللہ ہم نے تو تیرا پیغام اپنی قوم کو پہنچا دیا تھا، اب انھوں نے نہیں مانا تو ہمارا کیا قصور؟ پھر ان سب پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گواہی دیں گے کہ یا اللہ! یہ سب سچ کہہ رہے ہیں۔ نیز دیکھیں حدیث نمبر (۸۴۹۱)۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 5050
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں