الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ: «فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ»
سورۂ قمر {اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ}کی تفسیر
حدیث نمبر: 8770
عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ [القمر: 1] قَالَ قَدِ انْشَقَّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِرْقَتَيْنِ أَوْ فِلْقَتَيْنِ شُعْبَةُ الَّذِي يَشُكُّ فَكَانَ فِلْقَةٌ مِنْ وَرَاءِ الْجَبَلِ وَفِلْقَةٌ عَلَى الْجَبَلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انھوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {اقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ} … قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا۔ کی تفسیر کرتے ہوئے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں چاند دو ٹکڑے ہوا تھا، ایک ٹکڑا (حرا) پہاڑ کے پیچھے نظر آ رہا تھا اور ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر، یہ معجزہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! گواہ رہنا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8770]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3869، 3871، ومسلم: 2800، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4270 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4270»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3869
حدیث نمبر: 8771
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَأَلَ أَهْلُ مَكَّةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ آيَةً فَانْشَقَّ الْقَمَرُ بِمَكَّةَ مَرَّتَيْنِ فَقَالَ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ وَإِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ [القمر: 1-2]
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مکہ والوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے معجزہ طلب کیا تو مکہ میں چاند دو ٹکڑے ہوا، پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ وَإِنْ یَرَوْا آیَۃًیُعْرِضُوْا وَیَقُولُوْا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ} … قیامت کی گھڑی قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا، مگر ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں منہ موڑ جاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تو چلتا ہوا جادو ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8771]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2802، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12688 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12718»
وضاحت: فوائد: … اہل مکہ کے مطالبے پر یہ معجزہ دکھایا گیا، علما کے درمیانیہ بات متفق علیہ ہے کہ انشقاق قمر، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میںہوا اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے واضح معجزات میں سے ہے، صحیح احادیث ِ متواترہ اس پر دلالت کرتی ہیں، لیکن قریش نے ایمان لانے کی بجائے اسے جادو قرار دے کر اپنے اعراض کی روش برقرار رکھی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2802
حدیث نمبر: 8772
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ رَأَيْتُ رَجُلًا سَأَلَ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ وَهُوَ يُعَلِّمُ الْقُرْآنَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ كَيْفَ نَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ [القمر: 15] أَذَالٌ أَمْ دَالٌ فَقَالَ لَا بَلْ دَالٌ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا مُدَّكِرٍ دَالًا
۔ ابو اسحاق کہتے ہیں: میں نے ایک آدمی کو دیکھا، اس نے اسود بن یزید،جو مسجد میں قرآن کی تعلیم دیتاتھا، سے سوال کیااور کہا: ہم اس آیت کو کیسے پڑھیں:{فَہَلْ مِنْ مُدَّکِرٍ} یہ ذ ہے یا د؟ انھوں نے کہا: نہیں،یہ د ہے، میں نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو {مُدَّکِرٍ}پڑھتے ہوئے سنا، یعنی د کے ساتھ۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8772]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4871، ومسلم: 823، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4401 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4401»
وضاحت: فوائد: … مُدَّکِر لفظ اصل میں مُذْتَکِر تھا، اس کی ادائیگی زبانوں پر ثقیل تھی، اس لیے پہلے ت کو د سے بدلا، پھر ذ کو د سے بدل کر ادغام کر دیا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4871
حدیث نمبر: 8773
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَ مُشْرِكُو قُرَيْشٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُخَاصِمُونَهُ فِي الْقَدَرِ فَنَزَلَتْ يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ [القمر: 48-49]
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قریشی مشرک، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تقدیر کے بارے میں جھگڑنے لگے، پس یہ آیات نازل ہوئیں: {یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوْھِمِ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ۔ اِنَّا کُلَّ شَیْئٍ خَلَقْنَاہٗ بِقَدَرٍ} … جس دن یہ چہرں کے بل دوزخ میں گھسیٹے جائیں گے، ان سے کہا جائے گا دوزخ کا عذاب چکھو۔ بے شک ہم نے ہر چیز کوتقدیر کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8773]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2656، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9736 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9734»
وضاحت: فوائد: … کتاب کے اوائل میں تقدیر کے مسئلہ کی وضاحت کی جا چکی ہے، حدیث نمبر (۱۸۰) سے تقدیر کے مسائل شروع ہو رہے ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2656