الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِهِمَا
سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 8871
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَابْتَدَأَنِي فَأَخَذَ بِيَدِي فَقَالَ يَا عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ أَلَا أُعَلِّمُكَ خَيْرَ ثَلَاثِ سُوَرٍ أُنْزِلَتْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالزَّبُورِ وَالْفُرْقَانِ الْعَظِيمِ قَالَ قُلْتُ بَلَى جَعَلَنِيَ اللَّهُ فِدَاكَ قَالَ فَأَقْرَأَنِي {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: 1] وَ{قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} [الفلق: 1] وَ{قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ} [الناس: 1] ثُمَّ قَالَ يَا عُقْبَةَ لَا تَنْسَاهُنَّ وَلَا تَبِتْ لَيْلَةً حَتَّى تَقْرَأَهُنَّ قَالَ فَمَا نَسِيتُهُنَّ مُنْذُ قَالَ لَا تَنْسَاهُنَّ وَمَا بِتُّ لَيْلَةً قَطُّ حَتَّى أَقْرَأَهُنَّ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے ملے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام کہنے میں پہل کی اور فرمایا: اے عقبہ بن عامر! کیا میں تجھے بہترین تین سورتوں کی تعلیم نہ دوں، جو تورات، انجیل، زبور اور قرآن مجید میں نازل کی گئیں ہیں؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان کردے، ضرور بتائیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس کی تعلیم دی اور فرمایا: اے عقبہ! انہیں نہیں بھولنا اور کوئی رات نہیں گزارنی، مگر ان میں اس کی تلاوت کرنی ہے۔ جب سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ان کو نہ بھولنے کی تلقین کی، اس وقت سے نہ میں ان کو بھولا ہوں اور میں نے کوئی رات نہیں گزاری، مگر اس میں ان کی تلاوت کی ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8871]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17334 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17467»
الحكم على الحديث: حديث حسن
حدیث نمبر: 8872
عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَصَابَنَا عَطَشٌ وَظُلْمَةٌ فَانْتَظَرْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ لَنَا فَخَرَجَ فَأَخَذَ بِيَدِي فَقَالَ قُلْ فَسَكَتُّ قَالَ قُلْ قُلْتُ مَا أَقُولُ قَالَ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: 1] وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ حِينَ تُمْسِي وَحِينَ تُصْبِحُ ثَلَاثًا تَكْفِيكَ كُلَّ يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ
۔ سیدنا عبداللہ بن خبیب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہمیں سخت پیاس لگی ہوئی تھی، جبکہ اندھیرا بھی تھا اور ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتظار کرے رہے تھے، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آ کر ہمیں نماز پڑھائیں،پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور میرا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمایا: کہو۔ میں خاموش رہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: کہو۔ میں نے کہا: جی میں کیا کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب شام اور صبح کرو تو تین تین بار سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھا کرو، تمہیں ہر روز دو بار کفایت کریں گی۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8872]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 5082، والترمذي: 3575، والنسائي: 8/ 250، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22664 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23040م»
وضاحت: فوائد: … تمام نسخوں کو دیکھا جائے تو اس حدیث کے آخر میں مَرَّتَیْن کا لفظ زائد معلوم ہوتا ہے، جب مزی نے مسند احمد کی سند سے روایت ذکر کی تو انھوں نے بھی اس لفظ کا ذکر نہیں کیا۔ ابو داود کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: تَکْفِیکَ مِنْ کُلَّ شیئٍ۔ (تجھے ہر چیزسے کفایت کریں گے۔) یہ سورتیں کس چیز سے کفایت کریں گی؟ ہر قسم کے شرّ سے کفایت کریں گی، آدمی شرور سے محفوظ رہے گے، یہ بھی معنی ممکن ہے کہ آدمی اللہ تعالی کی پناہ طلب کرنے کے لیے جتنے اوراد و وظائف کرتا ہے، یہ سورتیں ان سب سے کفایت کریں گی۔
الحكم على الحديث: اسناده حسن ۔ أخرجه ابوداود: 5082
حدیث نمبر: 8873
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَا أَنَا أَقُودُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي نَقَبٍ مِنْ تِلْكَ النِّقَابِ إِذْ قَالَ لِي يَا عُقْبَةَ أَلَا تَرْكَبُ قَالَ فَأَجْلَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَرْكَبَ مَرْكَبَهُ ثُمَّ قَالَ يَا عُقَيْبُ أَلَا تَرْكَبُ قَالَ فَأَشْفَقْتُ أَنْ تَكُونَ مَعْصِيَةً قَالَ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَكِبْتُ هُنَيَّةً ثُمَّ رَكِبَ ثُمَّ قَالَ يَا عُقَيْبُ أَلَا أُعَلِّمُكَ سُورَتَيْنِ مِنْ خَيْرِ سُورَتَيْنِ قَرَأَ بِهِمَا النَّاسُ قَالَ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَأَقْرَأَنِي {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} [الفلق: 1] وَ{قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ} [الناس: 1] ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ بِهِمَا ثُمَّ مَرَّ بِي قَالَ كَيْفَ رَأَيْتَ يَا عُقَيْبُ اقْرَأْ بِهِمَا كُلَّمَا نِمْتَ وَكُلَّمَا قُمْتَ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هُوَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرِ بْنِ عَابِسٍ وَقَالَ ابْنُ عَبْسٍ الْجُهَنِيُّ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دفعہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری ایک پہاڑی سے گزرنے والے راستہ سے چلا رہا تھا، اچانک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عقبہ! تم سوار کیوں نہیں ہوتے؟ میں نے کچھ نہ کہا، دراصل میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جلالت ِ شان کے پیش نظر سوار نہیں ہونا چاہتاتھا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر فرمایا: اے عقیب! تم سوار کیوں نہیں ہوتے۔ اب میں ڈر گیا کہ یہ نافرمانی ہی نہ ہو جائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیچے اترے اور میں کچھ دیر کے لئے سوار ہو گیا،پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوار ہو گئے اور فرمایا: اے عقیب! کیا میں تمہیں سب سے بہترین دو سورتیں نہ سکھاؤں، جو لوگ پڑھتے ہیں؟ میں نے کہا: جی بالکل، اے اللہ کے رسول!، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سورۂ فلق اور سورۂ ناس کی تعلیم دی، اتنے میں نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھے اور اس نماز میں ان ہی دو سورتوں کی تلاوت کی، پھر میرے پاس سے گزرے اور فرمایا: اے عقیب! کیسا پایا (ان دو سورتوں کی فضیلت کو کہ میں نے ان کی تلاوت کر کے نماز پڑھا دی ہے)، جب بھی تو سوئے اور جاگے تو ان سورتوں کی تلاوت کر۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8873]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه النسائي: 8/ 253، وأخرجه مختصرا ابوداود: 1463، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17296 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17429»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیار کی وجہ سے عقبہ کو عقیب کے لفظ کے ساتھ پکارا، یہ عقبہ کی تصغیر ہے۔
الحكم على الحديث: اسناده صحيح ۔ أخرجه النسائي: 8/ 253
حدیث نمبر: 8874
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ سُورَتَانِ (وَفِي رِوَايَةٍ أُنْزِلَ عَلَيَّ آيَاتٌ لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ) فَتَعَوَّذُوا بِهِنَّ فَإِنَّهُ لَمْ يَتَعَوَّذْ بِمِثْلِهِنَّ يَعْنِي الْمُعَوِّذَتَيْنِ
۔ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے اوپر دو سورتیں نازل ہوئی ہیں، ایک روایت میں ہے: مجھ پر ایسی آیات نازل ہوئی ہیں کہ ان کی مثل آیات نہیں پائی گئیں، ان کے ذریعے پناہ طلب کیا کرو، ان جیسی اور کوئی سورت نہیں، جس کے ذریعے پناہ مانگی جائے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8874]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1814، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17299 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17432»
وضاحت: فوائد: … کسی بیمارییا شرّ یا شرّ والی چیز سے پناہ مانگنے کے لیے سورۂ فلق اور سورۂ ناس بے مثال ہیں۔
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 1814
حدیث نمبر: 8875
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْرَأَ بِالْمُعَوِّذَاتِ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ
۔ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں ہر نماز کے بعد معوذات یعنی سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھا کروں۔ یہ جمع کا لفظ ہے اور اس سے مراد تین سورتیں (اخلاص، فلق اور ناس) مراد ہیں۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8875]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1814، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17299 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17945»
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: 1814
حدیث نمبر: 8876
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ بِالْمُعَوِّذَتَيْنِ فَإِنَّكَ لَنْ تَقْرَأَ بِمِثْلِهِمَا
۔ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے، وہ کہتے ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تو سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھا کرو، ان سورتوں کی مثل کوئی چیز نہیں، جو تو پڑھے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8876]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17322 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17455»
وضاحت: فوائد: … دم اور پناہ طلب کرنے کے لیےیہ دو سورتیں بے مثال ہیں۔
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 8877
عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ قَالَ قَالَ رَجُلٌ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَالنَّاسُ يَعْتَقِبُونَ وَفِي الظَّهْرِ قِلَّةٌ فَحَانَتْ نَزْلَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَزْلَتِي فَلَحِقَنِي مِنْ بَعْدِي فَضَرَبَ مَنْكِبَيَّ فَقَالَ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} [الفلق: 1] فَقُلْتُ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَرَأْتُهَا مَعَهُ ثُمَّ قَالَ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ} [الناس: 1] فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَرَأْتُهَا مَعَهُ قَالَ إِذَا أَنْتَ صَلَّيْتَ فَاقْرَأْ بِهِمَا
۔ ابو العلا کہتے ہیں: ایک آدمی یعنی سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے اور سواریاں کم ہو نے کی وجہ سے لوگ باری باری سوار ہو رہے تھے، اُدھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اور میرے اترنے کی باری بھی آ گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے میرے پیچھے سے ملے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرےکندھے پر مارا اور فرمایا: پڑھ{قُلْ أَ عُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ}۔ میں نے پڑھا: {قُلْ أَ عُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ}، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ سورت پڑھی اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پڑھ{قُلْ أَ عُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ}۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ مکمل سورت پڑھی اور میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو نماز پڑھے تو ان کی تلاوت کیا کر۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8877]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20284 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20550»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح