الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَاب قَوْلِهِ: «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ»
سورۂ نجم {وَھُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰی … اِلٰی قَوْلِہٖ … لَقَدْرَاٰی مِنْ آیَاتِ رَبِّہِ الْکُبْرٰی} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8765
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَرَ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي صُورَتِهِ إِلَّا مَرَّتَيْنِ أَمَّا مَرَّةٌ فَإِنَّهُ سَأَلَهُ أَنْ يُرِيَهُ نَفْسَهُ فِي صُورَتِهِ فَأَرَاهُ صُورَتَهُ فَسَدَّ الْأُفُقَ وَأَمَّا الْأُخْرَى فَإِنَّهُ صَعِدَ مَعَهُ حِينَ صَعِدَ بِهِ وَقَوْلُهُ وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَى ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى [النجم: 7-10] قَالَ فَلَمَّا أَحَسَّ جِبْرِيلُ رَبَّهُ عَادَ فِي صُورَتِهِ وَسَجَدَ فَقَوْلُهُ وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى [النجم: 13-18] قَالَ خَلْقَ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے، ایک مرتبہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود جبریل سے مطالبہ کیا تو انھوں نے اپنی اصلی صورت دکھائی، جس سے افق بھر گیا اور دوسری بار جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اسراء و معراج کے موقع پر)ان کے ساتھ چڑھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَہُوَ بِالْأُفُقِ الْأَ عْلٰی ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ أَ وْ أَدْنٰی فَأَ وْحٰی إِلٰی عَبْدِہِ مَا أَ وْحٰی} … جبکہ وہ بالائی افق پر تھا۔ پھر قریب آیا اور اوپر معلق ہوگیا۔ یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا۔ تب اس نے اللہ کے بندے کی طرف وحی پہنچائی جو وحی بھی اسے پہنچانی تھی۔ جب جبریل علیہ السلام نے اپنے ربّ کو محسوس کیا تو انھوں نے اپنی اصلی صورت اختیار کر لی اور سجدے میں گر پڑے، اسی کے بارے میں ارشادِ باری تعالی ہے:{وَلَقَدْ رَآہُ نَزْلَۃً أُخْرٰی عِنْدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَہٰی عِنْدَہَا جَنَّۃُ الْمَأْوٰی إِذْ یَغْشَی السِّدْرَۃَ مَا یَغْشَی مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰی لَقَدْ رَأٰ ی مِنْ آیَاتِ رَبِّہِ الْکُبْرٰی} … جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ اور ایک مرتبہ پھر اس نے سدرۃا المنتہیٰ کے پاس اس کو اترتے دیکھا۔ جہاں پاس ہی جنت الماویٰ ہے۔ اس وقت سدرہ (بیری کے درخت) پر چھا رہا تھا جو کچھ کہ چھا رہا تھا۔نگاہ نہ چوندھیائی نہ حد سے متجاوز ہوئی۔ اور اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔ انھوں نے کہا: اس سے مراد جبریل علیہ السلام کا وجود ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8765]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال اسحاق بن ابي الكھتلة، وللشك في وصله عن ابن مسعود۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 10547، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3864 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3864»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۱۰۵۸۶)کا باب ملاحظہ ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اللہ تعالی کو یا جبریل کو دیکھنا، اس باب میں اس مسئلہ پر بحث کی گئی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة حال اسحاق بن ابي الكھتلة
حدیث نمبر: 8766
عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ قَالَ سَمِعْتُ شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَلَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ قَالَ سَأَلْتُ عَاصِمًا عَنِ الْأَجْنِحَةِ فَأَبَى أَنْ يُخْبِرَنِي قَالَ فَأَخْبَرَنِي بَعْضُ أَصْحَابِهِ أَنَّ الْجَنَاحَ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے جبریل علیہ السلام کو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عاصم سے پروں کے بارے میں پوچھا، لیکن انھوں نے بتانے سے انکار کر دیا، پھر ان کے بعض شاگردوں نے مجھے بتایا کہ ایک پر مشرق سے مغرب تک تھا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8766]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الطبراني في الكبير: 10423، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3862 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3862»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن ۔ أخرجه الطبراني في الكبير : 10423
حدیث نمبر: 8767
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي قَوْلِهِ مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى [النجم: 11] قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي حُلَّةٍ مِنْ رَفْرَفٍ قَدْ مَلَأَ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ
۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول {مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَارَاٰی} … نظر نے جو کچھ دیکھا، دل نے اس میں جھوٹ نہ ملا یا۔ کے بارے میں کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبریل کو خوش نما پوشاک میں دیکھا، انھوں نے آسمان اور زمین کے درمیانی خلا کو بھر رکھا تھا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8767]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه الترمذي: 3283، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3971 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3971»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين ۔ أخرجه الترمذي: 3283
حدیث نمبر: 8768
عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ قُلْتُ أَلَيْسَ اللَّهُ يَقُولُ وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ [التكوير: 23] وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى [النجم: 13] قَالَتْ أَنَا أَوَّلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمَا فَقَالَ إِنَّمَا ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمْ يَرَهُ فِي صُورَتِهِ الَّتِي خُلِقَ عَلَيْهَا إِلَّا مَرَّتَيْنِ رَآهُ مُنْهَبِطًا مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ سَادًّا عِظَمُ خَلْقِهِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ
۔ مسروق کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا، میں نے کہا:اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے: {وَلَقَدْ رَآہُ بِالْأُفُقِ الْمُبِینِ} … تحقیق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو واضح افق پر دیکھا۔ نیز فرمایا: {وَلَقَدْ رَآہُ نَزْلَۃً أُخْرٰی عِنْدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَھٰی۔} … جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ اور ایک مرتبہ پھر اس نے سدرۃا المنتہیٰ کے پاس اس کو اترتے دیکھا۔ سیدہ نے جواباً کہا: اس امت میں سب سے پہلے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان دو آیات کے بارے میں سوال کیا تھا اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: وہ تو جبریل علیہ السلام ہیں۔ جس صورت پر جبریل علیہ السلام کی تخلیق ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اس صورت پر صرف دو بار دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو آسمان سے زمین کی طرف اترتے ہوئے دیکھا، ان کے بڑے وجود نے آسمان اور زمین کے درمیانی خلا کو بھر رکھا تھا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8768]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 177، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26040 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26568»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 177
حدیث نمبر: 8769
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى [النجم: 11] قَالَ رَأَى مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِقَلْبِهِ مَرَّتَيْنِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انھوں نے اس آیت {مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَارَاٰی} … نظر نے جو کچھ دیکھا، دل نے اس میں جھوٹ نہ ملا یا۔ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ربّ کو اپنے دل سے دو بار دیکھا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8769]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 176، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1956 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1956»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۱۰۵۸۶)کا باب ملاحظہ ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اللہ تعالی کو یا جبریل کو دیکھنا، اس باب میں اس مسئلہ پر بحث کی گئی ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 176