الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي صِلَةِ الرَّحِمِ
صلہ رحمی کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 9059
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9059]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير: 4015، وفي الاوسط: 3303، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23530 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23927»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 9060
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ أَعْرَابِيًّا عَرَضَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَسِيرِهِ فَأَخَذَ بِخِطَامِ نَاقَتِهِ أَوْ بِزِمَامِ نَاقَتِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْ يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي بِمَا يُقَرِّبُنِي مِنَ الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ قَالَ تَعْبُدُ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ وَتَصِلُ الرَّحِمَ
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدّو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی کی لگام پکڑ لی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی سفر میں تھے، اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یا اس نے کہا: اے محمد! مجھے ایسا عمل بتائیں جو مجھے جنت کے قریب کر دے اور آگ سے دور کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کر، اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرا، نماز قائم کر، زکوۃ ادا کر اور صلہ رحمی کر۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9060]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5983، ومسلم: 13، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23538 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23935»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5983
حدیث نمبر: 9061
عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ صَدَقَتُكَ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ وَعَلَى ذِي الْقُرْبَى الرَّحِمِ ثِنْتَانِ صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ
۔ سیدنا سلمان بن عامر ضَبّی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسکین پر صدقہ کرنے میں صرف صدقے کا ثواب ہوتا ہے اور رشتہ دار پر کرنے سے دو ثواب ہوتے ہیں، ایک صدقہ کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9061]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 2355، والترمذي: 658، وابن ماجه: 1844، والنسائي: 5/ 92، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17872 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18029»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 9062
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا إِنَّهُ مَنْ أُعْطِيَ مِنَ الرِّفْقِ فَقَدْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَصِلَةُ الرَّحِمِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ وَحُسْنُ الْجِوَارِ يَعْمُرَانِ الدِّيَارَ وَيَزِيدَانِ فِي الْأَعْمَارِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن کو فرمایا: جس کو نرمی عطا کی گئی، اُس کو دنیا و آخرت کی خیر و بھلائی سے نواز دیا گیا اور صلہ رحمی، حسنِ اخلاق اور پڑوسی سے اچھا سلوک کرنے (جیسے امورِ خیر) گھروں (اور قبیلوں) کو آباد کرتے ہیں اور عمروں میں اضافہ کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9062]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه مختصرا ابو يعلي: 4530، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25259 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25773»
وضاحت: فوائد: … عمر میں اضافہ ہونے کے دو مفاہیم ہیں: (۱)حقیقی طور پر عمر بڑھ جاتی ہے، جس کو اللہ تعالیٰ کی معلّق تقدیر سے تعبیر کیا جاتا ہے۔(۲) عمر کی مقدار میں اضافہ نہیں ہوتا، لیکن اس میں اتنی برکت پیدا ہو جاتی ہے اور صلہ رحمی کرنے والے کی زندگی کاہر پہلو فوائد سےیوں لبریز ہو جاتاہے کہ دوسرے لوگ جو کام لمبی لمبی عمروں میں سرانجام نہیں دے سکتے، یہ لوگ اپنی مختصر عمروں میں ان سے ہمکنار ہو جاتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح