🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي صِلَةِ الرَّحِمِ
صلہ رحمی کی ترغیب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9049
۔ عَنْ عَلِیٍّ رضی اللہ عنہ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: ( (مَنْ سَرَّہُ اَنْ یُمَدَّ لَہُ فِیْ عُمُرِہِ وَیُوْسَعَ لَہُ فِیْ رِزْقِہِ، وَیُدَفَعَ عَنْہُ مِیْتَۃُ السُّوْئِ، فَلْیَتَّقِ اللّٰہَ، وَلْیَصِلْ رَحِمَہُ۔) )
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ اس کی عمر لمبی کر دی جائے اور اس کے رزق میں اضافہ کر دیا جائے اور بری موت کو اس سے دفع کر دیا جائے تو وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور صلہ رحمی کرے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9049]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه البزار: 693، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1213 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
وضاحت: فوائد: … ایک طرف تو ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ فَاِذَا جَائَ اَجَلُہُمْ لَا یَسْـتَاْخِرُوْنَ سَاعَۃً وَّلَا یَسْتَقْدِمُوْنَ} … اور ہر امت کے لیے ایک وقت ہے، پھر جب ان کا وقت آجاتا ہے تو وہ ایک گھڑی نہ پیچھے ہوتے ہیں اور نہ آگے ہوتے ہیں۔ (سورۂ اعراف: ۳۴)
دوسری طرف یہ حدیث ِ مبارکہ ہے کہ تقوی اور صلہ رحمی کی وجہ سے عمر میں اضافہ ہو جاتا ہے، جمع و تطبیق کی درج ذیل دو صورتیں ہیں:
۱۔ عمر کی زیادتی سے مراد بابرکت زندگی ہے، یعنی تقوی اختیار کرنے والا اور صلہ رحمی کرنے والا مسلمان اپنی مختصر زندگی میں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اس کی اطاعت کے اتنے امور سرانجام دے لیتا ہے کہ عام لوگ اتنا کچھ کر سکنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔
۲۔ زیادتی سے مراد زیادتی ہی ہے، لیکن اس کا تعلق عمر سے متعلقہ فرشتے سے ہے، یعنی اس فرشتے سے کہا جاتا ہے کہ اگر فلاں آدمی صلہ رحمی اختیار کرے تو اس کی عمر نوے برس ہو گی، وگرنہ ساٹھ برس، جبکہ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ اس بندے نے صلہ رحمی اختیار کرنی ہے یا نہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9050
۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی اللہ عنہ، عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مِثْلُہُ۔
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9050]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13401 ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9051
عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9051]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9052
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَعَلَّمُوا مِنْ أَنْسَابِكُمْ مَا تَصِلُونَ بِهِ أَرْحَامَكُمْ فَإِنَّ صِلَةَ الرَّحِمِ مَحَبَّةٌ فِي الْأَهْلِ مَثْرَاةٌ فِي الْمَالِ مَنْشَأَةٌ فِي أَثَرِهِ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے نسبوں کے بارے میں اتنا علم تو حاصل کر لو کہ جس کے ذریعے آپس میں صلہ رحمی اختیار کر سکو، کیونکہ صلہ رحمی سے قرابتداروں میں محبت پیدا ہوتی ہے، مال میں برکت ہوتی ہے اور عمر میں اضافہ ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9052]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الترمذي: 1979، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8868 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8855»
وضاحت: فوائد: … نسب کے علم کے ذریعے ہی پتہ چلے گا کہ کون قریبی رشتہ دار ہے اور کون دور کا۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9053
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمَنُ ارْحَمُوا أَهْلَ الْأَرْضِ يَرْحَمْكُمْ أَهْلُ السَّمَاءِ وَالرَّحِمُ شَجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ مَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهُ وَمَنْ قَطَعَهَا بَتَتُّهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صلہ رحمی کرنے والوں پر رحمن رحم کرتا ہے، تم اہل زمین پر رحم کرو، آسمان والے تم پر رحم کریں گے، رحم (رشتہ داری) رحمن کی شاخ ہے، جو اس کو ملاتا ہے، میں اس کو ملاتا ہوں اور جو اس کو کاٹتا ہے، میں اس کو کاٹ دیتا ہوں۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9053]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الترمذي: 1924، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6494 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6494»
وضاحت: فوائد: … آسمانوں والوں سے مراد فرشتے ہیں اور ان کی رحمت سے مقصود رحمت کی دعا کرنا ہے۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9054
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرَّحِمَ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ وَلَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ وَلَكِنَّ الْوَاصِلَ الَّذِي إِذَا انْقَطَعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہمایہ بھی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صلہ رحمی عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی ہے اور وہ شخص صلہ رحمی کرنے والا نہیں ہے، جو بدلے میں یہ عمل کر رہا ہو (اصل اور کامل درجے میں)، صلہ رحمی کرنے والا تو وہ ہے کہ جب اس کا رشتہ کٹ رہا ہو تو وہ اس کو جوڑ رہا ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9054]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/539، وابن حبان: 445، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6524 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6524»
وضاحت: فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((الرَّحِمُ مُعَلَّقَۃٌ بِالْعَرْشِ تَقُولُ مَنْ وَصَلَنِی وَصَلَہُ اللّٰہُ وَمَنْ قَطَعَنِی قَطَعَہُ اللّٰہُ)) … رشتہ داری عرش کے ساتھ معلق ہے اور وہ کہتی ہیں: جس نے مجھے ملایا، اللہ تعالیٰ اس کو ملا لے اور جس نے مجھے توڑا، اللہ تعالیٰ اس کو کاٹ دے۔ (صحیح مسلم: ۴۶۳۵)

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9055
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي ذَوِي أَرْحَامٍ أَصِلُ وَيَقْطَعُونَنِي وَأَعْفُو وَيَظْلِمُونَنِي وَأُحْسِنُ وَيُسِيئُونَنِي أَفَأُكَافِئُهُمْ قَالَ لَا إِذًا تُتْرَكُونَ جَمِيعًا وَلَكِنْ خُذْ بِالْفَضْلِ وَصِلْهُمْ فَإِنَّهُ لَنْ يَزَالَ مَعَكَ ظَهِيرٌ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا كُنْتَ عَلَى ذَلِكَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے کچھ رشتہ دار ہیں، میں ان سے صلہ رحمی کرتا ہوں اور وہ مجھ سے قطع رحمی کرتے ہیں، میں ان کو معاف کرتا ہوں، لیکن وہ مجھ پر ظلم کرتے ہیں اور میں ان کے ساتھ احسان کرتا ہوں، لیکن وہ مجھ سے برے طریقے سے ہی پیش آتے ہیں، اب میں ان کو ان امور کا بدلہ دے سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں، پھر تو تم سب کو چھوڑ دیا جائے گا، تم فضیلت والے عمل کا اہتمام کرو اور ان سے صلہ رحمی کرو، پس بیشک تو جب تک اس روٹین پر برقرار رہے گا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے تیرے ساتھ ایک مددگار ہو گا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9055]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6700 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6700»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9056
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي قَرَابَةً أَصِلُهُمْ وَيَقْطَعُونَ وَأُحْسِنُ إِلَيْهِمْ وَيُسِيئُونَ إِلَيَّ وَأَحْلُمُ عَنْهُمْ وَيَجْهَلُونَ عَلَيَّ قَالَ لَئِنْ كُنْتَ كَمَا تَقُولُ كَأَنَّمَا تُسِفُّهُمُ الْمَلَّ وَلَا يَزَالُ مَعَكَ مِنَ اللَّهِ ظَهِيرٌ عَلَيْهِمْ مَا دُمْتَ عَلَى ذَلِكَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے کچھ قرابت دار ہیں، میں تو ان سے صلہ رحمی کرتا ہوں، لیکن وہ قطع رحمی کرتے ہیں، میں ان کے ساتھ احسان کرتا ہوں، لیکن وہ مجھ سے برا سلوک کرتے ہیں اور میں ان سے بردباری سے پیش آتا ہوں، لیکن وہ جہالت برتتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر بات ایسے ہی ہے، جیسے تو کہہ رہا ہے تو گویا تو ان کو گرم راکھ کھلا رہا ہے اور جب تک تو اس عمل پر قائم رہے گا، ان کی مخالفت میں تیرے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مدد گار ہو گا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9056]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2558، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7992 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7979»
وضاحت: فوائد: … گرم راکھ چبوانے کامطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو اس برتاؤ کی وجہ سے گویا شدید نفسیاتی اور معاشرتی تکلیف سے دو چار کرنے کا انداز ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2558
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9057
عَنْ دُرَّةَ بِنْتِ أَبِي لَهَبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَامَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ النَّاسِ أَقْرَؤُهُمْ وَأَتْقَاهُمْ وَآمَرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَأَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأَوْصَلُهُمْ لِلرَّحِمِ
۔ سیدہ دُرّہ بنت ابی لہب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچا، جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پرتھے اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سے لوگ بہترہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں میں بہتر وہ ہے جو سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والے، سب سے زیادہ تقوی والے، سب سے زیادہ نیکی کا حکم دینے والے، سب سے زیادہ برائی سے منع کرنے والے اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9057]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 539، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27434 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27980»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9058
عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّدَقَاتِ أَيُّهَا أَفْضَلُ قَالَ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الْكَاشِحِ
۔ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صدقات کے بارے میں سوال کیا کہ کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس رشتہ دار پر جو دل میں عداوت چھپانے والا ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9058]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الدارمي: 1/ 397،و الطبراني في الكبير: 3126، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15320 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15394»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں