الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي النَّصِيحَةِ لِلْمُسْلِمِينَ بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي إِعَانَةِ الْمُسْلِمِ وَتَفْرِيحِ كَرْبِهِ وَقَضَاءِ حَاجَيْهِ وَمِثْرٍ عَوْرَتِهِ
مسلمانوں کی خیرخواہی کرنے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 9113
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ مَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي حَاجَتِهِ وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ بِهَا كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے، وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اس کو بے یارو مدد گار چھوڑتا ہے، جو آدمی اپنے بھائی کی ضرورت کو پورا کرنے کے درپے رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی حاجت کو پورا کرنے میں لگے رہتے ہیں، جس نے کسی مسلمان سے کوئی پریشانی دور کی، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی پریشانیوں میں سے ایک پریشانی دور کرے گا اور جس نے کسی مسلمان پر پردہ ڈالا، اللہ تعالیٰ روز قیامت اس پر پردہ ڈالے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9113]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2442، 6951، ومسلم: 2580، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5646 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5646»
وضاحت: فوائد: … لَا یُسْلِمُہ کے معانی ہیں: بے یارو مددگار چھوڑنا، دشمن کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا، کسی کے حوالے کر دینا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2442
حدیث نمبر: 9114
عَنْ سَلَّامِ بْنِ عَمْرٍو الْيَشْكُرِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِخْوَانُكُمْ أَحْسِنُوا إِلَيْهِمْ أَوْ فَأَصْلِحُوا إِلَيْهِمْ وَاسْتَعِينُوهُمْ عَلَى مَا غَلَبَكُمْ وَأَعِينُوهُمْ عَلَى مَا غَلَبَهُمْ
۔ ایک صحابی ٔ رسول بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے بھائیوں کے ساتھ احسان کرو اور جو چیز تم کو مغلوب کر دے، تم اس کے معاملے میں اپنے بھائیوں سے مدد طلب کرو اور جو چیز ان پر غالب آ جائے، تو اس کے معاملے میں ان کی مدد کرو۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9114]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه أبو يعلي: 920، والبخاري في الادب المفرد: 190، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23148 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23535»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 9115
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَاءَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ حَاجَتُهُمَا وَاحِدَةٌ فَتَكَلَّمَ أَحَدُهُمَا فَوَجَدَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِيهِ أَخْلَافًا فَقَالَ لَهُ أَلَا تَسْتَاكُ فَقَالَ إِنِّي لَأَفْعَلُ وَلَكِنِّي لَمْ أَطْعَمْ طَعَامًا مُنْذُ ثَلَاثٍ فَأَمَرَ بِهِ رَجُلًا فَآوَاهُ وَقَضَى لَهُ حَاجَتَهُ
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ دوآدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، ان کی ضرورت ایک ہی تھی، ان میں سے ایک نے جب گفتگو کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے منہ سے بد بو محسوس کی اور فرمایا: کیا تو مسواک نہیں کرتا؟ اس نے کہا: جی میں ضرور کرتاہوں، لیکن بات یہ ہے کہ میں نے تین دنوں سے کھانا نہیں کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا، پس وہ اس کو لے گیا اور اس کی ضرورت پوری کی۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9115]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، قابوس بن ابي ظبيان ليّن،يكتب حديثه ولا يحتج به، أخرجه الطبراني: 12611، والبيھقي: 1/ 39، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2409 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2409»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف