الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب قوله عز وجل: والمحصنات من النساء وقوله: ولا تتمنوا ما فضل الله به بعضكم على بعض وقوله: فكيف إذا جئنا من كل أمة بشهيد....
وَقَوْلِہٖ: {وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہِ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ}¤وَقَوْلِہٖ: {فَکَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَہِیْدٍ …}¤ان آیات کی تفسیر کا بیان
حدیث نمبر: 8552
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَصَبْنَا نِسَاءً مِنْ سَبْيِ أَوْطَاسٍ وَلَهُنَّ أَزْوَاجٌ فَكَرِهْنَا أَنْ نَقَعَ عَلَيْهِنَّ وَلَهُنَّ أَزْوَاجٌ فَسَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ [سورة النساء: ٢٤] قَالَ فَاسْتَحْلَلْنَا بِهَا فُرُوجَهُنَّ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ہم نے بنو اوطاس قبیلہ کی خواتین لونڈیوں کے طور پرحاصل کیں، جبکہ ان کے خاوند موجود تھے (یعنی وہ پہلے شادی شدہ تھیں اور ان کے خاوند زندہ تھے)، اس لیے ہم نے ان سے جماع کو ناپسند کیا، کیونکہ ان کے خاوند موجود ہیں، پھر جب ہم نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تو یہ آیت نازل ہوئی: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنْ النِّسَائِ إِلَّا مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ} … اور خاوند والی عورتیں (بھی حرام کی گئی ہیں) مگر وہ (لونڈیاں) جن کے مالک تمھارے دائیں ہاتھ ہوں۔ تو ملک یمین کی وجہ سے ہم نے ان سے صحبت کی۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة النساء إلى سورة الأعراف/حدیث: 8552]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1456، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11691 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11714»
وضاحت: فوائد: … یعنی ایسی لونڈیاں مسلمانوں کے لیے حلال ہوں گی، ان کے خاوندوں کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جائے گا، البتہ استبرائے رحم کا یقین حاصل کرنے کے لیے ایک حیض کا انتظار کیا جائے گا۔
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 1456
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8552 in Urdu