🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

20. بَابُ رَأي ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ الْمُعَودَتَيْنِ لَيْسَنَا مِنْ كِتَابِ اللهِ وَرَدُ ذَلِكَ
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی رائے کا بیان کہ معوذ تین کتاب اللہ میں سے نہیں ہیں، نیز اس رائے کے غیر مقبول ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8878
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَحُكُّ الْمُعَوِّذَتَيْنِ مِنْ مَصَاحِفِهِ وَيَقُولُ إِنَّهُمَا لَيْسَتَا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ الْأَعْمَشُ وَحَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ زِرٍّ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْنَا عَنْهُمَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقِيلَ لِي فَقُلْتُ
۔ عبد الرحمن بن یزید سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنے مصحف سے معوذ تین کو مٹا دیتے اور کہتے کہ یہ کتاب اللہ میں سے نہیں ہیں۔ اعمش کہتے ہیں: عاصم نے ہم کو زرّ سے بیان کیا کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان کے بارے میں سوال کیا توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے کہا گیا، پس میں نے کہہ دیا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8878]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الطبراني: 9151، والبزار: 1586، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21188 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21507»
وضاحت: فوائد: … آخری جملے کا مفہوم سمجھنے کے لیے ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۸۸۸۰)

الحكم على الحديث: اسناده صحيح ۔ أخرجه الطبراني: 9151
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8879
عَنْ زِرٍّ قَالَ قُلْتُ لِأُبَيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ أَخَاكَ يَحُكُّهُمَا مِنَ الْمُصْحَفِ فَلَمْ يُنْكِرْ قِيلَ لِسُفْيَانَ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ نَعَمْ وَلَيْسَا فِي مُصْحَفِ ابْنِ مَسْعُودٍ كَانَ يَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ بِهِمَا الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَلَمْ يَسْمَعْهُ يَقْرَأُهُمَا فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ فَظَنَّ أَنَّهُمَا عُوذَتَانِ وَأَصَرَّ عَلَى ظَنِّهِ وَتَحَقَّقَ الْبَاقُونَ كَوْنَهُمَا مِنَ الْقُرْآنِ فَأَوْدَعُوهُمَا إِيَّاهُ
۔ زر بن حبیش سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کے بھائی تو ان دونوں سورتوں کو مصحف سے کھرچ دیتے تھے، انہوں نے اس چیز کا انکار نہیں کیا۔ جب سفیان سے کہا کہ بھائی سے مراد سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں، انھوں نے کہا: جی ہاں اور یہ دو سورتیں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے مصحف میں نہیں تھیں، ان کا خیال یہ تھا کہ یہ دو دم ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ذریعے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کو دم کیا کرتے تھے، دراصل ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز میں ان سورتوںکی تلاوت کرتے ہوئے نہیں سنا تھا، پھر وہ اسی رائے پر مصرّ رہے، لیکن باقی افراد کی تحقیق یہ ہے کہ یہ قرآن مجید کا حصہ ہیں، اس لیے انھوں نے ان کو قرآن مجید میں رکھا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8879]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الطبراني: 9151، والبزار: 1586، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21188 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21508»
وضاحت: فوائد: … عُوْذَۃ: دم، گھبراہٹ یا جنون یا کسی بیماری پر کیا جانے والے دم۔

الحكم على الحديث: اسناده صحيح ۔ أخرجه الطبراني: 9151
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8880
عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ لَا يَكْتُبُ الْمُعَوِّذَتَيْنِ فِي مُصْحَفِهِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنِي أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ لَهُ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ} [الفلق: 1] فَقُلْتُهَا فَقَالَ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ} [الناس: 1] فَقُلْتُهَا فَنَحْنُ نَقُولُ مَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ زر بن حبیش کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ تو معوذ تین کو اپنے مصحف میں نہیں لکھتے،انھوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ خبر دی کہ سیدنا جبریل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: {قُلْ أَ عُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ}،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس میں نے کہہ دیا، جبریل نے کہا: {قُلْ أَ عُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ}، پس میں نے کہہ دیا، سو ہم بھی اسی طرح کہتے ہیں، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8880]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابن حبان: 797، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21186 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21505»
وضاحت: فوائد: … اس مقام پر جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ہے، صحابۂ کرام اس حقیقت پر متفق تھے کہ سورۂ فلق اور سورۂ ناس قرآن مجید کا حصہ ہیں، انھوں نے ان کو ان مصاحف میں لکھا تھا، جن کو ساری اسلامی خلافت میں بھیجا گیا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نماز میں ان سورتوں کی تلاوت کرنا ثابت ہے، صرف سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کییہ رائے ہے، ممکن ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز میں ان کی تلاوت کرتے ہوئے نہ سنا ہو، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دم کے لیے اور پناہ مانگنے کے لیے ان سورتوں کو پڑھا کرتے تھے، اس وجہ سے ممکن ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کو دم سے متعلقہ دعائیں سمجھ لیا ہو۔ امام بزار نے کہا: کسی صحابی نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اس رائے پر ان کی متابعت نہیں کی، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صحیح ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز میں ان کی تلاوت کی ہے۔ دیگر شرعی مسائل میں بھی صحابۂ کرام میں اس قسم کی مثالیںموجود ہیں، جیسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ جو آدمییہ بیان کرے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا ہے، ان کی تصدیق نہ کی جائے، جبکہ دوسرے صحابی بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا ہے، یہ ایک مسلمہ قانون ہے کہ مثبت کو منفی پر مقدم کیا جاتا ہے۔

الحكم على الحديث: حديث صحيح ۔ أخرجه ابن حبان: 797
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں