🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

22. بَابُ: «مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَة» ‏‏‏‏
{وَیَحْلِفُوْنَ عَلَی الْکَذِبِ وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ}کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8787
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي ظِلِّ حُجْرَةٍ مِنْ حُجَرِهِ وَعِنْدَهُ نَفَرٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَدْ كَادَ يَقْلِصُ عَنْهُمُ الظِّلُّ قَالَ فَقَالَ إِنَّهُ سَيَأْتِيكُمْ إِنْسَانٌ يَنْظُرُ إِلَيْكُمْ بِعَيْنَيْ شَيْطَانٍ فَإِذَا أَتَاكُمْ فَلَا تُكَلِّمُوهُ قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ أَزْرَقُ فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَهُ قَالَ عَلَامَ تَشْتُمُنِي أَنْتَ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ نَفَرٌ دَعَاهُمْ بِأَسْمَائِهِمْ قَالَ فَذَهَبَ الرَّجُلُ فَدَعَاهُمْ فَحَلَفُوا بِاللَّهِ وَاعْتَذَرُوا إِلَيْهِ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ [سورة المجادلة: ١٨] الْآيَةَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک حجرہ کے سائے میں تشریف فرما تھے، کچھ مسلمان بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اب سایہ سکڑرہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تمہارے پاس ایک آدمی آئے گا، جو تمہیں شیطان کی نظروں سے دیکھے گا، جب وہ تمہار پاس آئے تو اس سے بات نہ کرنا۔ اتنے میں ایک نیلی آنکھوں والا آدمی آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بلایا اوراس سے بات کی اور فرمایا: تو اور فلاں فلاں آدمی مجھ کو برا بھلا کیوں کہتے ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چند افراد کے نام بھی لیے، وہ آدمی گیا اور ان سب کو بلا لایا، پھر انہوں نے اللہ کی قسم اٹھائی اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے معذرت کی، اُدھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار دی: {یَوْمَیَبْعَثُہُمُ اللّٰہُ جَمِیْعًا فَیَحْلِفُوْنَ لَہ کَمَا یَحْلِفُوْنَ لَکُمْ وَیَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ عَلٰی شَیْء ٍ اَلَآ اِنَّہُمْ ہُمُ الْکٰذِبُوْنَ۔} … جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا تو وہ اس کے سامنے قسمیں کھائیں گے جس طرح تمھارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں اور گمان کریں گے کہ بے شک وہ کسی چیز پر (قائم) ہیں، سن لو! یقینا وہی اصل جھوٹے ہیں۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8787]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الطبراني: 12308، والبيھقي في الدلائل: 5/ 282، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2407 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2407»
وضاحت: فوائد: … ان لوگوں کی بدبختی اور سنگ دلی کی انتہا ہے کہ قیامت والے دن، جہاں کوئی چیز مخفی نہیںرہے گی، وہاںبھی اللہ تعالی کے سامنے جھوٹی قسمیں کھانے کی شوخ چشمانہ جسارت کریں گے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8787M
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ قَالَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي الْمُجَادَلَةِ وَيَحْلِفُونَ عَلَى الْكَذِبِ وَهُمْ يَعْلَمُونَ [سورة المجادلة: ١٤] وَالْآيَةُ الْأُخْرَى
۔ (دوسری سند)اس میں ہے: پس سورۂ مجادلہ کییہ آیت نازل ہوئی: {اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مَا ہُمْ مِّنْکُمْ وَلَا مِنْہُمْ وَیَحْلِفُوْنَ عَلَی الْکَذِبِ وَہُمْ یَعْلَمُوْنَ۔} … کیا تو نے ان لوگوں کو نہیںدیکھا جنھوں نے ان لوگوں کو دوست بنا لیا جن پر اللہ غصے ہو گیا، وہ نہ تم سے ہیں اور نہ ان سے اور وہ جھوٹ پر قسمیں کھاتے ہیں، حالانکہ وہ جانتے ہیں۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8787M]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2147»
وضاحت: فوائد: … اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ وہ قسمیںکھا کر مسلمانوں کو باور کراتے ہیں کہ وہ بھی تمہاری طرح مسلمان ہیںیایہودیوں سے ان کے رابطے نہیں ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں