🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. بَابُ الترغيب فِي الإِحْسَانِ إِلَى الْجَارِ
ہمسائے کے ساتھ احسان کرنے کی ترغیب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9070
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ اپنے مہمان کی عزت کرے، جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ اپنے ہمسائے کو تکلیف نہ دے اور جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ خیر و بھلائی والی بات کرے یا پھر خاموش رہے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9070]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6136، 6018، ومسلم: 47، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9967 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9968»
وضاحت: فوائد: … آج کے مفاد پرستانہ اور ابن الوقتی دور میں ہمسائیوں کے حقوق کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے، ان کے حقوق کی ادائیگی تو کجا، سرے سے ان کی شناخت ہی نہیں کی جاتی۔گلی کے ایک کونے میں صف ِ ماتم بچھی ہوتی ہے تو دوسرے کونے پہ شادی کی رسومات رقص کناں ہوتی ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ ہمسائے کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچائی جائے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6136
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9071
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ إِلَّا أَنَّ فِيهِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ بَدَلَ يَسْكُتْ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں لِیَسْکُتْ کی بجائے لِیَصْمُتْ کے الفاظ ہیں۔ (دونوں کا معنی ایک ہی ہے۔) [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9071]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، أخرجه البزار: 3575، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24404 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24908»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9072
عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُحْسِنْ إِلَى جَارِهِ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ
۔ سیدنا ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ، جن کو صحبت کا شرف حاصل ہوا تھا، سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ اپنے مہمان کی عزت کرے، جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ اپنے ہمسائے کے ساتھ احسان کرے اور جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ خیر و بھلائی والی بات کرے یا پھر خاموش رہے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9072]
تخریج الحدیث: «أخرجه بنحوه البخاري: 6019، 6476، ومسلم: 48، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16370 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16483»

الحكم على الحديث:
أخرجه بنحوه البخاري: 6019
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9073
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالُوا وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْجَارُ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ قَالُوا وَمَا بَوَائِقُهُ قَالَ شَرُّهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! وہ بندہ مؤمن نہیں ہے، اللہ کی قسم! وہ بندہ مؤمن نہیں ہے، اللہ کی قسم! وہ بندہ صاحب ایمان نہیں ہے۔ تین مرتبہ فرمایا، صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور وہ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص کہ جس کا ہمسایہ اس کے شر سے امن میں نہ ہو۔ انھوں نے کہا: بَوَائِق سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا شرّ۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9073]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الحاكم: 1/10، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7878 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7865»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9074
عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَتَّقِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلْيُكْرِمْ جَارَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَتَّقِ اللَّهَ وَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَتَّقِ اللَّهَ وَلْيَقُلْ حَقًّا أَوْ لِيَسْكُتْ
۔ کچھ صحابہ کرام بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ اپنے ہمسائے کی عزت کرے، جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور اپنے مہمان کا اکرام کرے اور جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو تووہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور خیر و بھلائی والی بات کرے یا پھر خاموش رہے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9074]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20285 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20551»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9075
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَيَزِيدُ قَالَ أَنَا هِشَامٌ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنِ الْأَنْصَارِيِّ (قَالَ يَزِيدُ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ) قَالَ خَرَجْتُ مِنْ أَهْلِي أُرِيدُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أَنَا بِهِ قَائِمٌ وَرَجُلٌ مَعَهُ مُقْبِلٌ عَلَيْهِ فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُمَا حَاجَةً قَالَ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ وَاللَّهِ لَقَدْ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَعَلْتُ أَرْثِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ قَامَ بِكَ الرَّجُلُ حَتَّى جَعَلْتُ أَرْثِي لَكَ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ قَالَ وَلَقَدْ رَأَيْتَهُ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَتَدْرِي مَنْ هُوَ قُلْتُ لَا قَالَ ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مَا زَالَ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَا إِنَّكَ لَوْ سَلَّمْتَ عَلَيْهِ رَدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ
۔ ایک انصاری آدمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ملنے کے ارادے سے اپنے گھر سے نکلا، پس جب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ ایک آدمی آپ پر متوجہ تھا، میں نے سمجھا کہ ان دونوں کی کوئی ضرورت ہو گی، اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنی دیر کھڑے رہے کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ترس آنے لگا، بہرحال جب وہ آدمی چلا گیا تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی نے آپ کو اتنی دیر کھڑے رکھا کہ مجھے تو آپ پر ترس آنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے اس کو دیکھا تھا؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو جانتا ہے کہ وہ کون تھا؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ جبریل علیہ السلام تھے، انھوں نے مجھے ہمسائے کے بارے اتنی وصیتیں کیں کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ یہ تو اس کو عنقریب وارث بھی بنانے لگے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو ان کو سلام کہتا تو وہ تیرے سلام کا جواب دیتے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9075]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20350 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20618»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9076
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا زَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام نے مجھے ہمسائے کے بارے میں اس قدر نصیحتیں کیں کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ یہ تو اس کو وارث بھی بنانے لگے ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9076]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6014، ومسلم: 2624، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24260 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24764»
وضاحت: فوائد: … میراث صرف قریبی رشتہ داروں کا حق ہوتا ہے، لیکن جب ہمسائیوں کے حقوق کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تاکید کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں لگا کہ یہ تو میراث کے بھی حقدار قرار پائیں گے۔
اللہ تعالیٰ کے حقوق کے ساتھ ساتھ بندوں کے بھی حق ہیں اور ان میں ہمسائیوں کے حقوق کو بھی کافی اہمیت حاصل ہے، لیکن اس دور کا مسلمان مکمل اسلام کو اپنانے کے لیے تیار نہیں ہے، ہر ایک اپنی ذات کے لیے چند اعمال کا تعین کر کے اسی کو کافی سمجھ بیٹھا ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6014
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9077
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا زَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ أَوْ قَالَ خَشِيتُ أَنْ يُوَرِّثَهُ
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام نے مجھے ہمسائے کے بارے میں اس قدر نصیحتیں کیں کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ یہ تو اس کو وارث بھی بنانے لگے ہیں۔ ایک روایت میں ہے: میں تو ڈرنے لگا کہ یہ تو اس کو وارث بھی قرار دینے لگے ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9077]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6015، ومسلم: 2625، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5577 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5577»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6015
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9078
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9078]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 5152، والترمذي: 1943، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6496 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6496»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9079
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس طرح کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9079]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 5152، والترمذي: 1943، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6496 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7514»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں